انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** عیادت کی فضیلت وآداب ،قریبُ المرگ اور اس سے متعلق سنتیں عیادت کی اہمیت وفضیلت اسلام میں مریض کی عیادت کو بڑی اہمیت اورفضیلت حاصل ہے، بیمار پرسی کرنا، مریض کو تسلی دینا اورہمدردی ظاہر کرنا اونچے درجے کا نیک عمل اور مقبول ترین عبادت ہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ سوسائٹی میں جذبۂ الفت اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حاجت مندوں کی معاونت کی جائے اور جو کام شہری زندگی کو سنوارتے ہیں وہ اللہ تعالی کو پسند ہیں اور عیادت رشتہ الفت پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے؛ اس لیے اس میں بڑا اجر و ثواب رکھا گیا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے: رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی قیامت کے دن (بیمار پرسی میں کوتاہی کرنے والوں سے) فرمائیں گے کہ: اے آدم کے بیٹے ! میں بیمار پڑا تھا، مگر تونے مجھے نہ پوچھا! بندہ عرض کرے گا اے میرے رب میں آپ کو کیسے پوچھتا؟ آپ تو جہانوں کے پالنہار ہیں؛ یعنی بیماری سے پاک ہیں ،اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تو نہیں جانتا تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار پڑا ؛لیکن تونے اسے نہ پوچھا، کیا تو نہیں جانتا تھا کہ اگر تو اس کی بیمار پرسی کرتا تو تومجھے اس کے پاس پاتا۱؎۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مومن بندہ جب اپنے صاحب ایمان بندے کی عیادت کرتا ہے تو واپس آنے تک وہ گویا جنت کے باغ میں ہوتا ہے۲؎۔ ترمذی میں اس طرح ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس بندے نے کسی مریض کی عیادت کی تو اللہ کا منادی آسمان سے پکارتا ہے کہ :تو مبارک اورعبادت کے لیے تیرا چلنا مبارک اور تونے یہ عمل کرکے جنت میں اپنا گھر بنالیا۳؎۔ بہرحال ہر مسلمان کا حق ہے کہ وہ اپنے بیمار بھائی کی عیادت کرے اوراسے لازم سمجھے۴؎۔ (۱)مسلم،باب فض عیادۃ المر یض،حدیث نمبر:۴۶۶۱۔ (۲)مسلم، باب فضل عیادۃ المریض، حدیث نمبر:۴۶۵۸۔ (۳)ترمذی، باب ماجاء فی زیارۃ الاخوان، حدیث نمبر:۱۹۳۱۔ (۴)بخاری، باب الامر باتباع الجنائز، حدیث نمبر:۱۱۶۴۔ غیر مسلم کی عیادت اسلام میں عیادت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس عمل کے لیے مسلم اورغیر مسلم کاامتیاز بھی باقی نہیں رکھا گیا؛ چنانچہ: حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ: ایک یہودی لڑکا رسول اللہ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، وہ بیمار ہوگیا تو آپ اس کی عیادت کے لیے اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے اوراس سے فرمایا: اللہ کا دین اسلام قبول کرلے اس نے اپنے والد کی طرف دیکھا جووہیں موجود تھے، اس نے لڑکے سے کہا: ابوالقاسم (ﷺ) کی بات مان لے اس لڑکے نے اسلام قبول کرلیا، رسول اللہﷺ باہر تشریف لائے اورفرمایا: حمد اس اللہ کی جس نے اس لڑکے کو جہنم سے نکال لیا۔ (بخاری، باب اذا اسلم الصبی فمات ھل یصلی علیہ ، حدیث نمبر:۱۲۶۸) عیادت کے آداب (۱)مریض کے پاس مناسب وقت میں جائیں اورمریض کے گھر میں نظروں کی حفاظت کریں۱؎۔ (۲) زیادہ دیر نہ بیٹھیں، جس سے اسے گرانی ہو ؛اگر کوئی مریض کسی سے بے تکلفی رکھتا ہے اور وہ اس کا خاص دوست و ہمدرد ہے تو وہ زیادہ دیر بیٹھ کر اسے تسلی پہنچانا چاہے تو پہنچا سکتا ہے۲؎۔ (۳)اس سے تسلی اور ہمدردی کی باتیں کریں۳؎۔ (۴)اگراسے تکلیف نہ ہوتواس کے پیشانی پر ہاتھ پھیریں۴؎ (۵)پہلے اس کا حال دریافت کریں جب وہ اپنے تکلیف بیان کردے تو اس کے سامنے "لَابَأسَ طُھُوْر إِنْ شَاءَ اللہ" کہیں،یعنی اس تکلیف سے آپ کا کوئی نقصان نہ ہوگا اورآپ کے لیے تکلیف انشاء اللہ آپ سے گناہوں سے پاک ہونے کا ذریعہ بنے گی۵؎ (۶)اس پر دعائے صحت پڑھ کر دم کرے۶؎ (۷)اس کے پاس ایسی کھانے کی چیز لے جائے جس کو وہ پسند کرتا ہو۷؎ (۸)مریض سے دعا کی درخواست کرے اس لیے کہ اس کی دعافرشتوں کی دعا کی طرح ہے۸؎۔ (۱)"عن عبد الله بن أبي الهُذيلِ قَال : دَخلَ عبدُ الله بن مسعود عَلى مَريضٍ يَعودُهُ ومَعَهُ قَومٌ ، وفِي البَيتِ امرأَةٌ ، فَجعلَ رجلٌ مِن القَومِ يَنظرُ إِلى المَرأةِ ، فَقال لَه عَبدُ الله: لَو انْفَقَأتْ عَينُكَ كَان خَيراً لَك " الادب المفرد بالتعلیقات،باب من كره للعائد أن ينظر إلى الفضول من البيت، حدیث نمبر:۵۳۱،جلدنمبر:۱/۱۲۶۔ (۲)"وعن ابن عباس قال : من السنة تخفيف الجلوس" مشکاۃ المصابیح، باب عیادۃ المریض و ثواب المریض،الفصل الثالث، حدیث نمبر:۱۵۸۹۔ (۳)"عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَى الْمَرِيضِ فَنَفِّسُوا لَهُ فِي أَجَلِهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا وَيُطَيِّبُ نَفْسَهُ" ترمذی، باب التداوی بالرماد، حدیث نمبر:۲۰۳۱۔ (۴)"عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّ أَبَاهَا ،قَالَ تَشَكَّيْتُ بِمَكَّةَ شَكْوًا شَدِيدًا فَجَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أَتْرُكُ مَالًا وَإِنِّي لَمْ أَتْرُكْ إِلَّا ابْنَةً وَاحِدَةً فَأُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي وَأَتْرُكُ الثُّلُثَ فَقَالَ لَا قُلْتُ فَأُوصِي بِالنِّصْفِ وَأَتْرُكُ النِّصْفَ قَالَ لَا قُلْتُ فَأُوصِي بِالثُّلُثِ وَأَتْرُكُ لَهَا الثُّلُثَيْنِ قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِي وَبَطْنِي ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ فَمَا زِلْتُ أَجِدُ بَرْدَهُ عَلَى كَبِدِي فِيمَا يُخَالُ إِلَيَّ حَتَّى السَّاعَةِ" بخاری،باب وضع الید علی المریض، حدیث نمبر:۵۲۲۷۔ (۵)"عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ،أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ" بخاری،باب عیادۃ الاعراب، حدیث نمبر:۵۲۲۴۔ (۶)"عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ،كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَااشْتَكَى مِنَّا إِنْسَانٌ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " مسلم،باب استحباب رقیۃ المریض، حدیث نمبر:۴۰۶۱۔ (۷)"عن سلمان : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من أطعم مريضا شهوته أطعمه الله عزوجل من ثمار الجنة " المعجم الکبیر،باب سھیل بن حنظلۃ، حدیث نمبر:۶۱۲۰، جلدنمبر:۶/۲۴۰۔ (۸)"عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ ،قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلْتَ عَلَى مَرِيضٍ فَمُرْهُ أَنْ يَدْعُوَ لَكَ فَإِنَّ دُعَاءَهُ كَدُعَاءِ الْمَلَائِكَةِ" سنن ابن ماجہ، باب ماجاء عیادۃ المریض،حدیث نمبر:۱۴۳۱۔ موت موت چونکہ کسی بھی وقت آسکتی ہے اوراس کا کوئی وقت معلوم نہیں؛ اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ کسی وقت بھی اس سے غافل نہ ہو، ہمیشہ اس کو یاد رکھے اورآخرت کے اس سفر کی تیاری کرتا رہے، موت تو طبعی طورپر کسی کے لیے بھی خوشگوار نہیں ہوتی ؛ لیکن اللہ تعالیٰ کے جن بندوں کو ایمان و یقین کی دولت نصیب ہے وہ موت کے بعد اللہ تعالی کے انعامات اورقرب خصوصی اورلذت دیدار پر نظر رکھتے ہوئے عقلی طورپر موت کے مشتاق ہوتے ہیں؛ جیسا کہ آنکھ پر نشتر لگوانا طبعی طورپر کسی کو بھی مرغوب اورگوارا نہیں ہوسکتا؛ لیکن اس امید پر کہ آپریشن سے آنکھ میں روشنی آجائے گی، عقلی طورپر وہ محبوب و مطلوب ہوتا ہے اورڈاکٹر کو فیس دیکر آنکھ پر نشتر لگوایا جاتا ہے؛ لیکن فرق بس اتنا ہے کہ آپریشن کے نتیجہ میں آنکھ کا صحیح ہوجانا قطعی اوریقینی نہیں ہے، آپریشن ناکام بھی ہوسکتا ہے ؛لیکن صاحب ایمان بندے کے لیے اللہ تعالی کے انعامات اوراس کا قرب اورلذت دیدار بالکل یقینی ہے ، اسی لحاظ سے اہل ایمان کے لیے موت محبوب ترین تحفہ ہے۔ موت کی تمنا بہت سے لوگ دنیا کی تنگیوں اورپریشانیوں سے گھبراکر موت کی آرزو اوردعا کرنے لگتے ہیں ،یہ بڑی بے عقلی ،کم ہمتی، بے صبری اورایمان کی کمزوری کی بات ہے، رسول اللہﷺ نے اس سے منع فرمایاہے: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے اگروہ نیکو کار ہے تو امید ہے کہ جب تک وہ زندہ رہے گا نیکیوں کے ذخیرے میں اضافہ ہوتا رہے گا اور اگراس کے اعمال خراب ہیں تو ہوسکتا ہے آئندہ زندگی میں وہ توبہ وغیرہ کے ذریعہ اللہ تعالی کو راضی کرلے۔ (بخاری، بَاب مَا يُكْرَهُ مِنْ التَّمَنِّي، حدیث نمبر:۶۶۹۴) ایک اور حدیث میں آیا ہے: حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی دکھ اورتکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا (اوردعا) نہ کرے اگر بالکل ہی لاچار مجبور ہو اوردعا کرنا ہی ہو تویوں دعا کرے کہ: "اَللّھُمَّ اَحیِنِی مَاکَانَتِ الحَیوۃُ خَيرًا لِی وَتُوَفَّنِی اِذَاکَانَتِ الوَفَاۃُ خَیرًالِی" (اے اللہ میرے لیے جب تک زندگی بہتر ہو اس وقت تک مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لیے موت بہتر ہو تواس وقت تو مجھے دنیا سے اٹھالے )۔ (بخاری، بَاب تَمَنِّي الْمَرِيضِ الْمَوْتَ، حدیث نمبر:۵۲۳۹) بیماری کفارۂ گناہ ہے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کے متعلق بتلایا کہ وہ فنا اور ختم ہوجانا نہیں ہے؛ بلکہ ایک دوسری زندگی کا ٓغاز اورایک دوسرے عالم کی طرف منتقل ہوجانا ہے ،جو اللہ کے ایمان والے بندوں کے لیےنہایت ہی خوشگوار ہوگا اور اس لحاظ سے وہ موت مومن کا تحفہ ہے "تحفۃ المومن الموت"۔ (شعب الایمان ،فصل فیما یقول العاطس فی جواب، حدیث نمبر:۹۵۳۵) اسی طرح آپ نے بتایا کہ بیماری بھی صرف دکھ اورمصیبت نہیں ہے؛ بلکہ ایک پہلو سے وہ رحمت ہے اوراس سے گناہوں کی صفائی ہوتی ہے اور اللہ کے سعادت مند بندوں کو چاہئے کہ بیماری اور دوسری تکلیفوں اورمصیبتوں کو خدائی تنبیہ سمجھتے ہوئے اپنی اصلاح کی فکر اور کوشش میں لگ جائیں۔ حدیث میں آیا ہے: حضرت ابو سعید خدریؓ رسول اللہﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: مؤمن کو جو بھی دکھ، بیماری، پریشانی، رنج وغم یااذیت پہنچتی ہے ؛یہاں تک کہ کانٹا بھی اگر اس کو چبھتا ہے تو اللہ تعالی ان چیزوں کے ذریعہ اس کے گناہوں کی صفائی کردیتا ہے۔ (بخاری، باب جاء فی کفارۃ المرض، حدیث نمبر:۵۲۱۰) اس کے علاوہ بہت ساری احادیث ہیں جن سے اللہ کے رسول کا مقصد اورپیغام ہی ہے کہ بیماریوں اور دوسری تکلیفوں اورپریشانیوں کو (جو اس دنیوی زندگی کا گویا لازمہ ہیں) صرف مصیبت اور اللہ تعالی کے غضب اورقہر کا ظہور ہی نہ سمجھنا چاہیے، اللہ سے صحیح تعلق رکھنے والے بندوں کے لیے ان میں بھی بڑا خیر اوررحمت کا بڑا سامان ہے،ان کے ذریعہ گناہوں کی صفائی اور تطہیر ہوتی ہے، اللہ تعالی کی خاص عنایات اور بلند درجات کا استحقاق حاصل ہوتا ہے، اعمال کی کمی کی کسرپوری ہوتی ہے اور ان کے ذریعہ سعادت مندوں کی تربیت ہوتی ہے۔ موت کے وقت کیا کریں؟ جب محسوس ہو کہ مریض بظاہر اچھا ہونے والا نہیں اور سفر آخرت ہے تو اس کو صبر کی تلقین کی جائے اورہمت سے کام لینے پر ابھاراجائے تاکہ اس کا ثواب ضائع نہ ہو اور وہ بے صبری کا مظاہرہ کرکے اللہ سے دور نہ ہوجائے ؛پھر اس کے دل کو اللہ کی طرف متوجہ کیا جائے اورکلمہ کی یاددہانی مناسب طریقہ پر کی جائے؛ اس لیے کہ حدیث میں آیا ہے: حضرت ابو سعید خدری اورحضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مرنے والوں کو کلمہ لا الہ اللہ کی تلقین کرو ۱؎۔ اس طرح جب مرنے کے آثار ظاہر ہونے لگیں تو اس مریض کے سامنے سورۂ یٰسبھی پڑھی جائے۲؎ یہ سورت دین وایمان سے متعلق بڑے اہم مضامین پر مشتمل ہے اور موت کے بعد جو کچھ ہونے والا ہے اس میں اس کا بڑا موثر اور تفصیلی بیان ہے اورمولانا محمدمنظور نعمانیؒ نے لکھا ہے کہ: اس کی آخری آیت: "فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ"۳؎۔ اس کی پاک ذات ہے جس کے ہاتھ میں ہرچیز کاپورا اختیار ہے اور تم سب کواسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۴؎۔ موت کے وقت کے لیے بہت ہی موزوں ہے۵؎۔ (۱)مسلم،بَاب تَلْقِينِ الْمَوْتَى لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، حدیث نمبر:۱۵۲۳۔ (۲)ابوداود،بَاب الْقِرَاءَةِ عِنْدَ الْمَيِّتِ،حدیث نمبر:۵۷۱۴۔ (۳)یٰس:۸۳۔ (۴)ترجمہ تھانویؒ۔ (۵)معارف الحدیث:۳/۲۷۰۔ مرنے کے بعد کیا کریں؟ جب کسی آدمی کا مرنے کا وقت قریب آجائے یا مرجائے تو اس کو داہنی کروٹ پر لٹا کر منھ قبلہ کی طرف کردو یا چت لٹا کر پاؤں قبلہ کی طرف کردو،۱؎ اور اس کے سب اعضاء درست کردو،دونوں ہاتھ سیدھے کرکے بازو میں رکھ دو، سینے پر مت رکھو اورایک کپڑا لیکر تھوڈی کے نیچے سے لیتے ہوئے اس کے سرپر باندھ دو ؛تاکہ منھ کھلانہ رہے ،آنکھیں بند کردو اور آنکھ بند کرتے وقت یہ دعا پڑھنا چاہیے: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لفلان وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيه"۲؎۔ (اے اللہ! فلاں (یہاں میت کا نام لے) کوبخش دے اور ہدایت والوں میں اس کا درجہ بلند کر اور اس کے باقی رہنے والے عزیزوں میں تواس کا نائب ہوجا اور ہماری اور اس کی بخشش فرما، اے عالموں کے پالنےوالے! اور ان کی قبر کو کشادہ فرما اوراس میں اس کے لیے روشنی کردے)۔ پھردونوں پیر کے انگوٹھے ملاکر باندھیں تاکہ ٹانگیں نہ پھیلیں؛ پھر اس پر چادر ڈالدیں۳؎۔ (۱)"عن عمیر: وَاسْتِحْلَالُ الْبَيْتِ الْحَرَامِ قِبْلَتِكُمْ أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا" سنن ابی داود، باب ماجاء فی التشدید فی اکل مال،حدیث نمبر:۲۴۹۰۔ "إضجاعه على جنبه الأيمن إلى القبلة، اتباعاً للسنة.... فإن تعذر ذلك لضيق المكان ونحوه يوضع مستلقياً على قفاه ووجهه وقدماه نحو القبلة؛ لأنه أيسر لخروج روحه" الفقہ الاسلامی وادلتہ، باب اضاعہ علی جنبہ الایمن الی القبلۃ،حدیث نمبر:۲/۵۹۶۔ (۲)"عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ فَقَالَ لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ" مسلم، باب فی اغماض المیت والدعاء لہ ، حدیث نمبر:۱۵۲۸۔ "وَلِأَنَّهُ إذَا لَمْ يُغَمَّضْ وَلَمْ يُشَدَّ لَحْيَاهُ يَصِيرُ كَرِيهَ الْمَنْظَرِ وَرُبَّمَا تَدْخُلُ الْهَوَامُّ عَيْنَيْهِ وَفَاهُ إذَا لَمْ يُفْعَلْ بِهِ ذَلِكَ" الجوہرۃ النیرۃ،باب الجنائز:۱/۳۹۸۔ (۳)"عن عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ان النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ سُجِّيَ بِبُرْدٍ حِبَرَةٍ"۔بخاری،باب البرود والحبرۃ والشملۃ، حدیث نمبر:۵۳۶۷،۔ اہلِ میت کیا کریں؟ (۱) میت کی جلد از جلد تجہیز وتکفین کی فکر کریں۱؎۔ (۲)اگر میت پر قرض ہو تو اس کو تجہیز و تکفین سے قبل ہی ادا کرنے کی کوشش کریں۲؎۔ (۳)کسی کی موت پراس کے اقارب اوراعزہ و متعلقین کا رنجیدہ و غمگین ہونا اوراس کے نتیجہ میں آنکھوں سے آنسو بہنا اور بے اختیار گریہ طاری ہونا بالکل فطری بات ہے؛ اس سے محبت اوردرد مندی کا اظہار ہوتا ہے؛ لیکن نوحہ و ماتم اور ارادی واختیاری طورپر بآواز بلند رونا پیٹنا بہت ہی ناپسندیدہ ہے اس لیے اس سے سختی کے ساتھ احتراز کریں ۳؎۔ (۴)اس کی وصیت پر عمل کریں۴؎(۵)اس کے ترکہ کو وارثین میں جلد از جلد تقسیم کردیں۵؎ (۶)دہم، چہلم ،برسی اوردیگر بدعات سے احتراز کریں۶؎(۷)میت کی خوبیاں اوراچھائیاں بیان کریں۷؎(۸)لوگوں کو موت کی خبر پہنچائیں۸؎۔ (۱)"عَنْ الْحُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَالَ إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا قَدْ حَدَثَ فِيهِ الْمَوْتُ فَآذِنُونِي بِهِ وَعَجِّلُوا فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِجِيفَةِ مُسْلِمٍ أَنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَهْلِهِ" ابوداؤد،باب التعجیل بالجنازۃ وکراھیۃ جبسھا، حدیث نمبر:۲۷۴۷۔ (۲)"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ" ترمذی،باب ماجاء عن النبی ﷺ نفس لمؤمن، حدیث نمبر:۹۹۸۔ (۳)"عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ فِي غَاشِيَةِ أَهْلِهِ فَقَالَ قَدْ قَضَى قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَبَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا فَقَالَ أَلَاتَسْمَعُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ أَوْيَرْحَمُ وَإِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" صحیح بخاری،بَاب الْبُكَاءِ عِنْدَ الْمَرِيضِ، حدیث نمبر:۱۲۲۱۔ (۴،۵)"إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا" النساء:۵۸۔ (۶)"عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ"بخاري، بَاب إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَى صُلْحِ جَوْرٍ فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ، حدیث نمبر:۲۴۹۹۔ "عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَعَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُولُ صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ وَيَقُولُ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ وَيَقْرُنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى وَيَقُولُ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ،، مسلم،باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ، حدیث نمبر:۱۴۳۵۔ "قال الطيبي فيه ان من أصر على أمر مندوب وجعل عزما ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الاضلال فكيف من أصر على بدعة أومنكر انتهى هذا محل تذكر للذين يصرون على الاجتماع في اليوم الثالث للميت"شرح ابن ماجہ،لعبدالغنی، فخرالحسن الدھلوی،باب الترجيع:۱/۶۶۔ (۷)"عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِﷺ قَالَ اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ وَكُفُّوا عَنْ مَسَاوِيهِمْ" ترمذی، باب آخربعد باب ماجاء فی قتلی احدوذکر حمرۃ، حدیث نمبر:۹۴۰۔ (۸)"وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يَعْلَمَ جِيرَانُهُ وَأَصْدِقَاؤُهُ بِمَوْتِهِ حَتَّى يُؤَدُّوا حَقَّهُ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَالدُّعَاءِ لَهُ" الجوھرۃ النیرۃ،باب باب الجنائز:۱/۳۹۹۔ "عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يَسْتَحْمِلُهُ فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُ مَا يَتَحَمَّلُهُ فَدَلَّهُ عَلَى آخَرَ فَحَمَلَهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ إِنَّ الدَّالَّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ" ترمذی،باب ماجاء الدال علی الخیر کفاعلہ، حدیث نمبر:۲۵۹۴۔ میت کے دیگر اعزاء واقارب اوردوست واحباب کیا کریں (۱)اہل میت کو تسلی دیں اورصبر کی تلقین کریں۱؎ (۲)اہل میت کے لیے کھانے پینے کا انتظام کریں۲؎۔ (۳)میت کی خوبیاں اوراچھائیاں بیاں کریں۳؎ (۴)لوگوں کو موت کی خبر پہنچائیں۴؎۔ (۱)"عن معاذ بن جبل : أنه مات ابن له فكتب اليه رسول اللهﷺ يعزيه بابنه فكتب اليه : بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله صلى الله عليه و سلم الى معاذ بن جبل سلام عليك فاني أحمد اليك الله الذي لااله الا هو اما بعد فأعظم الله لك الأجر وألهمك الصبر ورزقنا واياك الشكر فان انفسنا وأموالنا وأهلينا من مواهب الله الهنيئة وعواريه المستودعة يمتع بها الى أجل ويقبضها الى وقت معلوم وانا نسأله الشكر على ما أعطى والصبر اذا ابتلى وكان ابنك من مواهب الله الهنيئة وعواريه المستودعة متعك الله به في غبطة وسرور وقبضه منك بأجر كثير الصلاة والرحمة والهدى ان احتسبته فاصبر ولا يحبط جزعك أجرك فتندم واعلم أن الجزع لا يرد ميتا ولا يدفع حزنا وما هو نازل فكأن قد والسلام " المعجم الکبیر،معاذ بن جبل الانصاری عقبی بدری، حدیث نمبر:۳۲۴، جلدنمبر:۲۰/۱۵۵۔ (۲)"عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْنَعُوا لِأَهْلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَإِنَّهُ قَدْ جَاءَهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ"ترمذي، بَاب مَا جَاءَ فِي الطَّعَامِ يُصْنَعُ لِأَهْلِ الْمَيِّتِ، حدیث نمبر:۹۱۹۔ (۳)"عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ وَكُفُّوا عَنْ مَسَاوِيهِمْ" ترمذی،باب بعد باب ماجاء فی قتلی احد وذکر حمذہ،حدیث نمبر:۹۴۰۔ (۴)"وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يَعْلَمَ جِيرَانُهُ وَأَصْدِقَاؤُهُ بِمَوْتِهِ حَتَّى يُؤَدُّوا حَقَّهُ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَالدُّعَاءِ لَهُ" الجوہرۃ النیرۃ،باب الجنائز:۳/۹۹۔ "عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يَسْتَحْمِلُهُ فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُ مَا يَتَحَمَّلُهُ فَدَلَّهُ عَلَى آخَرَ فَحَمَلَهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ إِنَّ الدَّالَّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ" ترمذی،باب ماجاء علی الخیر کفاعلہ، حدیث نمبر:۲۵۹۴۔