انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** ابن زبیرؓ کا دعویٰ خلافت شامی وفد کی واپسی کے بعدابن زبیرؓ نے تہامہ اوراہل حجاز کو اپنی بیعت کی دعوت دی،حضرت عبداللہ بن عباسؓ اورمحمد بن حنفیہ کے علاوہ باقی اورتمام لوگوں نے بیعت کرلی ،بیعت لینے کے بعد انہوں نے یزید کے عمال کو مدینہ سے نکال دیا اوریہاں سے بنی امیہ کی حکومت اٹھ گئی ،یزید کو ان حالات کی خبر ہوئی تو اس نے مسلم بن عقبہ مری کو ایک فوج گراں کے ساتھ حجاز روانہ کیا اورہدایت کردی کہ پہلے اہل مدینہ کی تادیب کی جائے انہوں نے بھی مکہ والوں کی طرح اپنے یہاں سے اموی عمال کو نکال دیا تھا اورمدینہ سے فراغت کے بعد پھر مکہ میں ابن زبیرؓ کا مقابلہ کیا جائے؛چنانچہ اس ہدایت کے مطابق مسلم پہلے مدینہ آیا، یہاں کے باشندے پہلے سے مقابلہ کے لئے تیار تھے،دونوں میں نہایت پرزور مقابلہ ہوا، لیکن اہل مدینہ حکومت کی طاقت کی تاب نہ لاسکے اورشکست کھاگئے،اس معرکہ میں بہت سے انصاری شہید ہوئے اورشامی فوج تین شبانہ روز تک نہایت بیدردی کے ساتھ مدینۃ الرسول کو لوٹتی رہی اوریہاں کے باشندوں کو بیدریغ قتل کرتی رہی،پھر باشندگان مدینہ سے بزور شمشیر یزید کی بیعت لے کر مکہ روانہ ہوئی۔