انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** ابوطالب کی کفالت ابو طالب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بچوں سے بڑھ کر عزیز رکھتے اورکبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیتے تھے حتی کہ رات کے وقت بھی اپنے پاس ہی سُلاتے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طفولیت کا زمانہ عرب کے دوسرے لڑکوں کی نسبت بہت ہی عجیب گذرا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لڑکوں میں کھیلنے اورآوارہ پھرنے کا مطلق شوق نہ تھا؛بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی صحبت سے بیزار اور دور ونفورہی رہتے اورخلوت کو زیادہ پسند کرتے تھے،اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند نوجوانانِ قریش کے ساتھ کسی شادی کی مجلس میں جانے اورشریک ہونے کے لئے مجبور کئے گئے جہاں رقص و سر ورکا ہنگامہ بھی تھا جو ں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں داخل ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یکا یک نیند آگئی، تمام رات اسی طرح سوتے رہے یہاں تک کہ رات ختم ہونے پر مجلس برخاست ہوئی اور لوگ منتشر ہوگئے تب کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھلی اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکروہات مجلس میں کوئی حصہ نہ لے سکے۔ آپ کی عمر غالباً سات برس کی تھی قریش مکہ نے خانہ کعبہ کی تعمیر جس کو سیلاب نے نقصان پہنچادیا تھا دوبارہ شروع کی اس تعمیر کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پتھر ڈھوتے اوراٹھا اٹھا کر معماروں کو دیتے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہ بند باندھ رکھا تھا جو چلنے پھرنے اور پتھر اُٹھا کر لے جانے میں کسی قدر دقت پیدا کرتا تھا؛چونکہ سات برس کی عمر کے بچے کا ننگا پھرنا وہ لوگ کچھ معیوب نہ جانتے تھے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباسؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تہ بند کی دقت سے آزاد کرنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کہے بغیر تیہ بند کا سرا پکڑ کر جھٹکا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ننگا کردیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر شرم وحیا رکھتے تھے کہ ننگے ہوتے ہی بیہوش ہوگئے اورلوگوں کے سامنے اپنے ننگے ہونے کو برداشت نہ کرسکے،سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس شرم وحیا کے معلوم ہونے سے تعجب ہوا اورفوراً تہ بند باندھ دیا گیا۔