انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** چوتھا الزام (۴)چوتھا اہم الزام یہ ہے کہ انہوں نے بعض اکابر صحابہ کو قتل کیا اوربہتوں کی توہین وتذلیل کی۔ لیکن یہ الزام بھی اپنے مفہوم کی صحت کے لحاظ سے لایعنی ہے،اکابر صحابہ کی بڑی جماعت ان دونوں کے اختلاف کے پہلے ہی واصل بحق ہوچکی تھی،اکابر صحابہ میں اس وقت جو بزرگ باقی رہ گئے تھے ان میں سے بہتر ے آنحضرتﷺ کے اس فرمان کے خوف سے کہ اگر دو مسلمان لڑیں، تو دونوں جہنمی ہیں، خانہ نشین ہوگئے تھے اورحضرت علیؓ اورمعاویہؓ کسی کے ساتھ شریک نہ ہوئے۔ چنانچہ عشرہ مبشرہ میں حضرت سعدبن ابی وقاصؓ شروع سے آخرتک جس قدر خانہ جنگیاں ہوئیں، کسی میں بھی شریک نہ ہوئے، حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد حضرت علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلی،لیکن جب حضرت علیؓ جنگ جمل کے لئے روانہ ہوئے اور لوگوں نے ان کو ساتھ چلنے کی دعوت دی تو ان کے لڑکے عمرو بن سعد نے ان سے کہا کہ آپ کو یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ آپ جنگل میں اونٹ چرائیں اورلوگ بادشاہت اورحکومت کے لئے اپنی اپنی قسمت آزمائیں، حضرت سعدؓ نے ان کے سینہ پر ہاتھ مار کر فرمایا ،خاموش !میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ خدا خاموش اور پرہیز گار بندہ کو محبوب رکھتا ہے (الریاض المنفرہ فی مناقب العشرہ:۲۰۰) پھر جنگ صفین میں امیر معاویہؓ نے ان کو ملاناچاہا، لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ (اسد الغابہ:۲/۳۹۲) حضرت طلحہؓ اورزبیرؓ دونوں عشرہ مبشرہ میں تھے اورجنگِ جمل کے ہیروتھے،لیکن آغاز جنگ کے بعد میدان سے نکل آئے اوربد بختوں نے ان کی واپسی سے ناجائز فائدہ اٹھا کر شہید کردیا۔ (مستدرک حاکم:۳،مناقب طلحہؓ وزبیرؓ) حضرت عبداللہ بن عمرؓ جو اپنے فضل وکمال اورزہد وورع کے لحاظ سے اپنے عہد میں اپنی مثال نہ رکھتے تھے، جنگ جمل وصفین کسی میں بھی شریک نہ ہوئے ؛لیکن چونکہ حضرت علیؓ کو حق پر سمجھتے تھے،اس لئے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی، مگر آپ سے یہ شرط کرلی تھی کہ وہ جنگ میں ساتھ نہ دیں گے اورجناب امیر نے انہیں اس کی اجازت بھی دے دی تھی۔ (مستدرک حاکم:۳/۵۵۸) حضرت اسامہ بن زیدؓ جن کو آنحضرتﷺ کے ساتھ قرب واختصاص کی وجہ سے رکن اہل بیت ہونے کی حیثیت حاصل تھی،جنگ صفین سے بالکل کنارہ کش رہے اورحضرت علیؓ کے پاس کہلا بھیجا کہ اگر آپ شیر کی ڈاڑھ میں گھستے تو بھی میں آپ کے ساتھ گھس جاتا لیکن اس معاملہ میں حصہ لینا پسند نہیں کرتا۔ (بخاری:۲/۱۰۵۳) حضرت احنف بن قیسؓ جب حضرت علیؓ کی امداد کے لئے آرہے تھے تو اتفاق سے حضرت ابوبکرہؓ سے ملاقات ہوگئی، انہوں نے ان کو روکا اورکہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ دو مسلمان آپس میں لڑیں تو دونوں جہنمی ہیں۔ (بخاری کتاب الایمان،باب العاصی من امر اجاہلیہ) حضرت عمران بن حسینؓ جن کا شمار فضلا اورفقہائے صحابہ میں تھا خانہ جنگی میں حصہ لینا پسند نہ کرتے تھے۔ (ابن اثیرر:۳/۱۹۷ واستیعاب:۲/۴۶۸) جب جنگ صفین کے لئے حضرت علیؓ نے تیاریاں شروع کیں اورمنبر پر چڑھ کر لوگوں کو شرکتِ جنگ پر آمادہ کرنا شروع کیا تو بہت سے لوگ آمادہ ہوگئے لیکن عبداللہ بن مسعودؓ کے ساتھیوں اورسو قاریوں نے کہا، امیر المومنین ہم کو آپ کے فضائل کا اعتراف ہے،لیکن اس قتال میں ہمیں شک ہے (یعنی اس جنگ میں شرکت جائز ہے یا ناجائز ،اس لئے ہمیں اس میں شریک کرنے کے بجائے حفاظت کے لئے سرحدوں کا والی بنادیجئے۔ اس جواب پر آپ نے پھر کوئی اصرار نہیں کیا اور ان کی مرضی کے مطابق قزائن ورئے وغیرہ کی سرحدوں پر مامور کردیا۔ (اخبار الطوال:۱۷۵) بعض صحابہ ایسے بھی تھے جو شریک تو ہوگئے تھے،مگر چونکہ دل سے مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنا برا سمجھتے تھے، اس لئے آخر تک مذبذب رہے اور اسی تذبذب کی وجہ سے وہ شرکت کے باوجود میدان جنگ میں ناکام رہے؛چنانچہ حضرت سہیلؓ بن حنیف جنگِ صفین میں حضرت علیؓ کے ساتھ تھے،لیکن لوگ ان پر جنگ سے پہلو تہی کا الزام لگاتے تھے ؛چنانچہ جب یہ صفین سے لوٹے اورلوگ ان سے حالات پوچھنے آئے تو انہوں نے اپنی صفائی پیش کی اورکہا کہ ہم نے جب کبھی کسی مہم کے لئے کندھے پر تلوار رکھی توخدانے آسان کردی، لیکن یہ جنگ ایسی ہے کہ جب ہم مشک کا ایک منہ بند کرتے ہیں تو دوسرا کھل جاتا ہے۔ (بخاری کتاب المغازی باب غزوہ حدیبیہ) ان واقعات کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ محتاط صحابہ کی بڑی جماعت ان خانہ جنگیوں میں شریک ہی نہ تھی، تاہم اس سے انکار نہیں کہ بہت سے صحابہ شریک بھی تھے؛لیکن یہ شرکت کسی ایک فریق کے ساتھ مخصوص نہیں تھی، سوال صرف کثرت وقلت کا تھا اورجب دونوں طرف صحابہ تھے تو تنہا ایک فریق پر قتل صحابہ کا الزام رکھنا کس طرح صحیح ہے اور پھر جب دو حریف میدان میں آتے ہیں تو دونوں ایک دوسرے کےخون کے پیاسے ہوتے ہیں، اس لئے اس وقت رتبہ کا سوال نہیں رہ جاتا، کہ فلاں آدمی کو مارنا چاہیے کہ وہ عامی ہے اورفلاں کو نہ مارنا چاہیے کہ وہ صحابی ہے، جنگ میں یہ تمام فرق و امتیازات اٹھ جاتے ہیں۔ اس الزام کا دوسرا ٹکڑا بھی کہ امیر معاویہؓ نے صحابہ کے ساتھ ناروا سلوک کیا، صحیح نہیں، مطلقاً صحابہ کا تو سوال الگ ہے، خود ان صحابہ کے ساتھ جو حضرت علیؓ کے ساتھ تھے امیر معاویہؓ کا کوئی نازیبا سلوک نہیں بتا یا جاسکتا ہے، خود بنو ہاشم جو تمام تر حضرت علیؓ کے ساتھ تھے، اوربہت سے اکابر قریش جو کم از کم امیر معاویہؓ کے مخالف تھے ان کے ساتھ امیر معاویہؓ کے حسن سلوک کے واقعات اوپر گزر چکے ہیں کہ وہ ان کی تلخ سے تلخ باتیں سنتے تھے اور پی جاتے تھے ؛بلکہ اس کے جواب میں انہیں ہدایا و تحائف دیتے تھے اوران کی امداد کرتے تھے صحابہ کی جو جماعت صفین میں حضرت علیؓ کے ساتھ تھی ان میں زیادہ تر انصاری تھے اس لئے فطرت کا تقاضا یہ تھا کہ امیر معاویہؓ اپنے زمانہ حکومت میں انصار سے اس کا بدلہ لیتے یا کم از کم ان کے ساتھ جو برائی کرسکتے تھے ، لیکن ایک مثال بھی انصار کے ساتھ بد سلوکی نہیں ملتی ؛بلکہ اس کے برعکس وہ ان کی سختیاں برادشت کرتے تھے اورمسلوک ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے ایک انصار کے پاس پانسو دینار بھیجے، ان بزرگ نے اس کو کم سمجھا اوراپنے لڑکے کو قسم دلا کر کہا کہ اس کو لیجا کر معاویہ کے منہ پر کھینچ کے مارو اور واپس کردو؛چنانچہ یہ تھیلی لے کر امیر معاویہؓ کے پاس آئے اورکہا امیر المومنین میرے والد بڑے تند مزاج ہیں، انہوں نے قسم کھا کر مجھے ایسا حکم دیا ہے اب میں اس حکم کی کس طرح مخالفت کروں؟ امیر معاویہؓ نے اپنے چہرہ پر ہاتھ رکھ کرکے کہا کہ بیٹے اپنے باپ کا حکم پورا کرو، لیکن اپنے چچا کے ساتھ نرمی کرنا، یعنی زور سے کھینچ نہ مارنا، لڑکا یہ حلم دیکھ کر شرماگیا، اورتھیلی وہیں پھینک دی اس کے بعد امیر معاویہؓ نے رقم دونی کرکے پھر دوبارہ ان انصاری بزرگ کے پاس بھیجوائی یزید کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو وہ بھر اہوا آیا اورکہا کہ آپ کا حلم اب اتنا بڑھتا جاتا ہے کہ کمزوری اوربزدلی بنجانے کا خوف ہے،انہوں نے جواب دیا کہ صاحبزادے حلم کی وجہ سے کبھی ندامت اورذلت نہیں اٹھا نی پڑتی ،تم اپنے طرز پر ہو، لیکن مجھے میرے رائے پر چھوڑ دو (الفخری:۱۹۶۷) علامہ ابن طقطقی لکھتے ہیں کہ معاویہؓ پر حلم غالب تھا اوراسی کی وجہ سے ان مہاجر وانصار کے لڑکوں کی گردنیں جو اپنے کو معاویہ سے زیادہ خلافت کا مستحق سمجھتے تھے، ان کے سامنے جھک گئی تھیں۔ (ایضا:۹۶،۹۷) ایک مرتبہ امیر معاویہؓ مدینہ گئے ،حضرت ابو قتادہؓ سے ملاقات ہوئی،امیر نے ان سےپوچھا کہ تمام اہل مدینہ مجھ سے ملے،مگر انصار نہیں ملے،انہوں نے جواب دیا، سواری نہ تھی معاویہؓ نے پوچھا کیوں؟ سواریاں کیا ہوئیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ بدر کے دن تمہاری اورتمہارے باپ کی تلاش میں فنا ہوگئیں ،پھر کہا رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں سے فرمایا تھا کہ تم لوگ ہمارے بعد ترجیح دیکھو گے ،معاویہؓ نے پوچھا، پھر ایسی حالت میں تمہیں کسی چیز کا حکم دیا تھا، بولے فرمایا تھا، صبر کرنا، معاویہؓ نے کہا اچھا صبر کرو۔ اکثر صحابہ ان کو ان کی لغزشوں پر ٹوکتے تھے اور سرزنش کرتے تھے لیکن انہوں نے کبھی ان کو کوئی سخت جواب نہیں دیا؛بلکہ ہمیشہ اپنی کمزوری دور کرنے کی کوشش کی ایک مرتبہ حضرت مقدامؓ بن معدیکر ب،عمروبن اسود اوربنی اسد کا ایک آدمی تینوں ان کے پاس وفد کی صورت میں آئے، مقدام نے کہا معاویہ میں چند باتیں کہنا چاہتا ہوں، اگر سچ ہوں تو ماننا اورجھوٹ ہوں تو رد کردینا، انہوں نے کہا فرمائیے مقدامؓ نے کہا میں تم سے خدا کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں کہ کیا آنحضرتﷺ نے حریر پہننے سے منع نہیں کیا؟ کہا ہاں پوچھا میں تم کو قسم دلا کر پوچھتا ہوں تم نے آنحضرتﷺ سے سونے کے استعمال کی ممانعت نہیں سنی؟ کہا ہاں پوچھا میں تمہیں قسم دیکر پوچھتا ہوں کہ آنحضرتﷺ نے درندوں کی کھال پہننے اور اس کے بچھانے سے منع نہیں فرمایا؟ کہا ہاں؟ مقدامؓ نے کہا،معاویہ خدا کی قسم میں یہ تمام چیزیں تمہارے گھر میں دیکھتا ہوں اس پر امیر معاویہؓ نے کہا مقدام مجھ کو یقین ہے کہ میری تمہارے سامنے پیش نہ چلے گی اوران کو ان کے دونوں ہمراہیوں سے زیادہ صلہ دیا۔ ایک مرتبہ حضرت ابو مریمؓ ازوی نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ خدا جس شخص کو مسلمانوں کا والی بنائے اگر وہ ان کی حاجتوں سے آنکھ بند کرکے پردہ میں بیٹھ جائے تو خدا بھی قیامت کے دن اس کی حاجتوں کے سامنے پردہ ڈال دیگا، امیر معاویہؓ پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ لوگوں کی حاجت برآری کے لئے ایک مستقل آدمی مقرر کردیا۔ غرض اس قسم کے اور بہت سے واقعات ہیں جن سے صحابہ کے مقابلہ میں امیر معاویہؓ کے ضبط وتحمل کا پورا ثبوت ملتا ہے،صحابہ کے مقابلہ میں امیر معاویہؓ کا تحمل تاریخی مسلمات میں ہے جس سے کوئی تاریخ دان انکار کرہی نہیں سکتا، تمام مورخین اس پر متفق ہیں کہ امیر معاویہؓ حددرجہ حلیم و برد بار تھے، ان تاریخی حقائق کے بعد امیر معاویہؓ پر صحابہ کے ساتھ ناروا سلوک کا الزام لگانا کہاں تک صحیح ہے،بہت ممکن ہے بعض مثالیں اس قسم کی بھی مل جائیں، لیکن ایک دو مثالوں سے عام حکم نہیں لگ سکتا اوراگر صرف ایک دو مثالوں سے حکم لگایا جاسکتا ہے تو پھر ان واقعات کے متعلق کیا فتویٰ دیا جائے گا: حضرت ابو موسیٰ اشعری جو اپنے مرتبہ کے لحاظ سے صحابہ کی صف میں ممتاز شخصیت رکھتے تھے، جنگ جمل کے زمانہ میں آنحضرتﷺ کا یہ فرمان سناتے پھرتے تھے کہ لوگو! فتنہ کے زمانہ میں سونے والا کھڑے ہونے والے سے اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہے، جب حضرت حسنؓ اہل کوفہ کو حضرت علیؓ کی امداد واعانت پر آمادہ کرنے کے لئے آئے اور ابو موسیٰؓ کو منبر پر یہ وعظ کہتے سنا تو ان کو مسجد سے نکال دیا،اسی طرح حضرت طلحہؓ اورزبیرؓ کے ساتھ جنہیں عشرہ مبشرہ ہونے کا فخر حاصل تھا جناب امیر کا طرز عمل پسندیدہ نہ تھا۔