انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** جنات سے متعلق معجزات بتوں کے پیٹ سے گواہی کی آواز بخاری میں حضرت عمر ؓروایت بیان فرماتے ہیں کہ ایک دن میں بتوں کے پاس موجود تھا،ایک بت پرست اور بتوں کے پجاری نے ایک بچھڑا بتوں پر چڑھاکر ذبح کیا، اسی دوران اچانک ایک بت کے پیٹ سے ان الفاظ کے ساتھ یہ آواز نکلی:یا جلج امر نجیح رجل فصیح یقول لا الہ الااللہ،اے قوی انسان ایک کام کی بات یہ ہے کہ ایک فصیح شخص کہتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ حضرت عمر کا بیان ہے کہ لوگ یہ چیخ سن کر ڈرسے بھاگ گئے؛لیکن میں آواز کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے رکا رہا دوسری مرتبہ بھی یہی آواز نکلی چنانچہ تھووڑی مدت کے بعد محمدﷺ کی بابت یہ خبر سنی کہ یہ نبی ہیں اور لاالہ الااللہ کی تعلیم دیتے ہیں بت کے پیٹ میں معجزہ جنات سے تعلق رکھتا ہے۔ ابونعیم اور ابن عساکر نے قبیلہ بنی خشعم کے ایک شخص سے روایت کی ہے کہ عرب حرام وحلال کی پہچان نہیں رکھتے تھے، بتوں کو پوجتے تھے او رجب آپس میں کوئی اختلاف ہوتا تو بتوں سے جاکر حال بیان کرتے اوربتوں کے پیٹ سےجو آواز آتی تھی اس پر عمل کرتے، بنی خشعم کے اس آدمی نے ایک واقعہ بیان کیا کہ ہم آپس میں ایک مرتبہ جھگڑا کرکے فیصلہ کے لیے بتوں کے پاس گئے اور جاکر چڑھاوا چڑھایا اور اس بت کے پاس بیٹھے رہے، اچانک اس بت کے پیٹ سے آواز آئی تم پتھروں سے فیصلہ چاہتے ہو یہ کتنی بےوقوفی کی بات ہے یہ پیغمبر تمام انسانو ں کے سردار ہیں اور تمام حاکموں میں یہ سب سے زیادہ منصف اور انصاف والے ہیں ،یہ نور اور اسلام کو نمایاں کرکے لوگوں کو گناہوں سے بچاتےہیں ،بنی خشعم کا وہ شخص کہتا ہے کہ یہ سن کر ہم ڈر سے بھاگے اور ہر مجلس میں اسی قصہ کا چرچا رہا کچھ دنوں کے بعد ہم کو خبر ملی کہ آنحضورﷺ مکہ میں پیدا ہوئے اور مدینہ منورہ ہجرت فرمائی، یہ خبر پاتے ہی ہم سب مسلمان ہوگئے۔ بیہقی نے روایت کی ہ ے کہ ایک شخص مازن ملک شام کے ایک شہر عمان میں بتوں کی نگرانی وخدمت پر مقرر تھا مازن کا بیان ہے کہ بتوں میں ایک بت کا نام تاجر تھا ایک دن اس بت پر چڑھانے کےلیے ایک جانور ذبح کیا اس وقت اس بت کے شکم سے اس طرح کے اشعار کی آواز آئی جن کا مطلب یہ تھا: اے مازن! میرے پاس آ !میں تجھے ضروری بات بتاؤں، یہ خدا کے پیغمبر ہیں، یہ خدا کا بھیجا ہوا پیغام برحق لائے ہیں تو ان پر ایمان لا تاکہ اس آگ کی گرمی سے تجھے نجات ملے جو سخت شعلوں والی ہے، اس آگ میں لکڑیوں کے بجائے پتھر جلائے جاتے ہیں، مازن کا بیان ہے کہ یہ آواز سن کر مجھے حیرت ہوئی، پھر دوسرے دن بھی ایک جانور ذبح کرکے چڑھایا تو اس بت کے پیٹ میں سے پھر آواز آئی یہ اشعار ان اشعار سے زیادہ واضح تھے ان کا مطلب یہ تھا اے مازن سن اور خوش ہوجا کہ نیکی ظاہر ہوگئی برائی چھپ گئی قوم مضر سے اللہ کا دین لےکر ایک نبی پیدا ہوا ہے تو پتھر کی مورتیوں کو پوجنا ترک کردے دزخ کی آگ سے نجات پائےگا۔ مازن کا بیان ہے کہ اسی وقت سے میں اس ہی کی تلاش میں بے چین تھا، اچانک ایک قافلہ حجاز سے آیا میں نے وہاں کے حالات پوچھے قافلے والوں نے بتایا کہ مکہ میں ایک شخص پیدا ہوئے ہیں انکا نام احمد ہے وہ اپنے کو خدا کا بھیجا ہوا نبی بتاتے ہیں ، میں نے سمجھ لیا کہ بت کے شکم سے ان ہی کے متعلق آواز آئی تھی اور اشعار سنائی دیتے تھے ؛چنانچہ میں نے سواری کا انتظام کیا اور سامان سفر تیار کرکے روانہ ہوگیا وہاں پہنچ کر حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگیا اور اسلام قبول کرلیا ، آنحضورﷺ نے پوچھا کہ تمہارا اور بھی کوئی مقصد ہے میں نے کہا اللہ کے رسول میرے تین مقصد اور بھی ہیں، اول یہ کہ مجھے گانے بجانے اور زنا کاری کا شوق ہے، دوم یہ کہ ہمارے ملک میں زبردست قحط ہے، سوم یہ کہ میرے کوئی اولاد نہیں ہے ،مجھے اولاد کی تمنا ہے، آپ ان تینوں سے نجات کے لیے دعا فرمایے آنحضورﷺ نے دعا فرمائی کے اے اللہ گانے بجانے کے بجائے اس کو قرآن کی تلاوت کا شوق اور قرآن پڑھنے کی توفیق دے، بازاری اور حرامکار عورتوں کے بجائے اس کو حلال عورتیں اور اس کو شرم وحیا عطا کر اور اس کو اولاد بھی عطا فرما ،مازن کا بیان ہے کہ آپ کی دعا کی برکت سے ہمارا ملک سر سبز وشاداب ہوا میرے عیب دور ہوگئے ا ور چار حسین عورتیں میرے نکاح میں آئیں اور حبان جیسا نیک اور لائق لڑکا خدا نے مجھے دیا۔ بزار،ابونعیم اور ابن سعد نے جبیر بن مطعم سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کی بعثت سے پہلے ہم موضع بوانہ میں ایک بت کے پاس بیٹھے تھے ہم نے بت پر ایک اونٹ ذبح کرکے چڑھایا اچانک بت کے شکم سے اس طرح کی آواز آئی کہ خبر دار ہوشیار ہوجا ؤ بڑی تعجب خیز او رحیرت ناک بات ہے پہلے آسمانی خبروں کو جن چرالایا کرتے تھے ؛لیکن اب ان کی یہ چوری ختم ہوگئی ؛ کیونکہ خدا کی وحی اترنے لگی ، اب چرانے والے جنوں پر انگاروں کی مار پڑتی ہے؛ کیونکہ مکہ میں احمد نام کے ایک نبی برحق پیدا ہوئے ہیں وہ (یثرب)مدینہ کی طرف ہجرت کریں گے، جبیر کہتے ہیں کہ ہم سخت تعجب کرتے ہوئے وہاں سے اٹھے اور اس واقعہ کے چند ہی روز بعد محمدﷺ کی نبوت کا چرچا ہوگیا۔ ابونعیم ابن جریر اور طبرانی وغیرہ نے بہت سی سندوں سے عربوں کے ایک بڑے سردار عباس بن مرواس سے روایت کی ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے اپنی موت کے وقت وصیت کی جب تمہیں کوئی سخت مصیبت پہنچے تو ضمار نامی بت کی پوجا کرکے اپنی حاجت روائی چاہنا ،اتفاق کی بات ہے کہ ایک دن میں اپنے رفقاء کے ساتھ ایک جنگل میں شکارکوگیا ،دوپہر کے وقت آرام کے لیے میں اور میرے سب ساتھی ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گئے، اچانک یہ منظر میں نے دیکھا کے سفید روئی کے گالے کی طرح ایک شتر مرغ ہوا پرسے اترا اس شتر مرغ پرا یک بوڑھاآدمی سفید کپڑے پہنے ہوئے نظر آیا، اس مرد پیر نے مجھ سے کہا کہ عبداللہ بن مرواس تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ آسمان کو اب چوکیداروں کی حفاظت حاصل ہے زمین پر لڑائی چل گئی گھوڑے لڑائی کےلیے تیار ہوچکے، نیکی کا راستہ کھل آیا ہے وہ پیر کے دن پیدا ہوا ہے اس کے پاس قصوا نامی ایک اونٹنی ہے۔ عباس بن مرواس ؓ کہتے ہیں کہ میں یہ دیکھ کر ڈرگیااور پریشانی کے عالم میں باپ کے بتائے ہوئے بت ضمار کے پاس گیا اس کی طرف منہ کرکے بیٹھ گیا؛تاکہ میری پریشانی دور ہو، اچانک اس بت کے پیٹ سےچند اشعار کی آواز آئی ان کا مطلب یہ تھا سلیم کے تمام قبیلوں سے کہہ دو کے بت خانہ والے تباہ ہوگئے مسجدوں والے زندہ ہوگئے ،ضمار بھی ہلاک ہوا اس کی لوگ پوجا کرتے تھے ؛لیکن محمدﷺ کے نبی ہونےاور ان پر کتاب نازل ہونے کے بعد بتوں کی پوجا ختم ہوگئی یہ نبی عیسی بن مریم کے بعد نبوت کے وارث ہوئے یہ خاندان قریش سےتعلق رکھتے ہیں اور صحیح راہ پر گامزن ہیں۔ عباس بن مرواس کہتے ہیں کہ میں نے یہ قصہ لوگوں سے چھپایا اور کسی سے ذکرنہ کیا،ان ہی دنوں جب کفار مکہ حضرت محمدﷺ سے جنگ احزاب لڑکر واپس ہورہے تھے میں مقام عقیق کی طرف اونٹ خریدنے گیا تھا اچانک سخت آواز آسمان سے آئی ،میں نے سر اٹھاکر دیکھاوہی پہلا بوڑھاسفید کپڑے پہنےہوئے شتر مرغ پر سوار نظر آیا وہ کہہ رہا تھا کہ:نور پیر کے روز منگل کی شب میں ظاہر ہوا ہے بہت جلد اپنی اونٹنی قصوا پر سوار ہوکر ملک نجد پہنچےگا ،حضرت عباس بن مرواسؓ کا بیان ہے کہ اسی وقت سے میرے دل میں اسلام کی محبت وعقیدت جم گئی۔ ابن سعد اور ابو نعیم کی روایت میں سعید بن عمرو ہذلی بیان کرتے ہیں کہ میرے باپ نے ایک بت پر ایک بکری ذبح کرکے چڑھائی،اچانک اس کے پیٹ میں سےچند اشعار کی آوازآئی جن کا مطلب یہ تھا کہ تعجب خیز بات یہی ہوئی ہے کہ عبدالمطلب کی اولاد سے ایک ایسے نبی پیدا ہوئے ہیں جو زناکاری اور بتوں کے نام پر نذر ونیاز کو حرام کہتے ہیں ان کے آنے کےبعد آسمانوں کی حفاظت ہونے لگی اب ہم ستاروں سے مار بھگائے جاتے ہیں، حضرت سعید کا بیان ہے کہ میرا باپ آواز سن کر مکہ آگیا، کسی نے پیغمبر کا پتہ نہ دیا، جب حضرت ابو بکر ؓسے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ہاں ہمارے یہاں اللہ کے پیغمبر بھیجے گئے ہیں تم ان پر ایمان لےآؤ۔