انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** مکہ کو واپسی نخلہ سے روانہ ہوکر آپ کوہ حرا پر تشریف لائے اوریہاں مقیم ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض سردارانِ قریش کے نام پیغام بھیجا، مگر کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ضمانت اورپناہ میں لینے کے لئے تیار نہ ہوا، مطعم بن عدی کے پاس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچا تو وہ بھی اگرچہ مشرک اورکافر تھا مگر عربی شرافت اورقوی حمیت کے جذبہ سے متاثر ہوکر فوراً اٹھ کھڑا ہوا اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدھا کوہ حرا پر پہنچ کر اور آپ کو اپنے ہمراہ لے کر مکہ میں آیا،مطعم کے بیٹے ننگی تلواریں لے کر خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوگئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اس کے بعد مطعم اوراس کے بیٹوں نے ننگی تلواروں کے سائے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر تک پہنچادیا،قریش نے مطعم سے پوچھا کہ تم کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا واسطہ ہے؟ مطعم نے جواب دیا کہ مجھ کو واسطہ تو کچھ نہیں لیکن میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حمایتی ہوں، جب تک وہ میری حمایت میں ہیں کوئی نظر بھر کر ان کو نہیں دیکھ سکتا،مطعم کی یہ ہمت اور حمایت دیکھ کر قریش کچھ خاموش سے ہو کر رہ گئے،ایک روایت میں ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں اُس مذکورہ بالا حالت میں تھے تو ایک فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اورکہا کہ اگر آپ حکم دیں تو میں پہاڑ اٹھا کر اہلِ طائف پر ڈال دوں یہ سب کے سب فنا ہوجائیں گے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں،ہرگز نہیں مجھے امید ہے کہ اگر یہ لوگ اسلام نہ لائے تو ان کی اولاد ضرورخادمِ اسلام بنے گی اور ان کی آئندہ نسلیں سب مسلمان ہوں گی،میں ان کی ہلاکت کو پسند نہیں کرتا۔