انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت حیل بن جابر نام ونسب حسیل نام،باپ کا نام جابر تھا، نسب نامہ یہ ہے حسیل بن جابر بن یمان بن حارث بن قطیعہ بن عبس بن بغیض عبسی، حسیل اپنے دادا یمان کے نام سے مشہور ہیں، یمان ان کے دادا کا عرفی نام تھا، اصل نام جروہ تھا، یمان کی شہرت کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے قبیلہ میں ایک خون کیا تھا اور بھاگ کر مدینہ آگئے تھے اوربنی عبدالاشہل کے حلیف ہوگئے تھے چونکہ یمنی تھے اس لیے ان کے حلیف انہیں یمانی کہنے لگے۔ اسلام وغزوات آنحضرتﷺ کے مدینہ آنے کے بعد ہی شرفِ اسلام سے مشرف ہوئے بدر کے موقعہ پر حسیل اوران کے صاحبزادے حذیفہ اس میں شرکت کے لیے آرہے تھے،سوئے اتفاق سے کفار قریش کے ہاتھوں پڑگئے،ان لوگوں نے کہا تم دونوں محمد کے پاس جارہے ہو، انہوں نے کہا نہیں ہم مدینہ جارہے ہیں، قریشیوں نے کہا، اچھا خدا کو درمیان میں دیکر عہد کرو کہ جنگ میں شریک نہ ہوگے اورمدینہ جاکر لوٹ آؤ گے،چونکہ اس وقت قریش کے پنجہ میں تھے، اس لیے عہد کرلیا اور مدینہ آکر آنحضرت ﷺ کو اس کی اطلاع دی، آپ نے فرمایا،لوٹ جاؤ اورعہد پورا کرو۔ شہادت بدر کے بعد احد کا معرکہ ہوا حسیل اس میں شریک ہوئے، لیکن بہت ضعیف ہوچکے تھے لڑنے کی طاقت نہ تھی، اس لیے یہ اورایک دوسرے ضعیف العمر بزرگ حضرت ثابت ؓبن وقش عورتوں اور بچوں کے ساتھ تھے، لیکن اس ضعیف پیری میں بھی جوش جہاد نے گوشہ میں نہ بیٹھنے دیا اور ایک نے دوسرے سے کہا کہ اب ہم کو کس چیز کا انتظار ہے،خدا کی قسم ہماری عمر ہی کتنی باقی ہے، آج نہ مرے تو کل مرنا ہے، چلو تلوار سنبھال کر رسول اللہ ﷺ کے پاس چلیں شاید خدا خلعت شہادت سے سرفراز فرمائے؛چنانچہ دونوں بزرگ تلواریں لیکر میدان کارزار میں پہنچے،ثابت بن وقش کو مشرکین نے شہید کردیا، حسیل کو مسلمانوں نے نہ پہچانا اورغلطی سے تلواریں لیکر ٹوٹ پڑے ان کے لڑکے نے پہچان کر ، میرے والد، میرے والد، کی صدا لگائی، لیکن حسیل کا کام تمام ہوچکا تھا، اس طرح شہادت کی تمنا پوری ہوگئی ،ان کے بیٹے حذیفہ نے دعا کی کہ خدا غلطی سے قتل کرنے والوں کو معاف کرے وہ بڑا رحمت والا ہے،آنحضرتﷺ نے دیت دینی چاہی لیکن حذیفہ ؓ کی حمیت نے اسے لینا گوارا نہ کیا اورمسلمانوں پر صدقہ کردیا۔ (سیرت ابن ہشام:۱/۴۶۳، حاکم نےمناقب میں یہ واقعہ خفیف تغیر کے ساتھ لکھا ہے)