انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** کوفہ اب تک جس قدر حالات بیان ہوچکے ہیں ان سب کے مطالعے سے کوفہ اور اہلِ کوفہ کی نسبت قلب میں عجیب عجیب قسم کے خیالات پیدا ہوجاتے ہیں اور کوفہ روئے زمین کی ایک عجیب محیرالعقول بستی نظر آنے لگتی ہے، عبداللہ بن سبا اور ہرایک سازشی گروہ کوکوفہ میں کامیابی ہوئی، اہلِ کوفہ ہی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قتل میں پیش تھے، اہلِ کوفہ ہی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سب سے زیادہ فدائی وشیدائی نظر آتے تھے؛ پھراہلِ کوفہ ہی نے سب سے زیادہ حضرت کرم اللہ وجہہ کوپریشان کیا اور وہی ان کی بہت سی ناکامیوں کا باعث بنے، اہلِ کوفہ ہی نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کوآزار پہنچایا؛ پھراہلِ کوفہ ہی خونِ علی رضی اللہ عنہ کے مطالبہ اور خلافتِ حسین رضی اللہ عنہ کے لیے آمادہ ہوئے، اہلِ کوفہ ہی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا باعث بنے اور انہوں ہی نے بڑی بے دردی سے کربلا کے میدان میں اُن کوقتل کرایا، اس کے بعد اہلِ کوفہ ہی نے خونِ حسین رضی اللہ عنہ کا معاوضہ لینے پرسب سے زیادہ آمادگی واستادگی اختیار کی اور حیرت انگیز طور پراپنی محبت کا ثبوت پیش کیا؛ پھراہلِ کوفہ ہی تھے جنھوں نے اہلِ بیت کے سب سے بڑے حامی مختار بن عبیدہ کے خلاف کوشش کی اور مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کوکوفہ پرحملہ آور کراکر مختار کوقتل کرایا، اس کے بعد اہلِ کوفہ ہی تھے جومصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کے قتل کا باعث ہوئے، اہلِ کوفہ نے اپنی انتہائی شجاعت اور حیرت انگز بہادریوں کے نمونے بھی دکھائے اور ساتھ ہی ان کی انتہائی بزدلی ونامردی کے واقعات بھی ہم مطالعہ کرچکے ہیں، کبھی انھوں نے اپنے آپ کونہایت بے جگری کے ساتھ قتل کرایا اور کوفہ کے حاکموں کی علی الاعلان مخالفت کی؛ لیکن کبھی اس طرح مرعوب وخوف زدہ ہوئے کہ عبیداللہ بن زیاد وغیرہ کوفہ کے ہرایک جابرانہ حکم کی تعمیل بلاچون وچرا کرنے لگے۔ اس قسم کی متضاد کیفیت کا سبب دریافت کرنے کے لیے ہم کوکوفہ کے باشندوں کی حالت وحقیقت سے آگاہ ہونے کی کوشش کرنی چاہیے، فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں کوفہ ان لوگوں کی چھاؤنی بنائی گئی تھی جومجوسی سلطنت کے مقابلے میں برسرِپیکار تھے، اس فوج میں ایک حصہ ان لوگوں کا تھا جوحجاز ویمن اور حضرِموت وغیرہ کے رہنے والے تھے، یہ لوگ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے اعلانِ عام پرمدینہ منورہ میں آکر جمع ہوئے اور ان کے حکم کے موافق عراق کی طرف بھیج دیئے گئے تھے، کچھ لوگ ایسے تھے جوعرب کے ان صوبوں کے باشندے تھے جوعراق کی سرحد پرواقع اور بمقابلہ مدینہ کے کوفہ یابصرہ کے قریب ترتھے، یہ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے ہاتھ پرمسلمان ہوہوکر اسلامی لشکر میں شریک ہوگئے تھے اور مدینہ منورہ سے کوئی خصوصی تعلق ان کوحاصل نہ ہوسکا تھا، نہ انہوں نے کبھی مدینہ دیکھا تھا، کچھ لوگ ایسے تھے کہ ان کی زبان توعربی تھی مگروہ مجوسی سلطنت کی رعایا تھے اور اب مسلمان ہوکر اور مسلمانوں کے طرزِ حکومت کوبہتر پاکر دل سے مسلمانوں کے حامی ہوگئے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ مل کرایرانیوں سے لڑتے تھے، کچھ وہ سردار تھے جومدینہ کے رہنے والے مہاجرین وانصار میں سے تھے، جب اس لشکر کی چھاؤنی کوفہ قرار پائی اور خلیفہ وقت کا نائب اور عراقی لشکر کا سپہ سالار کوفہ سے تعلقات قائم رکھنے پرمجبور کیا اور ایرانیوں کی بھی ایک جماعت کوفہ میں رہنے لگی، عرب کے ریگستانوں کی زاہدانہ زندگی کے مقابلے میں کسریٰ ونوشیرواں اور کیکاؤس وخسرو کے ملکوں کوفتح کرنے والے لشکریوں کی فاتحانہ وحاکمانہ زندگی جوکوفہ میں بسر ہوئی تھی، یقیناً بہت خوشگوار ہوگئی، مالِ غنیمت کی فراوانی بھی ضرور محرک ہوئی ہوگی۔ لہٰذا اس عطرِ مجموعہ لشکر کا اکثروبیشتر حصہ کوفہ ہی میں زمیں گیرہوکر رہ گیا اور کوفہ نہ صرف ایک فوجی چھاؤنی اور عارضی قرار گاہ رہا؛ بلکہ بہت جلد ایک عظیم الشان شہر بن گیا اور بالآخر اس نے دارالسلطنت اور دارالخلافہ کی صورت اختیار کرلی، اس شہر کی آبادی میں چونکہ فوجیوں کا بڑا عنصر شامل تھا اور علم وتعلم ودرس وتدریس اور تہذیب اخلاق وتہذیب نفس کے سامان بہت ہی کم تھے؛ لہٰذا مجموعی طور پرشہر کا مزاج متلون اور اخلاقی حالت متغیر رہی، ظاہر ہے کہ ایسی بستی میں علوم ومعقولات اور فہم وتدبر کوتلاش نہیں کیا جاسکتا؛ لیکن جذبات سے خوب کام لیا جاسکتا ہے؛ چنانچہ اہلِ کوفہ ہمیشہ جذبات کے محکوم ومغلوب رہے اور انہوں نے جوکچھ کیا جذبات سے مغلوب ومتاثر ہوکر ہی کیا ،یہی وجہ تھی کہ جس شخص نے ان کومشتعل کرنا چاہا، مشتعل کردیا، جس شخص نے اُن کورضامند کرنا چاہا وہ رضامند ہوگئے، جب کبھی ان ڈرایا گیا وہ ڈرگئے، جب کبھی ان کوکسی کا مخالف بنایا گیا وہ فوراً مخالفت پرآمادہ ہوگئے، جب ان کوبہادر بنایا گیا وہ بہادر ہوگئے، جب ان کوبے وفائی پرآمادہ کیا گیا وہ بے وفا بن گئے اور جب وفاداری یاد دلائی تووہ وفاداری کے شرائط پورے کرنے لگے۔ کوفہ کے اندر جذبات تھے، دماغ نہ تھا، جوش تھا مگرعقل نہ تھی، خروش تھا مگرغور وفکر کا سکون نہ تھا؛ ایسی حالت میں کوفہ سے انہیں باتوں کی توقع ہوسکتی تھی، جوظہور میں آئیں، جب چند نسلیں گذر گئیں اور زمانے کے حوادث نے اس مختلف الاجزا مجموعے کوکیمیاوی امتزاج سے ایک خاص مزاج دے دیا توپھر کوفہ کی یہ متلون مزاجی بھی رفتہ رفتہ دور ہوگئی۔