انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
کافر کی روح اور اس پرعذاب قبر کا مسئلہ جوں ہی انسان کی موت واقع ہوتی ہے، اس کی روح نکل جاتی ہے؛ بلکہ موت نام ہی روح نکلنے کا ہے، نیکوں کی روح عِلِّیّیْن میں اور بروں کی سِجِّیْن میں چلی جاتی ہے؛ پھرانسان کی لاش دفن کردی جائے یاجلادی جائے، یاسمندر میں ڈال دی جائے، یاریزہ ریزہ کردی جائے، یایوں ہی محفوظ کردی جائے، ہرحالت میں اس پرعالم برزخ شروع ہوجاتا ہے، عالم برزخ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت سے روح اور جسم کے درمیان ایک نادیدہ اور اَن دیکھا تعلق قائم رہتا ہے، دُنیا میں اس کا ادراک نہیں کیا جاسکتا؛ لیکن آج کل تمثیلات سے اس کوسمجھا جاسکتا ہے، غور کیجئے کہ ٹی وی اسٹیشن اور ٹی،وی کے درمیان یاریڈیو اسٹیشن اور ریڈیو کے درمیان کوئی محسوس رابطہ نہیں؛ لیکن برقی لہروں کی مدد سے ایک جگہ کے مناظر دوسری جگہ نہایت سہولت سے دیکھے جاسکتے ہیں، جب انسان ایسی ایجادات کووجود میں لاسکتا ہے؛ توخالقِ کائنات کے لئے روح اور جسم کے ذرات کے درمیان رابطہ استوار کرنا کیا دشوار ہے؟ روح اور جسم کے اسی رابطہ کی وجہ سے راحت وکلفت اور ثواب وعذاب کا احساس ہوتا ہے؛ اس لئے ایسا نہیں ہے کہ لاش جلادینے کی وجہ سے انسان اللہ کی گرفت کے دائرہ سے باہر نکل آئے۔ (کتاب الفتاویٰ:۳/۲۳۸،کتب خانہ نعیمیہ، دیوبند)