انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** مدینہ میں ماتم حضرت حسنؓ کی رحلت معمولی واقعہ نہ تھا ؛بلکہ صلح ومسالمت کا ماتم تھا حلم وعفو کا ماتم تھا،صبر وتحمل کا ماتم تھا، استغناء وبے نیازی کا ماتم تھا، خاندانِ نبوت کے چشم وچراغ کا ماتم تھا، اس لئے آپ کی وفات پر مدینہ میں گھر گھر صفِ ماتم بچھ گئی،بازار بند ہوگئے گلیوں میں سناٹا چھاگیا، بنی ہاشم کی عورتوں نے ایک مہینہ تک سوگ منایا ،حضرت ابوہریرہؓ مسجد میں فریادوفغاں کرتے تھے اورپکار پکار کر کہتے تھے کہ لوگو! آج خوب رولو کہ رسول اللہ ﷺ کا محبوب دنیا سے اٹھ گیا۔ (تہذیب التہذیب :۲/۳۰۱) جنازہ میں انسانوں کا اتنا ہجوم تھا کہ اس سے پہلے مدینہ میں کم دیکھنے میں آیا تھا،ثعلبہ بن ابی مالک جو مٹی میں شریک تھے راوی ہیں کہ حضرت حسنؓ کے جنازہ میں اتنا اژدحام تھا کہ اگر سوئی جیسی مہین چیز بھی پھینکی جاتی تو کثرت اژدحام سے زمین پر نہ گرتی۔ (تہذیب الکمال:۸۹)