انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
عورت کے لیے صرف بال کی جڑ میں پانی پہنچانا ضروری ہے یا ہربال کا ترہونا بھی ضروری ہے؟ سرکے بال دھونا فرض ہے، اس کے بغیر غسل نہیں ہوگا؛ بلکہ اگر ایک بال بھی سوکھا رہ گیا تو غسل ادا نہیں ہوگا، پرانے زمانے میں عورتیں سرگوندھ لیا کرتی تھیں؛ ایسی عورت جس کے بال گندھے ہوئے ہوں اس کے لیے یہ حکم ہے کہ اگروہ اپنی مینڈھیاں نہ کھولے اور پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچالے تو غسل ہو جائےگا؛ لیکن اگر سر کے بال کھلے ہوئے ہوں؛ جیسا کہ آج کل عام طور پر عورتیں رکھتی ہیں تو پورے بالوں کا تر کرنا غسل میں فرض ہے، اس کے بغیر عورت پاک نہیں ہوگی اور مرد کے لیے بہرصورت پورے بالوں کا ترکرنا غسل کا فرض ہے۔ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند:۱/۱۵۳، مکتبہ دارالعلوم دیوبند، یوپی۔ آپ کے مسائل اور اُن کا حل:۲/۵۱، کتب خانہ نعیمیہ، دیوبند)