انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** فاعتبر وایا اولی الابصار اللہ اللہ یہ بھی نیرنگی دہر اورانقلاب زمانہ کا کیسا عجیب اورکیسا عبرتناک منظر ہے کہ جس کے نانا کے گھر کی پاسبانی ملائکہ کرتے تھے،آج اس کا نواسہ بے برگ ونوا بے یار و مددگار کربلا کے دشت غربت میں کھڑا ہے اور روئے زمین پر خدا کے علاوہ اس کا کوئی حامی و مددگار نہیں، غزوہ بدر میں جس کے نانا کی حفاظت کے لئے آسمان سے فرشتے اترے تھے، آج اس کے نواسہ کو ایک انسان بھی محافظ نہیں ملتا ایک وہ وقت تھا کہ رسول اللہ ﷺ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے تھے،دشمنان اسلام کی ساری قوتیں پاش پاش ہوچکی تھیں، رحمتِ عالمﷺ کے دامنِ عفو وکرم کے علاوہ ان کے لئے کوئی جائے پناہ باقی نہ رہ گئی تھی، اسلام اورمسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ابو سفیان جنہوں آنحضرتﷺ اورمسلمانوں کے ساتھ بعض وعداوت اوردشمنی اورکینہ توزی کا کوئی دقیقہ اٹھانہیں رکھا تھا، بے بس ولاچار دربارِ رسالت میں حاضر کئے گئے تھے،ایک طرف ان کے جرائم کی طویل فہرست تھی،دوسری طرف رحمۃ للعالمین کی شانِ رحمت وکرم ،تاریخ کو معلوم ہے کہ سرکار رسالتﷺ سے اس سنگین اوراشتہاری مجرم کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا تھا، قتل کی دفعہ عائد نہیں کی گئی، جلاوطنی کی سزا تجویز نہیں ہوئی، قید خانہ کی چار دیواری میں بند نہیں کیا گیا؛ بلکہ"من دخل دارابی سفیان فھو امن"جو شخص ابو سفیان کے گھر میں چلا جائے اس کا جان و مال محفوظ ہے، کے اعلان کرم سے نہ صرف تنہا ابو سفیان کی جان بخشی فرمائی گئی ؛بلکہ ان کے گھر کو جس میں بارہا مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہوچکی تھیں، آنحضرتﷺ کے قتل کے مشورے ہوچکے تھے "دارالامن بناکر وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین" کی عملی تفسیر فرمائی گئی، ایک طرف یہ رحمت، یہ عفو وکرم اوریہ درگذر تھا،دوسری طرف ٹھیک باون برس کے بعد زمانہ کا رخ بدلتا ہے اورایک دوسرا منظر پیش کرتا ہے، ایک طرف ان ہی ابوسفیان کے پوتے (عبید اللہ بن زیاد) کی طاغوتی طاقتیں ہیں، اوردوسری طرف رحمۃ للعالمینﷺ کی ستم رسیدہ اولاد ہے، نبوت کا ساراکنبہ ابو سفیان کی ذریات کے ہاتھوں تہِ تیغ ہوچکا ہے کر بلا کا میدان اہل بیت کے خون سے لالہ زار بنا ہوا ہے،جگر گوشۂ رسول کی آنکھوں کے سامنے گھر بھر کی لاشیں تڑپ رہی ہیں، اعزہ کے قتل پر آنکھیں کون بار ہیں، بھائیوں کی شہادت پر سینہ وقف ماتم ہے، جواں مرگ لڑکوں اوربھتیجوں کی موت پر دل فگار ہے ؛لیکن اس حالت میں بھی وحوش وطیور تک کے لئے امان ہے، لیکن جگر گوشۂ رسولﷺ کے لئے امان نہیں اورآج وہی تلواریں جو فتح مکہ میں مفتوحانہ ٹوٹ چکی تھیں، وشت کربلا میں نوجوانانِ اہل بیت کا خون پی کر بھی سیر نہیں ہوئیں اور حسینؓ کے خون کی پیاس میں زبانیں چاٹتی ہیں،لیکن پیکر صبر و قرار حسین اس حالت میں بھی راضی برضا ہیں اوراس بے بسی میں بھی جادہ مستقیم سے پاؤں نہیں ڈگمگاتے ،سنا ہوگا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے شروع شروع میں اسلام کی دعوت شروع کی تو کفارِ مکہ آپ کے چچا ابو طالب کے پاس ،جو آپ کے کفیل تھے، آئے اورکہا تمہارا بھتیجا ہمارے معبودوں کی توہین کرتا ہے ہمارے آبا واجداد کو گمراہ کہتا ہے ہم کو احمق ٹھہراتا ہےاس لئے یا تم بیچ سے ہٹ جاؤ یا تم بھی میدان میں آؤ کہ ہم دونوں میں سے ایک کا فیصلہ ہوجائے، اس پر ابو طالب نے آنحضرتﷺ کو سمجھایا کہ جان عم میرے اوپر اتنا بار نہ ڈال کہ میں اٹھا نہ سکوں، آنحضرتﷺ کے ظاہری پشت و پناہ جو کچھ تھے، ابو طالب تھے،آنحضرتﷺ نے ان کے پائے ثبات میں لغزش دیکھی تو آبدیدہ ہوکر فرمایا، خدا کی قسم اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں آفتاب اوردوسرے ہاتھ میں ماہتاب لاکر رکھ دیں تب بھی میں اپنے فرض سے باز نہ آٓؤں گایا خدا اس کام کو پورا کریگا یا میں خود اس پر سے نثار ہوجاؤں گا۔ (ابن ہشام:۱/۱۳۹) اس جواب کے بعد آنحضرتﷺ پھر بدستور دعوتِ اسلام میں مصروف ہوگئے اور قریش نے اس کے جواب میں آپ کو سخت سے سخت اذیتیں پہنچانا شروع کیں، لیکن اس راہ کے کانٹے آپ کے لئے پھول تھے، اس لئے یہ تکلیفیں بھی آپ کو دعوتِ اسلام سے نہ روک سکیں قریش نے اپنی محدود نظر کے مطابق قیاس کیا تھا کہ محمدﷺ کو نام ونمود اور جاہ وحشم کی خواہش ہے؛چنانچہ ان کا ایک نمائندہ عتبہ بن ربیعہ ان کی طرف سے آنحضرتﷺ کے پاس آیا اورکہا محمد کیا چاہتے ہو، کیا مکہ کی ریاست ؟ کیا کسی بڑے گھرانے میں شادی؟ کیا دولت کا ذخیرہ؟ ہم یہ سب کچھ تمہارے لئے مہیا کرسکتے ہیں اوراس پر بھی راضی ہیں کہ مکہ تمہارے زیر فرمان ہو جائے ؛لیکن تم ان باتوں سے باز آجاؤ، لیکن ان سب ترغیبات کے جواب میں آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ (فصلت:۹) اے محمد ان لوگوں سے کہدو کہ تم لوگ خدا کا انکار کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین پیدا کی اوراس کا مقابل ٹھہراتے ہو، یہ خدا سارے جہاں کا پروردگار ہے۔ آج باون برس کے بعد حضرت حسینؓ پھر اسی اسوۂ نبویﷺ کو زندہ کرتے ہیں اور امت مسلمہ کو حق وصداقت ،عزم ، استقلال اورایثار وقربانی کا سبق دیتے ہیں اور نا انصاف حدود اللہ اورسنتِ رسول اللہ کو پامال کرنے والی، خلق خدا کو اپنی ظالمانہ حکومت کا نشانہ بنانے والی اورمحرمات الہی کو رسوا کرنے والی حکومت کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اور ببانگ دہل اعلان فرماتے ہیں کہ لوگو! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس نے ظالم محرماتِ الہی کو حلال کرنے والے خدا کے عہد کو توڑنے والے سنتِ رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرنے والے ،خدا کے بندوں پر گناہ اور زیادتی کے ساتھ حکومت کرنے والے بادشاہ کو دیکھا اور قولاً وعملاً اس کو بدلنے کی کوشش نہ کی تو خدا کو حق ہے کہ اس شخص کو اس ظالم بادشاہ کی جگہ دوزخ میں داخل کرے ،آگاہ ہوجاؤ ان لوگوں نے شیطان کی حکومت قبول کی ہے اوررحمن کی اطاعت چھوڑ دی ہے،ملک میں فساد پھیلایا ہے، حدود اللہ کو بے کار کردیا ہے،مال غنیمت میں اپنا حصہ زیادہ لیتے ہیں،خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کردیا ہے اورحلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کردیا ہے، اس لئے مجھے اس کے بدلنے کا حق ہے۔ (ابن اثیر:۴/۴۰) آج بھی حق وصداقت کی اس آواز کو خاموش کرنے کے لئے یہ ترغیب دلائی جاتی ہے کہ حسینؓ تم اپنے بنی عم (یزید) کی اطاعت قبول کرلو، جو کچھ تم چاہتے ہو، اس کو وہ پورا کریں گے اوران کی جانب سے تمہارے ساتھ کوئی ناروا سلوک نہ ہوگا، لیکن حضرت حسینؓ جواب دیتے ہیں کہ خد ا کی قسم میں ذلیل آدمی کی طرح ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر غلام کی طرح اقرار نہ کروں گا، یہ جواب دے کر یہ آیت تلاوت فرماتے ہیں: وَإِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ أَنْ تَرْجُمُونِ (الدخان:۲۰) میں نے اپنے اور تمہارے رب سے پناہ مانگی ہے کہ تم مجھے سنگسار کرو إِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ مِنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ (غافر:۲۷) میں اپنے اور تمہارے رب سے ہر مغرور متکبر سے جو یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا پناہ مانگتا ہوں۔ کہ آنحضرتﷺ کے ارشاد "ترکت فیکم الثقلین کتاب اللہ واھل بیتی"کا یہی مقصد تھا۔