انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت عبداللہ بن سہیلؓ نام ونسب عبداللہ نام،ابوسہیل کنیت،سلسلہ نسب یہ ہے عبداللہ بن سہیل بن عمروابن عبد شمس بن عبدِودبن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لوی،ماں کا نام فاختہ تھا، نانہالی سلسلہ نسب یہ ہے،فاختہ بنت عامر بن نوفل بن عبدمناف بن قصی۔ (ابن سعد،جز۳،ق۱:۲۵۵) اسلام وہجرت دعوت اسلام کے ابتدائی زمانہ میں مشرف باسلام ہوئے،ہجرت ثانیہ میں مہاجرین کے قافلہ کے ساتھ ہجرت کرکے حبشہ گئے۔ (اسد الغابہ:۳/۱۸۰) مکہ کی واپسی حبشہ سے مکہ واپس آئے،ان کے باپ تبدیل مذہب پر بہت غضبناک تھے، اس لیے قابو پانے کے بعد قید کرکے ارتداد پر مجبور کرنا شروع کردیا،(اسد الغابہ:۳/۱۸۰)انہوں نے مصلحت وقت کے خیال سے بظاہر ان کا کہنا مان لیا؛لیکن دل میں بدستور اسلام کی محبت قائم رہی۔ غزوات ہجرت عظمیٰ کے بعد مشرکین مکہ بڑے اہتمام سے مسلمانوں کا استیصال کرنے نکلے ،عبداللہ ؓ بھی اپنے والد کے ساتھ مشرکین کے گروہ میں تھے،والد مطمئن تھے کہ اطاعت شعار بیٹا کہنے میں آگیا، یہ نہ معلوم تھا کہ مذہب کی چنگاریاں اندر ہی اندر سلگ رہی ہیں جو موقع پاتے ہی بھڑک اٹھیں گی؛چنانچہ جب جنگ کی تیاریاں شروع ہوئی تو عبداللہ ؓ موقع پاکر نکل گئے اوراسلامی فوج میں آکرشامل ہوگئے،اس وقت والد پر حقیقت حال واضح ہوئی؛لیکن اب تیر کمان سے نکل چکا تھا، اس لیے خاموش رہے اور عبداللہ باطمینان مشرکین کے مقابلہ میں نبرد آزما ہوئے۔ (ابن سعد جزء۳،ق۱:۲۹۵) اس کے بعد احد، خندق اورصلح حدیبیہ وغیرہ میں برابر شریک رہے،فتح مکہ میں جب کفار کی قوتیں ٹوٹ چکیں اور ہمتیں پست ہوگئیں اوران کے لیے سوائے دامن رحمت کے کوئی جائے پناہ باقی نہ رہی،عبداللہ کے والد کا نام بھی مجرموں کی فہرست میں تھا، اب ان کے لیے بجز روپوشی کے کوئی چارہ نہ تھا، اس لیے گھر میں گھس کر اندر سے کواڑے بند کرلیے اور عبداللہ سے کہلا بھیجا کہ آنحضرتﷺ سے میری جان بخشی کراؤ ورنہ میں قتل کردیا جاؤں گا، سعادت مند لڑکا خدمت نبوی میں حاضر ہوکر عرض گذار ہوا یا رسول اللہ میرے والد کو امان دے دیجئے ،رحمت عالمﷺ نے فرمایا وہ خدا کی امان میں مامون ہیں اطمینان سے گھومیں پھریں اورحاضرین سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ تم میں جوشخص ان سے ملے تو سختی سے نہ پیش آئے ،خدا کی قسم وہ صاحب عقل وشرف ہیں ان کے جیسا زیرک آدمی اسلام سے ناواقف نہیں رہ سکتا۔ (مستدرک حاکم:۳/۳۸۱) جنگ یمامہ اورشہادت خلافت صدیقی ۱۲ھ میں جنگ یمامہ میں شریک ہوئے اورجواث کے معرکہ میں شہید ہوئے، اس وقت ان کی عمر کل ۳۸ سال کی تھی اوران کے والد سہیل زندہ تھے، حضرت ابوبکرؓ نے عبداللہ کی شہادت پر تعزیت فرمائی، اس پر انہوں نے کہا میں نے سنا ہے کہ شہید اپنے گھرانے کے ستر آدمیوں کی سفارش کرسکتا ہےمجھ کو امید ہے کہ میرا شہید لخت جگر پہلے میری سفارش کرے گا۔ (ابن سعد،جزء۳،ق۱:۲۹۶)