انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** جنت کے جانور اور سواریاں مہارا والی اونٹنیاں: حدیث: حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص مہاروالی اونٹنی لے کرحاضر ہوا اور عر ض کیا یہ اللہ کے راستہ میں ہے توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُ مِائَةِ نَاقَةٍ كُلُّهَا مَخْطُومَةٌ۔ (مسلم، كِتَاب الْإِمَارَةِ،بَاب فَضْلِ الصَّدَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَتَضْعِيفِهَا،حدیث نمبر:۳۵۰۸، شاملہ، موقع الإسلام) ترجمہ:تیرے لیے قیامت کے دن سات سواونٹنیاں ہوں گی (اور) سب کی سب مہار والی ہوں گی۔ ایک جانور کے بدلہ میں سات سوجانور: حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ وہ ایک مرتبہ جہاد کے لیے نکلے توایک شخص کوغمگین دیکھا اس لیے کہ اس کا گھوڑا مرگیا تھا اور اس کوغمگین کرگیا تھا، حضرت ابن مبارک نے اس سے فرمایا: تم یہ (مراہوا گھوڑا) مجھے چارسو درہم میں بیچ دو تواس نے بیچ دیا پھر اس نے اسی رات خواب میں دیکھا؛ گویا کہ قیامت قائم ہے اور اس کا گھوڑا جنت میں موجود ہے جس کے پیچھے سات سوگھوڑے اور ہیں، اس شخص نے ارادہ کیا کہ اپنے گھوڑے کوپکڑلے مگرآواز دی گئی کہ اس کوچھوڑو یہ ابن مبارک کا گھوڑا ہے یہ کل تمہارا تھا، جب صبح ہوئی تووہ شخص حضرت ابن مبارک کے پاس آیا اور سودا پھیرنا چاہا، حضرت ابن مبارک نے پوچھا کہ تم یہ کیوں کررہے ہو؟ تواس نے آپ کے سامنے وہ قصہ (خواب) کہہ سنایا، حضرت ابن مبارک نے اس سے فرمایا کہ اب تم چلے جاؤ تم نے جوکچھ خواب میں دیکھا ہے اس کوہم نے بیداری میں دیکھا ہے. (التذکرہ:۲/۴۸۶) علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ یہ حکایت نقل کرکے فرماتے ہیں کہ یہ حکایت صحیح ہے؛ کیونکہ یہ اس حدیث کے ہم معنی ہے جس کوصحیح مسلم شریف میں حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے (مرفوعاً) روایت کیا گیا ہے۔ (التذکرہ:۲/۴۸۷) نوٹ: ہم نے یہ حدیثِ ابومسعود ابھی اوپرذکر کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے راستہ میں ایک جانور صدقہ کرنے سے سات سوجانور ملتے ہیں (گھوڑوں کے بدلہ میں گھوڑے اور اونٹوں کے بدلے میں اونٹ ملتے ہیں)۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا دنبہ: قرآن پاک میں ہے وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ۔ (الصافات:۱۰۷) ترجمہ:اور ہم نے (حضرت اسماعیل کی جان بچانے کے لیے جنت کا عظیم الشان دنبہ) ان کے بدلہ میں دیا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس دنبہ کوعظیم اس لیے فرمایا گیا؛ کیونکہ یہ جنت میں چالیس سال تک چرا تھا۔ بکریاں جنت کے جانور ہیں: حدیث: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الشَّاةُ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ۔ (ابن ماجہ، كِتَاب التِّجَارَاتِ،بَاب اتِّخَاذِ الْمَاشِيَةِ،حدیث نمبر:۲۲۹۷، شاملہ، موقع الإسلام) ترجمہ: بکریاں جنت کے جانور ہیں۔ بکری سے حسن سلوک: حدیث: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أَحْسِنُوْا إِلَىٰ الْمَعْزِى وَأَميطُوْا عَنْهَا الْأَذَىٰ فَإِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ۔ (تاریخ بغداد:۹/۱۴۵۔ بزار، البدورالسافرہ:۲۱۳۰۔ تذکرۃ القرطبی:۲/۴۸۸) ترجمہ:بکری سے حسن سلوک کرو اور اس سے اذیت کودور کرو؛ کیونکہ یہ جنت کے جانوروں میں سے ہے۔ فائدہ: یہ حدیث سند کے اعتبار سے بہت ضعیف ہے؛ مگرطبرانی کی اس کے ہم معنی دوسری حدیث کی وجہ سے اس کی تائید ہوجاتی ہے اور ضعف اٹھ جاتا ہے۔ حدیث: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عَلَيْكُمْ بِالغَنَمِ فَإِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الجَنَّةِ۔ (طبرانی البدورالسافرہ:۲۱۳۲۔ مجمع الزوائد:۴/۶۷) ترجمہ: تم بکریوں کو (اپنے پاس) رکھا کرو؛ کیونہ یہ جنت کے جانوروں میں سے ہے۔ فائدہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی فرماتے ہیں کہ بکری جنت کے جانوروں میں سے ہے۔ (تاریخ بغداد:۷/۴۳۲۔ مسنداحمد بسند صحیح۔ البدورالسافرہ:۲۱۳۳) گھوڑے اور اونٹنیاں: جنت میں گھوڑے اور اونٹنیاں بھی ہوں گی ان کی تفصیل زیارت خداوندی اور جنتیوں کی باہمی ملاقاتوں کے ابواب میں ملاحظہ کریں۔ جنت میں جانے والے دنیا کے (۱۲/جانور): ابن نجیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جانوروں میں سے پانچ جانور جنت میں جائیں گے: (۱)اصحاب کہف کا کتا (۲)حضرت اسماعیل علیہ السلام کا دنبہ (۳)حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی (۴)حضرت عزیر علیہ السلام کا گدھا (۵)جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی براق۔ (الاشباہ والنظائر، ابن نجیم:۴/۱۳۱، بحوالہ مستطرف) پرندے: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: وَلَحْمِ طَيْرٍ مِمَّا يَشْتَهُونَ (الواقعۃ:۲۱) ترجمہ: اور پرندوں کاگوشت ہوگا جوان کومرغوب ہوگا۔ بختی اونٹ کے برابر بڑے بڑے پرندے: حدیث:حضرت حذیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاف فرمایا: إِنَّ فِيْ الْجَنَّةِ طَيْرًا أَمْثَال الْبخاتي قَالَ أَبُوْبَكْرً أَنَّهَا لَنَاعَمة يَارَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ أنْعَمْ مِنْهَا مَنْ يَأْكُلَهَا وَأَنْتَ مِمَّنْ يَأكُلَهَا يَاأَبَابَكْرِ۔ (بدورالسافرہ:۲۱۲۴۔ البعث والنشور:۳۵۴) ترجمہ:جنت میں بختی اونٹ کے برابر (بڑے بڑے) پرندے ہوں گے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ! پھرتووہ (جنت میں) بڑے عیش ونشاط میں رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس سے زیادہ عیش ونشاط میں وہ شخص ہوگا جواس کوکھائے گا اور اے ابوبکر! آپ بھی ان لوگوں میں سے ہیں جواس سے کھائیں گے۔ حدیث: حضرت حسن (بصری رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: إنَّ فِي الْجَنَّةِ طَيْرًا أَمْثَالَ الْبُخْتِ يَأْتِي الرَّجُلُ فَيُصِيْبُ مِنْهَا ثُمَّ يَذْهَبُ كَأَنْ لَمْ يُنْقِصْ مِنْهَا شَيْئًا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، كِتاب الْفَضَائِلِ،ماذُكِرَ فِي أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رضي الله عنه،حدیث نمبر:۳۲۶۱۰، شاملہ، تحقيق: محمد عوامة) ترجمہ:جنت میں بختی اونٹ کے برابر پرندے ہوں گے جب وہ جنتی کے پاس آئیں گے توجنتی اس سے کھائیں گے پھروہ پرندہ اس حالت میں اڑجائے گا گویا کہ اس سے کچھ بھی کم نہیں ہوا۔ سترلذتوں کا ملائم اور میٹھا گوشت: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: إِنَّ فِى الْجَنَّةِ لَطِيْرًا فِيْهِ سَبْعُوْنَ أَلْفُ ريشة فَيَجِىْء فَيَقَع عَلىٰ صَحْفَةِ الرجل مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ يَنْتفض فَيَخْرج مِنْ كُلِّ ريشة لَوْن بيض مِنَ الثلج وَألين مِنَ الزبد وأعذب مِن الشهد لَيْسَ فِيْهِ لَوْن يشبه صَاحبه ثُمَّ يطير فَيَذْهَب۔ (زہد ہناد:۱۱۹۔ البدورالسافرہ:۲۱۲۷) ترجمہ:جنت میں ایک پرندہ ہوگا جس کے سترپرہوں گے یہ آکر جنتی کے طباق پربیٹھے گا پھرہلے گا تواس کے ہرپر سے برف سے بھی زیادہ سفید قسم کا کھانا نکلے گا جوجھاگ سے زیادہ ملائم اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوا، اس میں کوئی کھانا ایسا نہیں ہوگا جودوسرے (پروالے) کھانے سے ملتا ہو؛ پھروہ پرندہ اُٹھ کرچلاجائے گا۔ یہ پرندہ کس جگہ کا ہوگا: حضرت مغیث بن سمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں طوبیٰ جنت میں ایک درخت ہے، جنت میں کوئی محل ایسا نہیں جس پر اس کی ٹہنیوں سے کوئی ٹہنی سایہ نہ کرتی ہو، اس پرمختلف قسم کے پھل لگے ہوئے ہیں، اس پربختی اونٹ کے برابر (بڑے بڑے) پرندے بیٹھتے ہیں جب کوئی مرد کسی پرندہ کا گوشت کھانا چاہے تواس کوبلائے گا تووہ اس کے دسترخوان پر آگرے گا اور وہ جنتی اس کی ایک جانب سے بھنا ہوا گوشت کھائے گا اور دوسری جانب سے شوبے والا؛ پھریہ پرندہ اپنی اصلی حالت میں واپس آکر اڑکر چلا جائے گا۔ (البدورالسافرہ:۲۱۲۸، بحوالہ ہناد فی الزہد۔ صفۃ الجنۃ ابونعیم:۲/۱۲۷) فائدہ: ترمذی شریف کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نہر کوثر پربھی پرندے ہوں گے جن کے جنتی گوشت کھائیں گے۔ (ترمذی۔ تذکرۃ القرطبی:۲/۴۸۵) حدیث: حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ طَيْرًا مِثْلَ أَعْنَاق البخت تصطف عَلٰى يدولي الله فَيَقُوْلُ أَحَدها: يَاوَلي الله رعيت فِيْ مروج الْجَنَّةِ تَحْتَ الْعَرْش شربت مِنْ عُيُوْن التسنيم فكل مني لَايزلن يفتخرن بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يخطر عَلىَ قَلْبِهِ أَكَلَ أَحَدها فَيَخر بَيْنَ يَدَيْهِ عَلى أَلْوَان مُخْتَلِفَة فَيَأكل منه مَاأَرَادَ فَإِذَا شبع تجمع عظام الطير فيطير يرعى فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَ فَقَالَ عُمر: يَانَبِيَ اللهِ إِنَّهَا لَنَاعمة قال: أَكَلَهَا أَنْعَمَ مِنْهَا۔ (التذکرۃ فی احوال الموتی وامور الآخرۃ:۲۰/۴۸۵) ترجمہ:جنت میں بختی اونٹ کی طرح اونچے اونچے پرندے ہوں گے جواللہ کے ولی کے سامنے آکر بیٹھیں گے ان میں سے ایک کہے گا: اے ولی اللہ! میں عرش کے نیچے خوبصورت جنت میں چرتا رہا ہوں اور تسنیم کے چشموں سے پیتا رہا ہوں آپ مجھ سے تناول فرمائیے؛ پھروہ ولی اللہ کے سامنے (اپنی) تعریف کرنے میں لگا رہے گا؛ حتی کہ جنتی کے دل میں ان پرندوں میں سے کسی ایک کے کھانے کا ارادہ ہوگا تووہ پرندہ اس جنتی کے سامنے مختلف ذائقوں کے ساتھ گرپڑے گا اور وہ اس سے اپنی طلب کے مطابق کھائے گا اور جب سیر ہوگا توپرندے کی ہڈیاں جمع ہوجائیں گی اور وہ اڑکر جن تمیں جہاں چاہے گا چرنا شروع ہوجائے گا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یانبی اللہ! یہ پرندہ توبڑے مزے میں ہوگا؟ آپ نے ارشاد فرمایا: اس پرندہ کوتناول کرنا اس سے بھی زیادہ عیش ونشاط رکھتا ہے۔ زنجبیل اور سلسبیل کا پرندہ: حضرت بکر بن عبداللہ المزنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جنت کا کوئی مرد جب گوشت کی خواہش کرے گا تو اس کے پاس ایک پرندہ آ:ے گا اور اس کے سامنے گرپڑے گا اور کہے گا: اے دوست خدا! میں نے چشمہ سلسبیل سے پیا ہے اور زنجبیل سے چرا ہے اور عرش وکرسی کے پاس نازونعمت میں پلا ہوں آپ مجھ سے تناول کیجئے۔ (صفۃ الجنۃ ابونعیم:۲/۱۲۵) روسٹ ہوکر پیش ہونے والا پرندہ: حدیث: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: إِنَّكَ لَتَنْظُرُ إِلَى الطَّيْرِ فِي الْجَنَّةِ فَتَشْتَهِيهِ فَيَجِيءُ مَشْوِيًّا بَيْنَ يَدَيْكَ۔ (مسند البزار كاملا، مسند عبد الله بن مسعود رضي الله عنه:حدیث نمبر:۲۰۳۲، صفحہ نمبر:۱/۳۲۱، شاملہ، علي بن نايف الشحود) ترجمہ:جنت میں توکسی پرندہ کی طرف دیکھے گا اور اس کی طلب کرے گا تووہ تیرے سامنے روسٹ ہوکرپیش ہوجائے گا۔ فائدہ: یہ پرندہ اس حالت میں روسٹ ہوکر پیش ہوگا کہ نہ تواس کودھواں پہنچا ہوگا نہ ہی آگ جیسا کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً حضرت امام ابن ابی الدنیا نے نقل کیا ہے۔ (صفۃ الجنۃ ابن ابی الدنیا:۱۲۳۔ المتجرالرابح:۲۱۰۶)ٖ