انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** وفات دستبرداری کے بعد حضرت حسنؓ آخری لمحہ حیات تک اپنے جد بزرگوار کے جوار میں خاموشی وسکون کی زندگی بسر کرتے رہے ۵۰ھ میں آپ کی بیوی جعدہ بنت اشعث نے کسی وجہ سے زہر دے دیا (زہر کے متعلق عام طور پر غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے کہ امیر معاویہؓ کے اشارہ سے دیا گیا تھا، جو سراسر غلط ہے اس پر تفصیلی بحث انشاء اللہ امیر معاویہؓ کے حالات میں آئے گی) سم قاتل تھا ،قلب وجگر کے ٹکڑے کٹ کٹ کر گرنے لگے،جب حالت زیادہ نازک ہوئی اورزندگی سے مایوس ہوگئے،توحضرت حسینؓ کو بلا کر ان سے واقعہ بیان کیا،انہوں نے زہر دینے والے کا نام پوچھا،فرمایا:نام پوچھ کر کیا کروگے؟ عرض کیا قتل کروں گا، فرمایا: اگر میرا خیال صحیح ہے تو خدا بہتر بدلہ لینے والا ہے اوراگر غلط ہے تو میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے کوئی ناکردہ گناہ پکڑا جائے اور زہر دینے والے کا نام بتانے سے انکار کردیا،حضرت حسن کو اپنے نانا کے پہلو میں دفن ہونے کی بڑی تمنا تھی، اس لئے اپنی محترم نانی حضرت عائشہؓ صدیقہ سے حجرہ نبوی میں دفن ہونے کی اجازت چاہی، انہوں نے خوشی کے ساتھ اجازت دے دی ،اجازت ملنے کے بعد بھی احتیاطا ًفرمایا کہ میرے مرنے کے بعد دوبارہ اجازت لینا ممکن ہے میری زندگی میں مروت سے اجازت دے دی ہو، اگر دوبارہ اجازت مل جائے تو روضۂ نبویﷺ میں دفن کرنا، مجھے خطرہ ہے کہ اس میں بنی اُمیہ مزاحم ہوں گے اگر مزاحمت کی صورت پیش آئے تو اصرار نہ کرنا، اوربقیع الغرقد کے گور غریبان میں دفن کردینا۔ (استیعاب:۱/۱۴۵ ومروج الذہب مسعودی :۳/۳۸۰) زہر کھانے کے تیسرے دن ضروری وصیتوں کے بعد باختلاف روایت ربیع الاول ۴۹ یا ۵۰ ھ میں اس بوریہ نشین مسندِ بے نیازی نے اس دنیائے دنی کو خیرباد کہا انا للہ وانا الیہ راجعون، وفات کے وقت ۴۷ یا ۴۸ سال کی عمر تھی۔