انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
بیک وقت دو وطن اصلی ہوسکتے ہیں، اس کی ایک صورت کا حکم ! اگر کسی شخص کا قیام دو جگہ (دوشہر میں رہنے ) کا ہو اور ان دونوں جگہ اس کی مصروفیت ہو اور پہلے شہر سےدوسرے شہر میں مصروفیت اور پڑھاتے وقت اگر اس پہلے شہر میں پھر بطور وطن رہنے کا ارادہ نہیں ہے جس طرح پہلے رہتا تھا تب تو وطن نہ رہا، وہاں جاکر قصر کرے گا جب مسافت طے کرکے آئے، اور اگر اب بھی اسی طرح رہنے کا ارادہ ہے تو وہ بھی وطن ہے، پس اس شخص کے دو وطن ہوجائیں گے، مطلب یہ ہے کہ اس مسئلہ میں اصل مدار مبتلیٰ بہٖ کی نیت کا ہے اور زوجہ کا ہونا یا "دورِ عقار" کا ہونا اس نیت کی علامات ہیں، اصل مدار مسئلہ نہیں، لہٰذا اگر زید نے پہلےشہر کے توطُّن کو چھوڑے بغیر دوسرے شہر یا دیہات میں بھی بطور وطن رہنے کا اس طرح ارادہ کیا ہے کہ کبھی یہاں توطن رہے اور کبھی وہاں، تو یہ دونوں مقامات اس کے لئے وطن اصلی ہیں ، ہاں! اگر نیت دوسرے شہر یا دیہات کے گھر کو وطن بنانے کی نہیں ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ کام کی غرض سے وہاں جانا ہوگا اور کام ختم ہوتے ہی اپنی اصلی جگہ واپس آجایا کریں گے تو پھر پہلی جگہ وطن اصلی اور دوسری جگہ وطن اقامت ہوگا۔ (فتاویٰ عثمانی:۱/۵۴۴، کتب خانہ نعیمیہ، دیوبند، یوپی)