انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** عثمانی کارنامے فتوحات پر اجمالی نظر اس میں شک نہیں ہے کہ فاروق اعظم ؓ نے اپنے جن تدبیر اور غیر معمولی سیاسی قوت عمل سے روم وایران کے دفتر الٹ دیئے، اوران کی دولت ومملکت فرزندان توحید کا ورثہ بن گئی،دولت کیا نی صفحہ ہستی سے معدوم ہوگئی اور تمام ایران مسخر ہوگیا،شام،مصر،الجزائر نے بھی سپر ڈال دی؛لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ فاتح قوم کا ایک ہی سیلاب مفتوح اقوام کے احساس خودی کو فنا کردے؟ اورکیا تاریخ کوئی ایسی مثال پیش کرسکتی ہے کہ ایک ہی شکست نے کسی قسم کی حریت وآزادی کے جذبہ کو معدوم کردیا ہو؟ اوراس کے قوائے عملی بے کار ہوگئے ہوں؟ سکندرنے تمام دنیا کو مسخر کرلیا؛لیکن اس کے جانشینوں نے کتنے دنوں تک حکومت قائم رکھی؟چنگیز وتیمور نے بھی عالم کو تہ وبالا کردیا؛لیکن ان کی فتوحات کیوں نقش برآب ثابت ہوئیں۔ درحقیقت یہ ایک تاریخی نکتہ ہے کہ جب اولوالعزم فاتح کا جانشین ویساہی اولوالعزم اور عالی حوصلہ نہیں ہوتا تو اس کی فتوحات اس تماشا گاہ عالم میں صرف ایک وقتی نمائش ہوتی ہیں، اس بنا پر جانشین فاروق ؓ کا سب سے اہم کارنامہ یہ ہے کہ اس نے ممالک مفتوحہ میں حکومت وسلطنت کی بنیاد مستحکم کی اورمفتوح اقوام کے جذبہ خودسری کو رفتہ رفتہ اپنے حسن تدبیر اورحسن عمل سے اس طرح ختم کردیا کہ مسلمانوں کی باہمی کشمکش کے موقعوں میں بھی انہیں سرتابی کی ہمت نہ ہوئی۔ تم نے فتوحات کے سلسلہ میں پڑھا ہوگا کہ حضرت عثمان ؓ کو نہایت کثرت کے ساتھ بغاوتیں فرو کرنا پڑیں، مصر میں بغاوت ہوئی ،اہل آرمینیہ اورآذر بائیجان نے خراج دینا بند کردیا، اہل خراسان نے سرکشی اختیار کی،یہ تمام بغاوتیں درحقیقت اسی جذبہ کا نتیجہ تھیں جو مفتوح ہونے کے بعد بھی اقوام کے جذبہ آزادی کو برانگیختہ کرتا رہتا ہے؛لیکن حضرت عثمان ؓ نے تمام بغاوتوں کو نہایت ہوشیاری کے ساتھ فرو کیا اورآہستہ آہستہ تشددوتلطف کی مجموعی حکمت عملی سے مفتوحہ ممالک کی عام رعایا کو اطاعت اورانقیاد پر مجبور کردیا۔ فتوحات کی وسعت عہد عثمانی میں ممالک محروسہ کا دائرہ بھی نہایت وسیع ہوا، افریقہ میں طرابلس ،برقہ،اورمراکش (افریقہ) مفتوح ہوئے،ایران کی فتح تکمیل کو پہنچی،ایران کے متصلہ ملکوں میں افغانستان،خراسان اور ترکستان کا ایک حصہ زیر نگین ہوا، دوسری سمت آرمینیہ اورآذربائیجان مفتوح ہوکر اسلامی سرحد کوہ قاف تک پھیل گئی،اسی طرح ایشیائے کو چک کا ایک وسیع خطہ ملک شام میں شامل کرلیا گیا۔ بحری فتوحات کا آغاز خاص حضرت عثمان ؓ کے عہد خلافت سے ہوا، حضرت عمر ؓ کی احتیاط نے مسلمانوں کو سمندری خطرات میں ڈالنا پسند نہ کیا، ذوالنورین ؓ کی اولوالعزمی نے خطرات سے بے پرواہ ہوکر ایک عظیم الشان بیڑا تیارکرکے جزیرۂ قبرص (سائپرس) پر اسلامی پھریرابلند کیا اوربحری جنگ میں قیصر روم کے بیڑے کو جس میں پانچ سو جنگی جہاز شامل تھے، ایسی فاش شکست دی کہ پھر رومیوں کو اس جرأت کے ساتھ بحری حملہ کی ہمت نہ ہوئی۔ نظام خلافت اسلامی حکومت کی ابتداء شوریٰ سے ہوئی، فاروق اعظم نے اس کو زیادہ مکمل اورمنظم کردیا، حضرت عثمان ؓ نے بھی اس نظام کو اپنے ابتدائی عہد میں قائم رکھا؛لیکن آخر میں بنوامیہ کے استیلاء نے اس میں برہمی پیدا کردی، مروان بن حکم نے حضرت عثمان ؓ کے اعتماد نیکی اور سادگی سے ناجائز فائدہ اٹھا کر خلافت کے کاروبار میں پورا رسوخ پیدا کرلیا تھا، تاہم جب کبھی آپ کو کسی معاملہ کی طرف توجہ دلائی جاتی تھی تو آپ فوراً اس کے تدارک کی سعی کرتے ،نیک مشوروں کو قبول کرنے میں تامل نہ فرماتے؛چنانچہ ولید بن عقبہ کی بادہ نوشی کی طرف توجہ دلائی گئی تو تحقیق کے بعد انہوں نے فورا ًاس کو معزول کردیا اور شرعی حد جاری کی، اسی طرح جب حضرت طلحہ ؓ نے ملک میں عام تحقیقات کے لئے وفود بھیجنے کا مشورہ دیا تو فورا ًاس کو تسلیم کرلیا۔ جمہوری حکومت کا ایک مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہرشخص کو اپنے حقوق کی حفاظت اورحکام کے طریق عمل پر نکتہ چینی کرنے کا حق حاصل ہو،حضرت عثمان ؓ کے اخیر عہد میں اگر چہ مجلس شوریٰ کا باقاعدہ نظام درہم برہم ہوگیا تھا تاہم یہ حقوق بجنسہٖ باقی تھے؛چنانچہ ایک دفعہ مجمع عام میں ایک شخص نے عمال کو اپنے ہی خاندان سے منتخب کرنے پر بلند آہنگی سے اعتراض کیا، اسی طرح حضرت عثمان ؓ نے عبداللہ بن ابی سرح ؓ کو طرابلس کے مال غنیمت سے خمس کا پانچواں حصہ دے دیا توبہت سے آدمیوں نے اس پر اعتراض کیا اورحضرت عثمان ؓ کو اسے واپس کرانا پڑا۔ عمال کی مجلس شوریٰ ملکی وانتظامی معاملات میں حکام وقت دوسرے غیر ذمہ دار اشخاص کے مقابلہ میں نسبتاً بہتر اور صائب رائے قائم کرسکتے ہیں؛چنانچہ آج تمام مہذب حکومتوں میں عمال وحکام کی ایک مجلس شوریٰ ہوتی ہے، حضرت عثمان ذوالنورین نے تیرہ سوبرس پہلے اس ضرورت کو محسوس کرکے عمال کی ایک مجلس شوریٰ ترتیب دی تھی، اس مجلس کے ارکان سے عموماً تحریری رائیں طلب کی جاتی تھیں، کوفہ میں پہلے پہلے جب فتنہ وفساد کی ابتداء ہوئی تو اس کی بیخ کنی کے متعلق تحریر ہی کے ذریعہ سے رائیں طلب کی گئی تھیں، کبھی کبھی دارالخلافہ میں باقاعدہ جلسے بھی ہوتے تھے؛چنانچہ ۳۴ھ میں اصلاحات ملک پر غور کرنے کے لئے جو جلسہ ہوا تھا، اس میں تمام اہل الرائے اوراکثر عمال شریک تھے۔ (ابن اثیر ج ۳ : ۱۱۷) صوبوں کی تقسیم نظام حکومت کے سلسلہ میں سب سے پہلے کام صوبہ جات اوراضلاع کی مناسب تقسیم ہے،حضرت عمرؓ نے ملک شام کو تین صوبوں میں تقسیم کیا تھا، یعنی دمشق، اردن، اورفلسطین علیحدہ صوبے قرار پائے تھے، حضرت عثمان ؓ نے سب کو ایک والی کے ماتحت کرکے ایک صوبہ بنادیا،جو نہایت سود مند ثابت ہوا کیونکہ جب والی خوش تدبیر اورذی ہوش ہو تو ملک کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر دینے سے اس کا ایک ہی مرکز سے وابستہ رہنا زیادہ مفید ہوتا ہے،اسی کا نتیجہ تھا کہ آخری عہد میں جب تمام ملک سازش اور فتنہ پردازی کا جولان گاہ بنا تھا اس وقت وہ تمام اضلاع جو شام سے ملحق کردئے گئے تھے اس سے پاک وصاف رہے، دوسرے صوبہ جات بعینہٖ باقی رکھے گئے البتہ جدید مفتوحہ ممالک یعنی طرابلس ،قبرص،آرمینیہ اورطبرستان علیحدہ علیحدہ صوبے قرار پائے۔ اختیارات کی تقسیم حضرت عثمان ؓ نے افسر فوج کا ایک جدید عہدہ ایجاد کیا اس سے پہلے والی یعنی حاکم صوبہ انتظام ملک کے ساتھ فوج کی افسری بھی کرتا تھا؛چنانچہ یعلی بن منبہ صنعا کے عامل ہوئے تو عبداللہ بن ربیعہ فوج کی افسری پر مامور ہوئے،اسی طرح عمروبن العاص ؓ معزولی سے پہلے والی مصر تھے اورمصری فوج کی باگ عبداللہ بن ابی سرح کے ہاتھ میں تھی۔ حکام کی نگرانی خلیفہ وقت کا سب سے اہم فرض حکام اور عمال کی نگرانی ہے حضرت عثمان ؓ اگرچہ طبعاً نہایت نرم تھے،بات بات پر رقت طاری ہوجاتی تھی اور ذاتی حیثیت سے تحمل، بردباری، تساہل اورچشم پوشی آپ کا شیوہ تھا؛لیکن ملکی معاملات میں انہوں نے تشدد احتساب اورنکتہ چینی کو اپنا طرز عمل بنایا، سعید بن ابی وقاص ؓ نے بیت المال سے ایک بیش قراررقم لی جس کو ادا نہ کرسکے، حضرت عثمان ؓ نے سختی سے باز پرس کی اورمعزول کردیا، ولید بن عقبہ نے بادہ نوشی کی،معزول کرکے علانیہ حد جاری کی، ابوموسی اشعری ؓ نے امیرانہ زندگی اختیار کی تو انہیں بھی ذمہ داری کے عہدہ سے سبکدوش کردیا، اسی طرح عمروبن العاص والی مصر وہاں کے اخراج میں اضافہ نہ کرسکے تو ان کو علیحدہ کردیا۔ نگرانی کا یہ عام طریقہ تھا کہ دریافتِ حال کے لئے دربار خلافت سے تحقیقاتی وفود روانہ کئے جاتے تھے جو تمام ممالک محروسہ میں دورہ کر کے عمال کے طرز عمل اوررعایا کی حالت کا اندازہ کرتے تھے، یہ تینوں بزرگ صحابہ ؓ میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے؛چنانچہ ۳۵ ھ میں ملک کی عام حالت دریافت کرنے کے لئے جو روانہ کئے گئے تھے ان میں یہی حضرات تھے۔ (طبری ص ۲۹۴۳) ملک کی حالت سے واقفیت پیدا کرنے کے لئے آپ کا یہ معمول تھا کہ جمعہ کے دن منبر پر تشریف لاتے تو خطبہ شروع کرنے سے پہلے لوگوں سے اطراف ملک کی خبریں پوچھتے اور نہایت غور سے سنتے،( مسند ابن حنبل ج ۱ : ۷۳)تمام ملک میں اعلان عام تھا کہ جس کسی کو کسی والی سے شکایت ہو وہ حج کے موقع پر بیان کرے، اس موقع پر تمام عمال لازمی طورپر طلب کئے جاتے تھے اس لئے سب کےسامنے شکایتوں کی تحقیقات کرکے تدارک فرماتے۔ ( طبری :۲۹۴۴) ملکی نطم ونسق فاروق اعظم ؓ نے ملکی نظم ونسق کا جودستورالعمل مرتب کیا تھا حضرت عثمان ؓ نے اس کو بعینہ باقی رکھا اورمختلف شعبوں کے جس قدر محکمے قائم ہوچکے تھے، ان کو منضبط کرکے ترقی دی،یہ اسی نظم ونسق کا اثر تھا کہ ملکی محاصل میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا، حضرت عمر ؓ کے عہد میں مصر کا خراج ۲۰ لاکھ دینار تھا ؛لیکن عہد عثمانی میں اس کی مقدار ۴۰ لاکھ تک پہنچ گئی۔ (فتوح البلدان بلاذری،:۲۲۳) بیت المال جدیدی فتوحات کے باعث جب ملکی محاصل میں غیر معمولی ترقی ہوئی تو بیت المال کے مصارف میں بھی اضافہ ہوا؛چنانچہ اہل وظائف کے وظیفوں میں ایک ایک سو درہم کا اضافہ ہوا،حضرت عمر ؓ رمضان میں امہات المومنین ؓ کو دودودرہم اور عوام کو ایک ایک درہم روزانہ بیت المال سے دلاتے تھے،حضرت عثمان ؓ نے اس کے علاوہ لوگوں کا کھانا بھی مقرر کردیا۔ تعمیرات حکومت کا دائرہ جس قدر وسیع ہوتا گیا، اسی قدر تعمیرات کا کام بھی بڑھتا گیا تمام صوبہ جات میں مختلف دفاتر کے لئے عمارتیں تیار ہوئیں،رفاہِ عام کے لئے سڑک پل اور مسجدیں تعمیر کی گئیں،مسافروں کے لئے مہمان خانے بنائے گئے، پہلے کوفہ میں کوئی مہمان خانہ نہ تھا اس سے مسافروں کو سخت تکلیف ہوتی تھی،حضرت عثمان ؓ کو معلوم ہوا تو انہوں نے عقیل اور ابن ہبار کے مکانات خرید کر ایک نہایت عظیم الشان مہمان خانہ بنوادیا۔ ملکی انتظام اوررعایا کی آسائش دونوں لحاظ سے ضرورت تھی کہ دارالخلافہ کے تمام راستوں کو سہل اورآرام دہ بنادیا جائے؛چنانچہ حضرت عثمان ؓ نے مدینہ کے راستہ میں موقع ، موقع سے کوکیاں، سرائیں اورچشمے تیار کرادئیے؛چنانچہ نجد کی راہ میں مدینہ سے چوبیس میل کے فاصلے پر ایک نہایت نفیس سرائے تعمیر کی گئی، اس کے ساتھ ساتھ ایک مختصر بازار بھی بسایا گیا،نیز شیریں پانی کا ایک کنواں بنایا گیا جو بیرالسائب کے نام سے مشہور ہے۔ ( ایضاً ج ۲ : ۲۱۷) بند مہزور خیبر کی سمت سے کبھی کبھی مدینہ میں نہایت ہی خطرناک سیلاب آیا کرتا تھا جس سے شہر کی آبادی کو سخت نقصان پہنچتا تھا،مسجد نبوی کو اس سے صدمہ پہنچنے کا احتمال تھا اس لئے حضرت عثما ن ؓ نے مدینہ سے تھوڑے فاصلہ پر مدری کے قریب ایک بند بندھوایا اورنہر کھود کر سیلاب کا رخ دوسری طرف موڑدیا، اس بند کا نام بند مہزور ہے،رفاہ عام کی تعمیرات میں یہ خلیفہ ثالث کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ (خلاصۃ الوفاء : ۱۲۴) مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیر وتوسیع مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیر میں حضرت عثمان ذوالنورین کا ہاتھ سب سے زیادہ نمایاں ہے، عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جب مسلمانوں کی کثرت کے باعث مسجد کی وسعت ناکافی ثابت ہوئی تھی تو اس کی توسیع کے لئے حضرت عثمان ؓ نے قریب کا قطعہ زمین خرید کر بارگاہ نبوت میں پیش کیا تھا، پھر اپنے عہد میں بڑے اہتمام سے اس کی وسیع اورشاندار عمارت تعمیر کرائی، سب سے اول ۲۴ ھ میں اس کا ارادہ کیا ؛لیکن مسجد کے گردوپیش جن لوگوں کے مکانات تھے وہ کافی معاوضہ دینے پر بھی مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت کے شرف سے دست کش ہونے کے لئے راضی نہ ہوتے حضرت عثمان ؓ نے ان لوگوں کو راضی کرنے کے لئے مختلف تدبیریں کیں ؛لیکن وہ کسی طرح راضی نہیں ہوئے،یہاں تک کہ پانچ سال اس میں گزر گئے، بالآخر ۲۹ ھ میں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کرنے کے بعد حضرت عثمان ؓ نے جمعہ کے روز ایک نہایت ہی مؤثر تقریر کی اورنمازیوں کی کثرت اورمسجد کی تنگی کی طرف توجہ دلائی، اس تقریر کا اثر یہ ہوا کہ لوگوں نے خوشی سے اپنے مکانات دے دئیے اور آپ نے نہایت اہتمام کے ساتھ تعمیر کا کام شروع کیا،نگرانی کے لئے تمام عمال طلب کئے اورخود شب وروز مصروف کار رہتے تھے، غرض دس مہینوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد اینٹ ،چونا اورپتھر کی ایک نہایت خوش نما اورمستحکم عمارت تیارہوگئی ،وسعت میں بھی کافی اضافہ ہوگیا، یعنی طول میں بچاس گز کا اضافہ ہوا، البتہ عرض میں کوئی تغیر نہیں کیا گیا۔ ( خلاصۃ الوفاء : ۱۲۴) فوجی انتظامات حضرت عمرؓ نے اپنے عہد میں جس اصول پر فوجی نظام قائم کیا تھا حضرت عثمان ؓ نے اس کو ترقی دی، فوجی خدمات کے صلہ میں جن لوگوں کے وظائف مقرر کئے گئے تھے، حضرت عثمان ؓ نے اس میں سو سو درہم کا اضافہ کیا اورفوجی صیغہ کو انتظامی صیغوں سے الگ کرکے تمام صدر مقامات میں علیحدہ مستقل افسروں کے ماتحت کردیا،اس عہد کے مکمل فوجی نظام کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ امیر معاویہ ؓ کو حدود شام میں رومیوں کے مقابلہ کے لئے فوجی کمک کی ضرورت ہوئی تو ایران اورآرمینیہ کی فوجیں نہایت عجلت کے سات بروقت پہنچ گئیں، اسی طرح جب عبداللہ بن ابی سرح ؓ کو طرابلس میں بغاوت فرد کرنے کے لئے فوجی طاقت کی ضرورت پیش آئی تو شام وعراق کی کمک نے عین وقت پر مساعدت کی، افریقہ کی فتح میں جب مصری فوج ناکام ثابت ہوئی تو مدینہ سے کمک روانہ کی گئی جس کے افسر حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ تھے، انہوں نے معرکہ کو کامیابی کے ساتھ ختم کیا۔ عہد فاروقی میں جو مقامات فوجی مرکز قرار پائے تھے، عہد عثمانی میں ان کے علاوہ طرابلس ،قبرص، طبرستان اور آرمینیہ میں بھی فوجی مرکز قائم کئے گئے اور اضلاع میں چھاؤنیاں قائم کی گئیں جہاں تھوڑی تھوڑی فوج ہمیشہ متعین رہتی تھی۔ تمام ملک میں گھوڑوں اوراونٹوں کی پرورش وپرداخت کے لئے نہایت وسیع چراگاہیں بنوائی گئیں، خود دارالخلافہ کے اطراف ونواح میں متعدد چراگاہیں تھیں، سب سے بڑی چراگاہ مقام ربذہ میں تھی، جو مدینہ سے چار منزل کے فاصلہ پر واقع ہے، یہ چراگاہ دس میل لمبی اوراسی قدر چوڑی تھی، دوسری چراگاہ مقام نقیع میں تھی جو مدینہ سے بیس میل دور ہے، اسی طرح ایک چراگاہ مقام ضربہ میں تھی جو وسعت میں ہرطرف سے چھ چھ میل تھی حضرت عثمان ؓ کے زمانہ میں جب گھوڑوں اوراونٹوں کی کثرت ہوئی تو ان چراگاہوں کو پہلے سے زیادہ وسیع کیا گیا اورہر چراگاہ کے قریب چشمے تیار کرائے گئے؛چنانچہ مقام ضربہ میں بنی صبیہ سے پانی کا ایک چشمہ خرید کر چراگاہ کے لئے مخصوص کردیا گیا، علاوہ اس کے حضرت عثمان ؓ نے خود اپنے اہتمام سے ایک دوسرا چشمہ تیار کرایا اورمنتظمین چراگاہ کے لئے مکانات تعمیر کرائے،عہد عثمانی میں اونٹوں اورگھوڑوں کی جو کثرت تھی،اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ صرف ضربہ کی چراگاہ میں چالیس ہزار اونٹ پرورش پاتے تھے۔ امارت بحریہ اسلام میں بحری جنگ اوربحری فوجی انتظامات کی ابتدا خاص حضرت عثمان ؓ کے عہد خلافت سے ہوئی،اس سے پہلے یہ ایک خطرناک کام سمجھا جاتا تھا مگر افسوس ہے کہ تاریخوں سے اس کے تفصیلی انتظامات کا پتہ نہیں چلتا، صرف اس قدر معلوم ہے کہ امیر معاویہ ؓ کے توجہ دلانے پر بارگاہ خلافت سے ایک جنگی بیڑا تیار کرنے کا حکم ہوا اور عبداللہ بن قیس حارثی اس کے امیر البحرہوئے ؛لیکن اس قدر یقینی ہے کہ اسی زمانہ میں مسلمانوں کی بحری قوت اتنی بڑھ گئی تھی کہ آسانی کے ساتھ قبرص زیر نگیں ہوگیا اور رومیوں کے عظیم الشان جنگی بیڑے کو جس میں پانچ سو جہاز تھے اسلامی بیڑے نے ایسی شکست دی کہ پھر اس نے اسلامی سواحل کی طرف رخ کرنے کی ہمت نہ کی۔ مذہبی خدمات نائب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے اہم فرض مذہب کی خدمت اوراس کی اشاعت وتبلیغ ہے، اس لئے حضرت عثمان ذوالنورین ؓ کو اس فرض کے انجام دینے کا ہر لحظہ خیال رہتا تھا؛چنانچہ جہاد میں جو قیدی گرفتار ہو کر آتے تھے ان کے سامنے خود اسلام کے محاسن بیان کرکے ان کو دین متین کی طرف دعوت دیتے تھے، ایک دفعہ بہت سی رومی لونڈیاں گرفتار ہوکر آئیں، حضرت عثمان ؓ نے خود ان کے پاس جاکر تبلیغ اسلام کا فرض انجام دیا؛چنانچہ دوعورتوں نے متاثر ہوکر کلمہ توحید کا اقرار کیا اوردل سے مسلمان ہوئیں۔ (ادب المفردباب خفض المراء) غیر قوموں میں اشاعت اسلام کے بعد سب سے بڑی خدمت خود مسلمانوں کی مذہبی تعلیم و تلقین ہے،حضرت عثمان ؓ خود بالمشافہ مسائل فقہ بیان کرتے تھے اورعملاً اس کی تعلیم دیتے تھے، ایک دفعہ وضو کرکے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح وضو کرتے دیکھا تھا،( ابوداؤد کتاب الطہارت باب صفۃ وضو النبی صلی اللہ علیہ وسلم )جس مسئلہ میں شبہ ہوتا اس کے متعلق کوئی صحیح رائے قائم نہ کرسکتے تو دوسرے صحابہ ؓ سے استفسار فرماتے اورعوام کو بھی ان کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت کرتے تھے، ایک دفعہ سفر حج کے دوران میں ایک شخص نے پرندہ کا گوشت پیش کیا جو شکار کیا گیا تھا، جب آپ کھانے کے لئے بیٹھے تو شبہ ہوا کہ حالت احرام میں اس کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ حضرت علی ؓ بھی ہمسفر تھے ان سے استصواب کیا انہوں نے عدم جواز کا فتویٰ دیا اور حضرت عثمان ؓ نے اسی وقت کھانے سے ہاتھ روک دیا۔ ( مستدرک ابن حنبل ج ۱ : ۱۰۰) مذہبی انتظامات کی طرف پوری توجہ تھی،مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیر کاحال گزرچکا ہے،مدینہ کی آبادی اس قدر ترقی کر گئی تھی کہ جمعہ کے روز ایک اذان کافی نہیں ہوتی تھی،اس لئے ایک اورمؤذن کا تقرر کیا جو مقام زوراء میں اذان دے کر لوگوں کو نماز کے وقت سے مطلع کرتاتھا،نماز میں صفوں کو برابر اورسیدھی رکھنے کے انتظام پر متعدد اشخاص متعین تھے جو خطبہ ختم ہونے کے ساتھ ہی مستعدی کے ساتھ صفیں برابر کرتے تھے۔ ( مسند شافعی : ۳۸) مذہبی خدمات کے سلسلہ میں حضرت عثمان ؓ کا سب سے زیادہ روشن کارنامہ قرآن مجید کو اختلاف وتحریف سے محفوظ کرنا اوراس کی عام اشاعت ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ آرمینیہ اورآذربائیجان کی مہم میں شام،مصر، عراق وغیرہ مختلف ملکوں کی فوجیں مجمتع تھیں ، جن میں زیادہ تر نومسلم اورعجمی النسل تھے، جن کی مادری زبان عربی نہ تھی، حضرت حذیفہ بن یمان ؓ بھی شریک جہاد تھے، انہوں نے دیکھا کہ اختلاف قرأت کا یہ حال ہے کہ اہل شام کی قرأت ،اہل عراق سے بالکل جداگانہ ہے، اسی طرح اہل بصرہ کی قرأت اہل کوفہ سے مختلف ہے اور ہر ایک اپنے ملک کی قرأت صحیح اور دوسری کو غلط سمجھتا ہے،حضرت حذیفہ ؓ کو اس اختلاف سے اس قدر خلجان ہوا کہ جہاد سے واپس ہوئے تو سیدھے بارگاہ خلافت میں حاضر ہوئے اور مفصل واقعات عرض کرکے کہا‘‘امیرالمومنین!اگر جلد اس کی اصلاح کی فکر نہ ہوئی تو مسلمان عیسائیوں اوررومیوں کی طرح خدا کی کتاب میں شدید اختلاف پیدا کرلیں گے’’ حضرت حذیفہ ؓ کے توجہ دلانے پر حضرت عثمان ؓ کو بھی خیال ہوا اورانہوں نے ام المومنین حضرت حفصہ ؓ سے عہد صدیقی کا مرتب ومدون کیا ہوا نسخہ لے کر حضرت زید بن ثابت ؓ، عبداللہ بن زبیر اور سعید بن العاص سے اس کی نقلیں کراکے تمام ملک میں اس کی اشاعت کی اور ان تمام مختلف مصاحف کو جنہیں لوگوں نے بطور خود مختلف املاؤں سے لکھا تھا، صفحہ ہستی سے معدوم کردیا۔ ( بخاری باب جمع القرآن) ظاہر ہے کہ ان اختلاف کو رفع کرنے کی کوشش نہ کی جاتی تو آج قرآن کا بھی وہی حال ہوتا جو توریت وانجیل اوردیگر صحف آسمانی کا ہوا۔