انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حیات طیبہ۶۰۴ء حضرت ام کلثومؓ کی ولادت حضور ﷺ کی صاحبزادی حضرت اُم کلثومؓ کی ولادت ہوئی، بعض نے آ پ کا نام آمنہ لکھا ہے اور کنیت اُم کلثومؓ بتلائی ہے، ابن سعد نے طبقات میں اور ابن حزم نے جوامع السیرۃ میں حضرت اُم کلثومؓ کو حضرت فاطمہؓ سے چھوٹی اور حضورﷺ کی آخری صاحبزادی بتلایا ہے ، حضرت اُم کلثومؓ کا نکاح ابو لہب کے دوسرے بیٹے عتیبہ سے ہوا تھا ؛لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی، حضور ﷺ کی بعثت کے بعد ابو لہب نے بیٹے پر دباؤ ڈال کر طلاق دلوادی، عتیبہ نے طلاق دیتے ہوئے حضور ﷺ کے ساتھ گستاخی کی اورچہرہ انور پر تھوک دیا، اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! اپنے کتوں میں سے ایک کتااس پر مسلط کر دے، کہتے ہیں کہ اس کے بعد ابو لہب کے ساتھ عتیبہ بھی شام کے تجارتی سفر پر گیا، راستہ میں ایک ایسی جگہ مقام کرنا پڑاجہاں درندے رہا کرتے تھے، اس وقت ابو لہب کو یکایک حضور ﷺ کی بات یاد آئی؛ چنانچہ سب لوگوں نے سامان کا ڈھیر کیا اور اس پر عتیبہ کو سلا دیااور لوگوں نے اس کی حفاظت کے لئے اطراف حلقہ بنا دیا، جب سب پر نیندطاری ہو گئی تو ایک شیر آ یا؛ لیکن اس نے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا؛ بلکہ صرف عتیبہ پر حملہ کر کے اس کاخاتمہ کردیا، حضرت اُم کلثوم ؓ بھی اپنی والدہ حضر ت خدیجہؓ کے ساتھ ہی ایمان لائیں،۲ ہجری میں غزوہ ٔ بدر کی فتح کے دن حضرت رقیہؓ نے وفات پائی تو حضرت عثمانؓ رنجیدہ رہا کرتے تھے ، غزوہ ٔ بدر میں حضرت عمرؓ کے داماد بھی شہید ہوئے تھے اور حضرت حفصہؓ بیوہ ہو گئی تھیں، حضرت عمرؓ نے حضرت عثمانؓ سے خواہش کی کہ وہ حضرت حفصہؓ سے نکاح کرلیں؛لیکن انھوں نے تامل کیا، جب حضور ﷺ کو اس بات کا علم ہوا تو فرمایا، میں تم کو عثمانؓ سے بہتر شخص کا پتہ دیتا ہوں اور عثمانؓ کے لئے بہتر بیوی ڈھونڈتا ہوں، تم اپنی لڑکی حفصہؓ کا عقد مجھ سے کر دو اور میں اپنی لڑکی اُم کلثومؓ کی شادی عثمان ؓ سے کرتا ہوں، اس طرح آپؓ کا نکاح حضرت عثمانؓ سے ہوا اور اسی دن سے حضرت عثمانؓ ذی النورین ( دو نور والے) کے لقب سے یاد کئے جانے لگے، ربیع الاول ۳ ہجری میں حضرت اُم کلثومؓ کا عقد حضرت عثمان ؓ کے ساتھ ہوا، دو ماہ بعد جمادی ا لآخر میں رخصتی عمل میں آئی، نکاح کے بعد حضرت اُم کلثوم ؓ چھ برس تک حضرت عثمانؓ کے ساتھ رہیں اور شعبان ۹ ہجری میں وفات پائی، آنحضرت ﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی اور حضرت علیؓ ، حضرت فضلؓ بن عباس اور حضرت اسامہؓ بن زید نے قبر میں اُتارا ، تدفین کے وقت حضور ﷺ قبر کے قریب بیٹھے ہوئے تھے اور آنکھوں سے آنسورواں تھے، حضرت عثمانؓ کے اپنی بیویوں کے ساتھ حُسن سلوک پر حضور ﷺ اس درجہ خوش تھے کہ فرمایا: اگر میری دس لڑکیاں بھی ہوتیں تو یکے بعد دیگرے عثمانؓ کے عقد میں دیتا ، حضرت اُم کلثومؓ سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔