انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** عرفات کی دعاء حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر عرفات کی دعاؤں میں سے آپ ﷺ کی یہ دعا ہے۔ اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ تَسْمَعْ کَلَامِیْ وَتَریٰ مَکَانِی وَتَعْلَمُ سِرِّیْ وَعَلَانِیَتِیْ لَایَخْفی عَلَیْکَ شَیْ ءٌ مِنْ اَمْرِیْ اَنَا الْبَائِسُ الْفَقِیْرُ الْمُسْتَغِیْثُ الْمُسْتَجِیْرُ الْوَجِلُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرفِ بِذَنْبِہ اَسْئَلُکَ مَسْئَلَۃَ الْمِسْکِیْنَ وَاَبْتَھِلُ اِلَیْکَ اِبْتِھَالَ الْمُذْنِبِ الذَّلِیْلِ وَاَدْعُوکَ دَعَاءَ الْخَائِفِ الضَّرِیْرِ مَنْ خَشَعَتْ لَکَ رَقْبَتْہُ وَفَاضَتْ لَکَ عَیْنَاہُ وَذَلَّ لَکَ جَسَدُہُ وَرَغِمَ اَنْفُہُ لَکَ اَللّٰھُمَّ لَاتَجْعَلْنِی بِدُعَائِکَ شَقِیًّا وَکُنْ بِیْ رَؤُفاً رَحِیْماً یَا خَیْرَ الْمَسْئُولِیْنَ وَیَاخَیْرَ الْمُعْطِیْنَ (سبل الہدی :۸/۴۷۱،الدعا:۲/۱۲۰۸) ترجمہ:اے اللہ تو میری بات سن رہا ہے اورمیری جگہ دیکھ رہاہے ،میرے پوشیدہ اورظاہر کو جانتا ہے،میری کوئی بات تجھ سے چھپی نہیں اور میں سختی میں مبتلا ہوں، فریاد کنندہ پناہ کا طالب ہوں، خوف زدہ ہوں، لرزرہا ہوں اپنے گناہوں کا پورا پورا اقرار کرتا ہوں، تجھ سے سوال کرتا ہوں، جس طرح مسکین سوال کرتا ہے،گڑ گڑاتا ہوں تیرےسامنے ذلیل مجرم کی طرح اور تجھ کو پکارتا ہوں جیسا ایک مصیبت زدہ ڈرنے والا پکارتا ہے اوراس کی طرح پکارتا ہوں جس کی گردن تیرے سامنے جھکی ہوئی ہو اور جس کے آنسو جاری ہوں اورجس کا سارا جسم تیرے سامنے ذلیل پڑا ہو اوراس کی ناک خاک آلود ہو اے اللہ آپ مجھے مانگنے میں محروم نہ فرما اورمیرے لئے بڑے مہربان اوررحیم ہوجا، اے اللہ سوال کئے جانے میں اور بخشنے والے میں سب سے بہتر ہیں آپ۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا جو شخص عرفہ کے دن زوال کے بعد ان دس کلموں کو ہزار بار پڑھ لے تو ضرور خداوند قدوس اس کی دعا کو قبول فرماتے ہیں مگر وہ قطع رحمی اورگناہ کی دعاء نہ مانگے۔ سُبْحَانَ الَّذِیْ فِی السَّمَاءِ عَرْشُہُ سُبْحَانَ الَّذِیْ فِیْ الْاَرْضِ مَوطِئُہُ سُبْحَانَ الَّذِیْ فِی الْبَحْرِ سَبِیْلُہُ سُبْحَانَ الَّذِیْ فِیْ النَّارِ سُلْطَانُہُ، سُبْحَانَ الَّذِیْ فِیْ الْقُبُورِ قَضَاءُ ہُ،سُبْحَانَ الَّذِیْ فِی الْجَنَّۃِ رَحْمَتُہ،سُبْحَانَ الَّذِیْ فِی الْھواءِ رُوْحُہُ، سُبْحَانَ الَّذِی رَفَعَ السَّماءَ، سُبْحَانَ الَّذِیْ وَضَعَ الْاَرْضَ سُبْحَانَ الَّذِیْ لَا مَنْجَأَ مِنْہُ اِلَّا اِلَیْہِ (الدعا:۱۲۰۷) ترجمہ:پاک ہے وہ ذات جس کا عرش آسمان پر ہے،پاک ہے وہ ذات جس کا تخت زمین پر ہے،پاک ہے وہ جس کا سمند ر میں راستہ ہے،پاک ہے وہ جس کی آگ میں حکومت ہے،پاک ہے وہ جس کی رحمت جنت میں ہے پاک ہے وہ برزخ میں جس کا فیصلہ نافذ ہے پاک ہے وہ ہوا پر جس کا حکم ہے،پاک ہے وہ جس نے آسمان کو بلند کیا،پاک ہے وہ جس نے زمین کو رکھا ،پاک ہے وہ جس کے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ عرفات کے میدان میں اکثر آپ ﷺ کی یہ دعا ہوتی تھی۔ اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کَالَّذِیْ نَقُوْلُ وَخَیْرًا مِمَّا نَقُولُ اَللّٰھُمَّ لَکَ صَلَاتِی وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ وَاِلَیْکَ مَآبِیْ وَلَکَ رَبِّ تُرَاثِی اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَوَسْوَسَۃِ الصَّدْرِ، وَشَتَاتِ الْاَمْرِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا تِجْیُ ء بِہِ الرِّیْحُ (الہدایۃ السالک:۱۰۲۳،اذکار:۱۶۹) ترجمہ: اے اللہ تیری ہی تعریف اس کے مانند جو میں کہہ رہا ہوں اور بہتر جو میں کہہ رہا ہوں اے اللہ تیرے ہی لئے میری نماز ہے اورمیری قربانی ہے اورمیرا جینا ہے اور میرا مرنا ہے اور تیری طرف میرا انجام اور تیرے ہی طرف اے رب میری وراثت ہے، اے اللہ میں تجھ سے عذاب قبر سے اورسینہ کے وسوسے سے اورکام کے پراگندگی سے اوراے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں اس چیز کے برائی سے جسے ہوالے کر آتی ہے۔ حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ جب عصر کی نماز پڑھے اورعرفات میں ٹھہرے تو دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ پڑھے: اَللہُ اَکْبَرُ وَللّٰہِ الْحَمْدُ اَللہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْد اَللہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ بِالْھُدیٰ وَنَقِّنِی بِالتَّقْویٰ وَاغْفِرْلِیْ فِیْ الْآخِرَۃِ وَالْاُوْلیٰ پھر ہاتھ نیچے کرے اورسورہ فاتحہ کی مقدار خاموش رہے پھر دوبارہ ہاتھ اٹھائے اوراسی طرح کہے۔ (ابن شیبہ، حصن:۲۹۷) بیہقی نے عرفات میں آپ ﷺ سے یہ دعا نقل کی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اکثر حضرات انبیاء کرام جو مجھ سے قبل تھے اورمیری عرفات کی یہ دعا ہے لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْر اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْراً وَفِیْ صَدْرِیْ نُوراً وَفِیْ سَمْعِیْ نُوْراً وَفِیْ بَصْرِیْ نُوْراً ،اَللّٰھُمَّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَیَسِّرْلِیْ اَمْرِیْ وَاَعُوذُبِکَ مِنْ وَسْوَاسِ الصُّدُرُوَشَتَاتِ الْاَمْرِوَفِتْنَۃِ الْقَبَرِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا یَلِجُ فِیْ اللَّیْلِ وَشَرِّ مَا یَلِجُ فِیْ النَّھَارِ وَشَرِّ مَا تَھُبُّ بِہِ الرِّیَاحُ،وَمِنْ شَرِّ بَوَائِقِ الدَّھْرِ (بیہقی:۵/۱۱۷،سبل الہدی:۸/۴۷۱) ترجمہ:کوئی معبود نہیں سوائے تیرے،اکیلا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے اسی کے لئے تعریف ہے،اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے،وہ ہر شی پر قادر ہے،اے اللہ میرے دل میں نور کردے اورمیرے سینہ کو نور سے معمور کردے اورمیرے کان میں نور کردے اورمیرے آنکھ میں نور کردے، اے اللہ میرے سینہ کو کشادہ فرما اورمیرے کام کو آسان فرما اے اللہ میں سینے کے وسوسوں کام کی پراگندگی قبر کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں،اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں اس برائی سے جو رات میں آتی ہے اور اس سے جسے ہوالے کر آتی ہے اور زمانے کے سخت حوادثات سے۔