انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** ہجرت کا اثر مدینہ پر (۱)انصار اول روز سے جب انھوں نے حضورﷺ کے ہاتھ پر عقبہ میں بیعت کی تھی یہ سمجھتے تھے کہ حضورﷺ کو مدینہ آنے کی دعوت دینا دنیا بھر سے عموماً اور قریش سے خصوصاً جنگ مول لینی ہے ، چنانچہ عین بیعت کے وقت بیعت کرنے والوں میں سے حضرت اسعد ؓ بن زرارہ نے کہا تھا : تمہیں خبر ہے کس چیز پر بیعت کر رہے ہو؟ یہ عرب و عجم ، جن و انس سے اعلان جنگ ہے ، تو سب نے کہا تھا کہ ہاں ہم اسی پر بیعت کر رہے ہیں ، چنانچہ جب حضورﷺ مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو سب سے پہلا اثر یہ پڑا کہ مدینہ جو اب تک تمام بیرونی خطرات سے امن میں تھا اب قریش اور قبائل عرب کی اسلام دشمنی کے باعث مخالفین اسلام کے قتل و غارت کا آماجگاہ بن گیا۔ ۲) انصار کو یہ بھی معلوم تھا کہ مسلمان جب پہلی دفعہ ہجرت کرکے حبشہ گئے تھے تو قریش کی سفارت نجاشی کے پاس گئی تھی کہ یہ مہاجرین ہمارے قومی مجرم ہیں لہذا ہمارے حوالے کردئیے جائیں، اس لئے ان کو خطرہ تھا کہ مدینہ میں قریش ان قومی مجرموں کو گرفتار کرنے کے لئے دفعتہ فوجی دستہ لے کر نہ پہنچ جائیں چنانچہ وہ ان خطرات کے تحت راتوں کو ہتھیار باندھ کر سوتے تھے ، حاکم کی روایت میں ہے : جب رسول اﷲ ﷺ اور آپﷺ کے اصحاب مدینہ آئے اور انصار نے ان کو پناہ دی تو تمام عرب ایک ساتھ لڑنے کے لئے تیار ہوگئے ، صحابہ کرامؓ ہتھیار باندھ کر رات گذارتے تھے اور اسی حالت میں صبح کرتے تھے،خود رسول اﷲﷺ کا یہ حال تھا کہ راتوں کو جاگ کر بسر کرتے تھے ۔ ۳)عبداﷲ ابن اُبی جس کی تاج پوشی کی رسم متفقہ طور پر طئے پاچکی تھی ہجرت کی وجہ سے ناکام ہوگئی، اس کا اس پر اور اس کے ساتھیوں پر خصوصی اثر کا پڑنا لازمی امر تھا ، وہ سمجھتا تھا کہ آپﷺ نے اس کی حکومت چھین لی، نتیجہ یہ ہواکہ قدرتی طورپر مدینہ منورہ میں حاسدوں کی ایک منافق جماعت پیدا ہوگئی ،یہ نہایت خطرناک پارٹ ادا کرتی تھی اور ان سے اس امر کا بھی ہر وقت خطرہ رہتاتھا کہ کس وقت ان کی قریش سے سازبازہوجائے چنانچہ چند مرتبہ ایسا ہوا کہ عبداﷲ بن اُبی کی وجہ سے مدینہ کے اندر خون کا بادل برستے برستے رہ گیا۔ ۴) حوالی مدینہ میں یہود کے تین قبیلے بنو قینقاع ، بنو نضیر، بنو قریظہ بستے تھے ،یہ لوگ عموماً دولت مند زمین دار اور تجارت پیشہ تھے اس لئے مدینہ منورہ کے ملکی اور تجارتی معاملہ میں ان کو چودھراہٹ کی حیثیت حاصل تھی ، پھر انصار چونکہ بت پرست تھے اس لئے ان پر یہودیوں کا اچھا خاصہ مذہبی اور علمی اثر بھی تھا ، انصار ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ان کی عافیت تسلیم کرتے تھے، حضور ﷺ کی تشریف آوری کے بعد دفعتہ یہ فوقیت جاتی رہی اور ان کی چودھراہٹ پر بھی آنچ آگئی اور انھوں نے محسوس کیا کہ اسلام کی وجہ سے ان کے اقتدار کو ، ان کے جابرانہ کاروبار کو ، ان کے سودی لین دین کو اور مذہبی وقار کو سخت دھکہ لگا، اس کی وجہ سے ان میں سخت ناراضگی پیدا ہوگئی اور اسلام کی خانہ بربادی کا عزم کرلیا اور صرف عزم نہیں کیا بلکہ عملاً وہ طرح طرح کی سازشیں کرنے لگے۔ ۵)ان حالات میں مدینہ منورہ داخلی او ر خارجی حیثیت سے غیر محفوظ تھا ، داخلی نزاکت کا یہ حال تھا کہ حضرت طلحہؓ بن براء جب مرنے لگے تو انھوں نے وصیت کی کہ اگر میں رات کو مرجاؤں تو رسول اﷲﷺ کو خبر نہ کرنا ایسا نہ ہو کہ میری وجہ سے آپﷺ پر کوئی حادثہ گذرجائے، خارجی حالت یہ تھی کہ قریش نے ہجرت کے ساتھ ہی مدینہ پر حملہ کی تیاریاں شروع کردی تھیں اور ان کی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں(فوجی دستے )مدینہ کے اطراف میں گشت لگاتی رہتی تھیں۔ (پیغمبر عالم ) ہجرت کی حقیقت کے چند اور پہلو بھی قابل لحاظ ہیں: ۱)ہجرت ہر اس مقام سے جہاں غیر مسلموں کی حکومت یا ان کا اقتدار ہو ضروری نہیں ہے ، اگر کسی غیر مسلم حکومت میں مسلمانوں کو احکام اسلام پر عمل کرنے کی آزادی ہو اور ان کو شہری زندگی کے عام حقوق حاصل ہوں تو ان کو وہاں ضرور رہنا چاہیے، اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ تبلیغ اسلام کی راہیں کھلیں گی اور غیر مسلم مسلمانوں کے سلجھے ہوئے عقائد اور نکھرے ہوئے اعمال سے متاثر ہوکر قبول اسلام کے لئے آمادہ ہو سکیں گے۔