انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
کیا جماعت کو مقررہ اوقات سے تاخیر کرنا درست ہے؟ نماز کے لئے جو اوقات منتظمین کی طرف سے مقرر کئے جاتے ہیں اور انہیں بورڈ وغیرہ پر لکھا جاتا ہے، اس کی حیثیت "وعدہ" کی ہے اور وعدہ کا حتی المقدور پورا کرنا واجب ہے، ا س لئے مقررہ وقت پر جماعت شروع کرنی چاہئے، اس میں معذور، بوڑھے اور مشغول لوگوں کی رعایت بھی ہے اور اس کی رعایت نہ کرنا ایسے لوگوں کےلئے تکلیف دہ ہے اور مسلمان کو تکلیف پہنچانے سے بحدِ امکان بچنا واجب ہے، البتہ اتفاقاً یا کسی مجبوری پرکسی قدر تاخیر ہوجائے تو حرج نہیں، مصلیوں کو اُسے برداشت کرنا چاہئے، رسول اللہ ﷺ کا بعض دفعہ معمول کے وقت سے مؤخر کرکے نماز ادا کرنا ثابت ہے، اسی طرح آپﷺ نے فرمایا: "امام اقامت کا زیادہ حقدار ہے"، یعنی جب امام آئے تو اقامت کہی جائے، اگر امام کو کسی قدر تاخیر ہوجائے تو اس کا انتظار کیا جائے اور اس کے آنے کے بعد اقامت کہی جائے۔ (کتاب الفتاویٰ:۲/۲۸۶،کتب خانہ نعیمیہ، دیوبند)