انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** دسویں شہادت "وَالَّذِیْنَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌo لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ"۔ (المعارج:۲۵،۲۴) ترجمہ:اور جن کے مال ودولت میں ایک متعین حق ہےo سوالی اور بے سوالی کا۔ (توضیح القرآن، آسان ترجمہ قرآن:۳/۱۸۰۱، مفتی تقی عثمانی،مطبع:فرید بکڈپو، دہلی) قرآنِ کریم نے یہ بات نہیں بتلائی کہ زکوٰۃ کس شرح سے فر ض ہوگی اور کب فرض ہوگی ہرماہ پر یاسال گزرنے پر، اس کا مصرف توبیان کردیا کہ سائل اور محروم قسم کے لوگ ہوں گے؛ لیکن کتنا مال ہوگا جب یہ لازم ٹھہرے گی اور کس کس قسم کے مال پر واجب ہوگی یہ سب باتیں قرآنِ کریم میں کہیں مذکور نہیں۔ سوال یہ ہے کہ قرآن کریم نے اسے "حق معلوم" کیسے فرمادیا، معلوم اسےکہتے ہیں جوبات جانی گئی ہو؛ ہرجانی بات کے لیئے جاننے والا یاجاننے والے چاہئیں؛ ہرمعلوم کے لیئے کسی عالم کا وجود لازمی ہے؛ ورنہ اسے معلوم نہ کہا جاسکے گا؛ اگراس کا جاننے والا صرف اللہ ہی تھا تومخلوق کے لیئے اس میں کیا ہدایت ہوگی؟ وہ اپنے اموال کوکس شرح سے کتنا وقت گزرنے پرسائلین اور محرومین کودیا کریں؟ سو یہ جواب قطعاً درست نہیں کہ یہ ایسا امرمعلوم تھا، جس کے عالم صرف رب العزت ہی تھے۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ سب تفصیلات اللہ تعالیٰ نے وحی غیرمتلو (Unwarded Revelation) سے حضوراکرمﷺ کوبتلادی تھیں اور آپ نے آگے صحابہؓ کوفرمادی تھیں، حق کیا ہے؟ کتنا ہے؟ اور کب ہے؟ یہ سب کومعلوم ہوچکا تھا، قرآن پاک کی اس آیت میں اسی حق معلوم کی حکایت ہے، حکایت وحی متلو میں ہورہی ہے اور محکی عنہ وحی غیرمتلو میں معلوم ہوا تھا، حدیث کے الہامی ہونے پر قرآن کریم کی یہ ناقابل انکار شہادت بتلارہی ہے کہ آنحضرتﷺ سے اللہ تعالیٰ کی ہمکلامی وحی قرآن کے علاوہ بھی ہوتی تھی۔ "تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ" قرآنِ پاک کی ان دس شہادتوں کے بعد وحی غیرمتلو کی شہادت اب آنحضرتﷺ کی زبانِ مبارک سے آپ کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔