انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** افریقہ کی جنگ افریقہ یعنی تونس،الجزائر اورمراکش قیصر کے زیر حکومت تھے،حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں یہاں بکثرت فتوحات ہوئی تھیں اور قیصر کے بہت سے مقبوضات اس کے ہاتھوں سے نکل گئے تھے، اس لئے وہ جوش انتقام سے لبریز ہورہا تھا؛چنانچہ اس نے مسلمانوں سے انتقام اورملک کو واپس لینے کے لئےبڑی زبردست تیاریاں کیں اورابن اثیر کے بیان کے مطابق قیصر نے اس سے پہلے کبھی مسلمانوں کے مقابلہ کے لئےاتنا اہتمام نہ کیا تھا ،جنگی جہازوں کی تعداد چھ ۶۰۰ سو تھی (ابن اثیر:۳/۹۱) امیر معاویہؓ اورعبداللہ بن سعد بن ابی سرح فاتح افریقیہ مدافعت کے لئے بڑھےجب دونوں بیڑے بالمقابل آئے تو اتفاق سے اسلامی بیڑے کے خلاف ہوا کے نہایت تیرز و تند طوفان چلنے لگے اس لئے طرفین نے ایک شب کے لئے صلح کرلی اور دونوں اپنے اپنے مذہب کے مطابق رات بھر عبادت ودعا میں مصروف رہے،صبح ہوتے ہوتے رومی ہمہ تن تیار تھے اور دونوں بیڑے آپس میں مل چکے تھے اس لئے رومیوں نے فوراً حملہ کردیا مسلمانوں نے بھی برابر کا جواب دیا،سطح سمندر پر تلواریں چلنے لگیں اوراس قدر گھمسان کی جنگ ہوئی کہ سمندر کا پانی خون کی کثرت سے سرخ ہوگیا، رزمگاہ سے لیکر ساحل تک خون کی موجیں اچھلتی تھیں،آدمی کٹ کٹ کر سمندر میں گرتے تھے اورپانی اُنہیں اُچھال کر اوپر پھینکتا تھا،یہ ہولناک منظر بڑی دیر تک قائم رہا،طرفین نہایت ہی پامردی کے ساتھ ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے رہے،لیکن آخری میں مسلمانوں کے عزم وثبات اورجان سپاری نے رومیوں کے پاؤں اکھاڑدیئے اورقسطنطین نے جہاز کا لنگر اٹھادیا۔ (طبری:۲۸۸۷) ۳۲ھ میں امیر معاویہؓ بحر روم کو عبور کرتے ہوئے تنگنائے قسطنطیہ تک پہنچ گئے اور ۳۳ھ میں ملطیہ کے قریب حصن المراۃ پر حملہ کیا غرض امیر معاویہؓ اپنے زمانہ امارت بھر رومیوں کا نہایت کامیاب مقابلہ کرتے رہے تا آنکہ حضرت مانؓ کے خلاف شورش شروع ہوئی اوردور فتن کا آغاز ہوگیا۔