انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** سلطنت کے دیگرقابل تذکرہ صیغے اور دفتر خلیفہ اگرچہ مطلق العنان فرماں روا سمجھا جاتا تھا؛ مگروہ اپنی حکمرانی وفرماں روائی میں بالکل خلیع الرسن اور آزادانہ تھا، خلیفہ بناتے وقت جب اس کے ہاتھ پربیعت کی جاتی تھی تواس میں اتباع قرآن وسنت کی شرط ضرور ہوتی تھی، علماء خلیفہ کے خلاف شرع کاموں پراعتراض کرنے اور اس کوروکنے ٹوکنے کا حق رکھتے تھے، اس حق کے استعمال کرنے میں اگرخلیفہ کی طاقت سدراہ ہوتو عوام اس طاقت کا مقابلہ کرکے اور علماء شرع کی حمایت پرمستعد ہوکر خلیفہ کونیچا دکھانے اور معزول کرنے پرفوراً آمادہ ہوجاتے تھے، بعض اوقات علماء اپنے اس فر ضاور حق کوادا کرنے میں پہلو تہی کرتے تھے؛ اسی کا نتیجہ تھا کہ خرابیاں پیدا ہوئیں اور خلافت دم بہ دم کمزور ہوتی چلی گئی، خلیفہ کی ذات میں جوعظمت وشوکت موجود ہوتی تھی، اس کے ذریعہ سے خلیفہ کبھی کبھی بلامشورہ بھی احکام جاری کردیتا اور اپنے احکام کی تعمیل کراسکتا تھا؛ لیکن عام طور پررعایا کی بہبود سے تعلق رکھنے والے کام سب مقررہ قوانین وآئین کے ماتحت انجام پذیر ہوتے تھے اور بہ حیثیت مجموعی سلطنت کی مشین نہایت باقاعدگی کے ساتھ چلتی تھی او ریہی وجہ تھی کہ باوجود سلاطین کی آپس کی لڑائیوں اور امراء کے نااتفاقیوں کے عہد خلافت عباسیہ میں علوم وفنون میں ترقی کرنے اور مہذب وشائستہ ہونے کا لوگوں کوخوب موقع ملتا رہا، خلافتِ عباسیہ کے ابتدائی ایام میں مختلف علوم وفنون کی بنیاد قائم ہوچکی تھی، قیمتی تصانیف شروع ہوگئی تھیں، اس کے بعد حکومت عباسیہ کے ابتدائی ایام میں مختلف علوم وفنون کی ترقیات اور علوم وفنون کی نشوونما اور ایجادات کی رفتار میں کوئی کمی اور سستی واقع نہیں ہوئی، اس کا بڑا سبب یہی تھا کہ نظامِ حکومت جواسلامی اصولوں پرقائم ہوا تھا، وہ سلطنت کے ضعیف اور جنگ وجدل کے قوی ہوجانے کی حالت میں بالکل روگردان اور سراسر درہم برہم نہیں ہوا؛ بلکہ بدامنی کے زمانے میں بھی اس کی روح موجود رہتی تھی اور یہی وجہ تھی کہ علمی ومعاشرتی واخلاقی ترقیات کوکبھی زبردست دھکا نہیں لگا، سامانیوں، صفاریوں، سلجوقیوں کی حکومت زیادہ مستقل اور پائیدار نہیں تھیں؛ مگران کے عہد حکومت اور حدودِ سلطنت میں برے برے زبردست عالم پیدا ہوئے اور علوم وفنون کے مشہور اماموں نے اپنا زندہ جاوید کارنامے چھوڑے۔