انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** ادب وشعر عربی ادب وشاعری میں بے شمار ایسے الفاظ، جملے، ترکیبیں اور خیالات ملتے ہیں جونصرانیت کے اثر کابین ثبوت ہیں، جاہلی ادب وشعر کا اگرہم لغوی جائزہ لی ںتوزمین کی پستی وبلندی، پہاڑ کے نشیب وفراز راستوں کی فراخی وتنگی، صحرا کی خشکی وویرانی کے لیے سیکڑوں ہزاروں الفاظ مل جائیں گے جن سے ان مناظر وکیفیات کا پورا نقشہ کھینچ جاتا ہے؛ لیکن اگرآپ سمندر اور اس کے متعلقات کے الفاظ کے لیے عربی لغت کوکھنگالیں تومشکل سے چند الفاظ ملیں گے، ان میں بھی خالص عربی توبہت کم ہوں گے، اُونٹ، تلوار اور سانپ کے نام اور ان کے متعلقات کے لیے عربی لغت کا دامن توبڑاوسیع ہے؛ لیکن کشتی، کشتی رانی، سمندری سفر اور اس کے لوازم وضروریات کے لیے مشکل سے دس بیس الفاظ ملیں گے اور جوہوں گے بھی وہ دوسری زبانوں سے مستعار ہوں گے، یہ تومحسوسات کا حال ہے؛ لیکن معنوی کیفیات کا حال بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے، خوشی ومسرت، لہوولعب، عیش وتنعم کے حالات وجذبات کے اظہار کے لیے عربی لغت میں الفاظ کی اتنی بہتات نہیں ہے، جتنی بہتات فقروفاقہ، حزن وملال اور قتل وخونریزی کے الفاظ ومحاورات کی ہے۔ غرض یہ ہے کہ عربی ادب وشاعری کا نشوونما جس سرزمین میں ہوا اس میں اس کے اثرات زیادہ نمایاں ہیں؛ لیکن جوں جوں عربوں کا اختلاط ان قوموں سے بڑھتا گیا جوعلم وتمدن میں ان سے ترقی یافتہ تھیں توان کے ادب وشعر میں بھی ان کے آثار نمایاں ہوتے چلے گئے اور ظاہر ہے کہ عربوں کوسب سے زیادہ جن ترقی یافتہ قوموں سے اختلافط کا موقع ملا، ان میں ایرانی، یہودی اور نصرانی سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔ ایرانیوں کے اثرات کی بحث توہمارے موضوع سے خارج ہے اور یہودیوں کے اثرات کی طرف اشارہ کیا جاچکا ہے، اب چند سطریں نصرانیوں کے اثرات پرلکھی جاتی ہیں، غسانی گونسلاً عرب تھے؛ مگررومیوں سے صدیوں کے تعلقات کی وجہ سے بہت زیادہ گھل مل گئے تھے اور ان کے علم وتمدن کا اتنا گہرا اثرقبول کیا تھا کہ ظہورِ اسلام کے وقت وہ عرب سے زیادہ رومی معلوم ہوتے تھے؛ مگراس کے باوجود بھی ان کا تعلق جزیرۂ عرب سے منقطع نہیں ہوا تھا، اس لیے اس دوگونہ تعلق کی وجہ سے نصرانی علم وتمدن کے عرب میں فروغ پانے کا بہت بڑا ذریعہ بن گئے۔ جزیرہ کے ہرحصہ کے عربی شعراء اپنے ان عیسائی بھائیوں کے پاس جاتے تھے، ان کواپنا کلام سناتے تھے، انعام واکرام حاصل کرتے تھے اور ان کے عیش وتنعم سے متاثر ہوتے تھے، نابغہ ذبیانی، اعشی، المرقش الاکبر اور علقمہ الفحل جیسے مشہور روزگار وصاحب کمال شعراء غسانیوں کے دربار میں گئے اور ان سے خراجِ تحسین وصول کیا، ان ہی کے بارے میں حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے جاہلیت کے زمانہ میں کہا تھا ؎ للّهِ دَرُّ عِصابَةٍ نادَمْتُهُمْ يوماً بجِلِّقَ في الزَّمان الأَوَّلِ (معجم البلدان،باب الباء والراء ومايليهما:۱/۴۰۷، شاملہ، المؤلف: ياقوت بن عبد الله الحموي أبوعبد الله، الناشر: دارالفكر،بيروت) خود حضرت حسان رضی اللہ عنہ کوغسانیوں نے ایک دعوت میں جووہاں کے حکمران جبلہ بن ایہم کے اہتمامیں ہوئی تھی، مدعو کیا تھا، جب وہ وہاں سے واپس آئے تولوگوں سے کہا کہ نہ میری آنکھوں نے ایسا منظر اس سے پہلے دیکھا اور نہ میرے کانوں نے سنا تھا (اخانی:۱۹/۱۴۔ فجرالاسلام:۳۰) پھرانھوں نے اس مجلس کی ایک ایک چیز کی شاعرانہ زبان میں تعریف کی، اس سے غسانیوں کے تمدن وتہذیب کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ان کے متعلق لاتعداد قصص وامثلال اور ان کے عیش وتنعم وعمران کے سیکڑوں واقعات عربی ادب وشاعری میں ملیں گے، نصرانی اور ان سے متاثر شعراء کے کلام پرآپ نظر ڈالیں گے توآپ کواس اثر کی بہت سی مثالیں ملیں گی۔ امیہ بن الصلت نے سب سے پہلے باسمک اللہم کے لفظ سے عربوں کوروشناس کیا؛ اسی طرح امابعد! کوسب سے پہلے قس بن ساعدہ نے استعمال کیا، امیہ صحفِ قدیم کا عالم تھا وہ اپنے اشعار میں ایسے بہت سے الفاظ استعمال کرتا تھا، جو اس سے پہلے عربی زبان میں رائج نہیں تھے، مثلاً قمروساہور، یُسَلُّ ویغمر؛ اسی طرح اللہ کے لیے سلیط اور تفرور وغیرہ کے الفاظ اس نے استعمال کیے۔ (فجرالاسلام:۳۲) مفسرین نے لکھا ہے کہ قرآن میں عبرانی، سریانی، رومی اور حبشی زبان کے متعدد الفاظ اور ترکیبیں استعمال ہوئی ہیں، عبرانی الفاظ کی تفصیل تویہودیت کی تاریخ کے سلسلہ میں اُوپر آچکی ہے کہ یہ زبان زیادہ تریہود ہی سے مخصوص تھی؛ مگرنصرانیوں میں ان کے مختلف علاقوں میں مختلف زبانیں رائج تھیں، مثلاً سریانی، رومی، حبشی وغیرہ، ان زبانوں کے جوالفاظ اور فقرے قرآن پاک میں آئے ہیں، وہ یہ ہیں: سریانی الفاظ فِرْدَوْس، طٰہٰ، طُوْر، ہَیْتَ لَکْ، وَلَاتَ حِیْنَ مَنَاص، میں وَلَاتَ، رَبَّانِیُّوْنَ، رِبِّیُّوْنَ، رَہْوٌ، أَلْیَمُّ، صَلوٰت، (کنایس) قِنْطَار، ان کے علاوہ متعدد الفاظ ایسے ہیں جو انشقاق کے لحاظ سے توعربی ہیں؛ مگران کے بہت سے معانی سریانی سے آئے ہیں، مثلا: قیوم، اسفار، آذر، قمل، سُجَّدٌ، وغیرہ۔ رومی الفاظ قسطاس، رقیم، طفق اور قسطاس وغیرہ۔ حبشی الفاظ جبت، طاغوت، حوب، طوبی، سکر، سجل، مشکوٰۃ، غساۃ، اس کے علاوہ اور بھی متعدد الفاظ کوحبشی بتایا گیا ہے، یہ ساری تفصیل امام سیوطی رحمہ اللہ کی کتاب المتوکلی اور ابن درید کی کتاب الاشتقاق میں ملے گی۔ ابھی بعثت نبوی کے بعد مسلمانوں اور نصرانیوں کے اجتماعی اور سیاسی تعلقات، ان کی اخلاقی اور دینی حالت، قرآن وحدیث کی روشنی میں مؤمنین اہلِ کتاب کے فضائل ومناقب وغیرہ کی تفصیل باقی تھی؛ مگرمجبوراً یہ سلسلہ ختم کیا جاتا ہے، اس لیے کہ سنہ۵۱ء ختم ہورہا ہے اور حسب تجویز سال کے اندر اندر اس کتاب کا شائع ہوجانا ضروری ہے اور ابھی کتاب کے نقشے اور ضمیمہ کی طباعت بھی باقی ہے، اب اگرچند صفحے اور بڑھائے گئے توکتاب اس سال شائع نہ ہوسکے گی؛ آخر میں اہل علم حضرات سے گذارش ہے کہ اگرمقدمہ یانفس کتاب میں کوئی تاریخی غلطی یامیرے ان قیاسات میں جومیں نے واقعات کی روشنی میں کیے ہیں، کوئی تضاد نظرآئے توراقم السطور کواس سے مطلع فرماکر ممنونِ احسان فرمائیں گے۔ اس میں غلطی اور ترمیم واضافہ کا اس لیے بھی اور زیادہ امکان ہے کہ اس سے پہلے اس نفس موضوع پرکوئی کتاب نہیں لکھی گئی؛ بلکہ یہ نقش اوّل ہے جس کوایک نومشق طالب علم نے اپنی کم سوادی اور علمی بے بضاعتی کے باوجود صفحہ قرطاس پرثبت کرنے کی کوشش کی ہے، یہ کتاب صرف ایک دینی خدمت اور ایک علمی کمی کوپورا کرنے کے لیے لکھی گئی ہے، خدائے قدوس سے دُعا ہے کہ اسے قبول اور اس کی جزا آخرت میں عطا فرمائے، رَبَّنَا تَقَبَّلْمِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمٌ۔