انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت سلمہ بن اکوعؓ کا زخم بخاری میں یزید بن ابی عبیدہ سے روایت ہے کہ میں نے سلمہ بن اکوع کو پنڈلی میں ایک زخم کا نشان دیکھا اور پوچھا کہ یہ کیسا نشان ہے انہوں نے جواب دیا کہ یہ زخم خیبر کی لڑائی میں آیا تھا اور اتنا سخت زخم تھا کہ لوگوں نے مشہور کردیا تھا کہ سلمہ شہید ہوگیا کیونکہ اس کا ری زخم سے بچنے کی امید ہی نہ تھی ،میں نبی کریمﷺ کی خدمت حاضر ہوا آپﷺ نے زخم پر تین بار دم کیا اس کا اثر یہ ہوا کہ زخم بالکل اچھا ہوگیا۔ طبرانی اور بیہقی کی روایت ہے کہ شرجیل جعفی کی ہھتیلی میں ایک بڑا سا غدود تھا جس کی وجہ سے وہ تلوار نہیں پکڑ سکتے تھے اور نہ گھوڑے کی لگام ہی تھام سکتے تھے نبی کریمﷺ سے اس کا حال بیان کیا تو آپﷺ نے غدود پر اپنا ہاتھ زور سے دباکر مسلا ؛چنانچہ اس کی برکت کا اثر یہ ہوا کہ وہ غدود بالکل ختم ہوگیا۔