انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** وحی متلو اور غیر متلو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوئی وہ دو قسم کی تھی ،ایک تو قرآن کریم کی آیات جن کے الفاظ اور معنی دونوں اللہ کی طرف سے تھے اور جو قرآن کریم میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کردی گئیں کہ ان کا ایک نقطہ اور شوشہ بھی نہ بدلا جاسکا ہے اور نہ بدلا جاسکتا ہے، اس وحی کو علماء کی اصطلاح میں "وحی متلو" کہا جاتا ہے یعنی وہ وحی جس کی تلاوت کی جاتی ہے ،دوسری قسم اس وحی کی ہے جو قرآن کریم کا جز نہیں بنی؛ لیکن اس کے ذریعہ آپ کو بہت سے احکام عطا فرمائے گئے ہیں اس وحی کو"وحی غیر متلو" کہتے ہیں یعنی وہ وحی جس کی تلاوت نہیں کی جاتی ،عموماً وحی متلو یعنی قرآن کریم میں اسلام کے اصول عقائد اور بنیادی تعلیمات کی تشریح پر اکتفا، کیا گیا ہے ان تعلیمات کی تفصیل اور جزوی مسائل زیادہ تر وحی غیر متلو کے ذریعے عطا فرمائے گئے یہ وحی غیر متلو صحیح احادیث کی شکل میں موجود ہے اور اس میں عموماً صرف مضامین وحی کے ذریعے آپ پر نازل کئے گئے ہیں ان مضامین کو تعبیر کرنے کے لیے الفاظ کا انتخاب آپ نے خود فرمایا ہے۔ ایک حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "أُوتِيتُ الْقُرْآنَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ"۔ (مسند احمد، حدیث مقدام بن معدی کرب، حدیث نمبر:۱۶۵۴۶) "مجھے قرآن بھی دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس جیسی تعلیمات بھی "اس میں قرآن کریم سے مراد وحی متلو ہے اور دوسری تعلیمات سے مراد وحی غیر متلو ہے۔