انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت عکرمہ ؓبن ابی جہل نام ونسب عکرمہ نام، باپ کا نام ابو جہل تھا، نسب نامہ یہ ہے ،عکرمہ بن ابی جہل بن ہشام ابن مغیرہ بن عبداللہ بن عمرو بن مخزوم بن یقظہ بن مرہ بن کعب بن لوئی قرشی مخزومی قبل از اسلام عکرمہ مشہور دشمن اسلام ابو جہل کے بیٹے ہیں، باپ کی طرح یہ بھی اسلام اورمسلمانوں کے خلاف بڑی سرگرمی کے ساتھ حصہ لیا،اس معرکہ میں ان کا باپ معوذ اورمعاذ دو نوجوان کے ہاتھوں سے مارا گیا، باپ کو خاک وخون میں تڑپتا دیکھ کر عکرمہ نے اس کے قاتل معاذ پر ایسا وار کیا کہ معاذ کا ہاتھ لٹک گیا (سیرۃ ابن ہشام:۲/۳۶۵) بدر کے بعد جن لوگوں نے ابو سفیان کو مقتولین بدر کے انتقام لینے پرآمادہ کیا تھا،ان میں ایک عکرمہ بھی تھے،(ایضاً:۴۴۶) احد میں یہ اور خالد مشرکین کی کمان کرتے تھے، ۵ھ میں جب تمام مشرکین عرب نے اپنے قبیلوں کے ساتھ مدینہ پر چڑھائی کی تو عکرمہ بھی بنی کنانہ کو لیکر مسلمانوں کے استیصال کے لیے گئے (سیرۃ ابن ہشام:۲/۹۸)فتح مکہ میں اہل مکہ نے بغیر کسی مقابلہ کے سپر ڈال دی تھی،لیکن بعضوں نے جن میں عصبیت زیادہ تھی مزاحمت کی، ان میں ایک عکرمہ بھی تھے (ابن سعد حصہ مغازی:۹۸) غرض شروع سے آخر تک اُنہوں نے ہر موقع پر اپنی اسلام دشمنی کا پورا ثبوت دیا۔ فتح مکہ کے بعد جب دشمنانِ اسلام کی قوتیں ٹوٹ گئیں اور مکہ اور اطراف مکہ کے قبائل جوق درجوق اسلام کے دائرہ میں داخل ہونے لگے،تو وہ معاندین اسلام جن کی رعونت اورسرکشی اب بھی نہ گئی تھی،مکہ چھوڑ کر دوسرے مقاموں پر نکل گئے،عکرمہ بھی ان ہی میں تھے؛چنانچہ وہ یمن کے قصد سے بھاگ گئے،ان کی سعیدہ بیوی مشرف باسلام ہوگئیں، اورآنحضرتﷺ سے شوہر کی جان کی امان لیکر ان کی تلاش میں نکلیں۔ عکرمہ جب یمن جانے کے لیے کشتی پر بیٹھے تو سلامتی سے پارا ترنے کے لیے تیمناً لات وعزی کا نعرہ لگایا،دوسرے ساتھیوں نے کہا یہاں لات و عزیٰ کا کام نہیں ہے، یہاں صرف خدا ئے واحد کو پکارنا چاہیے، یہ بات عکرمہ کے دل پر کچھ ایسا اثر کر گئی کہ انہوں نے کہا کہ اگر دریا میں خدائے واحد ہے تو خشکی میں بھی وہی ہے،پھر کیوں نہ مجھے محمدﷺ کے پاس لوٹ جانا چاہیے؛چنانچہ وہ راستہ ہی سے واپس ہوگئے،واپسی میں بیوی جو ان کی تلاش میں نکلی تھیں مل گئیں ،انہوں نے عکرمہ سے کہا میں ایک ایسے انسان کے پاس سے آرہی ہوں، جو سب سے نیک سب سے زیادہ بہتر اورسب سے زیادہ صلہ رحم کرنے والا ہے، میں نے اس سے تمہاری جان بخشی بھی کرالی ہے۔ بیوی کی یہ باتیں سن کر عکرمہ ان کے ساتھ مکہ پہنچے،اس وقت آنحضرتﷺ مکہ ہی میں تھے،عکرمہ کو دیکھ کر فرط مسرت سے اچھل پڑےاور"مرحبا یا الراکب المہاجر،یعنی پردیسی سوار خوش آمدید"کہکر استقبال فرمایا، عکرمہ بیوی کی طرف اشارہ کرکے بولے،ان سے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے مجھے امان دیدی ہے، آنحضرتﷺ نے فرمایا، ہاں تم مامون ہو، اس رحم وکرم اور عفو ودرگذر کو دیکھ کر اس دشمنِ اسلام نے جس نے اپنی ساری قوتیں اسلام کے مٹانے میں صرف کردی تھیں، فرط مذامت سے سرجھکا لیا، اورنظریں نیچی کرکے ان الفاظ میں اسلام کی حقانیت کا اعتراف کیا" میں شہادت دیتا ہوں کہ خدا ایک ہے،اس کا کوئی شریک نہیں ،آپ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ سب سے زیادہ نیک،سب سے زیادہ سچے اورسب سے زیادہ عہد کو پورا کرنے والے ہیں، اسلام قبول کرنے کے بعد گذشتہ گناہوں کی پوری فہرست نگاہوں کے سامنے آگئی اوران الفاظ میں عفو تقصیر کی درخواست کی ،یارسول اللہ میں آپ کے ساتھ بہت سے مواقع پر عداوت اوردشمنی کا ثبوت دےچکا ہوں، مخالفانہ مہموں میں شرکت کی ہے، مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کے میدان میں گھوڑے دوڑائے ہیں، آپ ان گناہوں کی مغفرت کے لیے دعا فرمائیے، ان کی درخواست پر رحمتِ عالم نے دعائے مغفرت فرمائی، اس کے بعد عکرمہ نے عرض کی یا رسول اللہ آپ کے علم میں جو چیز میرے لیے سب سے زیادہ بہتر ،باعثِ خیر اور سود مند ہوا اس کی تلقین فرمائیے، آنحضرتﷺ نے خدا کی وحدانیت اپنی عبدیت ورسالت کی تعلیم دی،ان تمام مراحل کے بعد عکرمہ کو تلافی مافات کی فکر ہوئی،عرض کیا یا رسول اللہ،جس قدر روپیہ میں خدا کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کے لیے صرف کرتا تھا،خدا کی قسم اب اس کا دونا،اس کی راہ میں صرف کرونگا اوراس کی راہ سے روکنے کے جس قدر لڑائیاں لڑی ہیں،اب اس کی راہ میں اس کا دونا جہاد کرونگا۔ (موطا امام مالک کتاب النکاح المشرک اذا اسلمت زوجۃ قبلہ اس میں عکرمہ کے اسلام کا واقعہ نہایت مختصر ہے اس کی تفصیلات مستدرک :۳/۲۴۱،سے ماخوذ ہیں) گو آنحضرتﷺ نے عکرمہ کی تمام گذشتہ خطاؤں سے در گذر فرمایا تھا، لیکن ایسے مشہور دشمنِ اسلام کے بارہ میں عام مسلمانوں کی زبان روکنا مشکل تھا، لوگوں نے:یا ابن عدواللہ، دشمن خدا کے بیٹے کہہ کر طعنہ زنی شروع کی اس کو روکنے کے لیے آنحضرتﷺ نے مخصوص خطبہ دیا کہ لوگ کانیں ہیں، جو جاہلیت کے زمانہ میں معزز تھا وہ اسلام میں بھی معزز ہے، کسی کا فرکی وجہ سے کسی مسلمان کے دل کو دکھ نہ پہنچاؤ۔ (مستدرک حاکم:۳/۶۴۳) غزوات عکرمہ کو گذشتہ اسلام دشمنی کی تلافی کی بڑی فکر تھی؛چنانچہ وہ قبول اسلام کے بعد ہمہ تن اس کی تلافی میں لگ گئے اورآنحضرتﷺ کی حیات میں جو موقع بھی اس قسم کا پیش آیا، اس کو انہوں نے نہ چھوڑا،حافظ ابن عبدالبر لکھتے ہیں، کان عکرمۃ محمراً فی قتل المشرکین مع المسلمین۔ (استیعاب:۲/۵۱۹) فتنۂ ارتداد لیکن فتح مکہ کے بعد آنحضرتﷺ کی زندگی میں جہاد کے کم مواقع پیش آئے، اس لیے عکرمہ کو تلافی کا پورا موقع نہ مل سکا، حضرت ابو بکر کے زمانے میں جب ارتداد کا فتنہ اٹھا تو عکرمہ کو تمنا پوری کرنے کا موقع ملا حضرت ابو بکر نے ان کو اور خذیفہ کو قبیلہ ازد کی سرکوبی پر مامور کرکے عمان بھیجا ،انہوں نے اس کے سردار لقیط بن مالک کو قتل کرکے بنی ازد کو دوبارہ اسلام پر قائم کیا اور بہت سے قیدی گرفتار کرکے مدینہ لائے۔ ازدکا فتنہ فرو ہونے کے بعد ہی عمان کے دوسرے قبائل میں ارتداد کی وبا پھیل گئی اور وہ سب شہر میں جمع ہوئے،حضرت ابوبکرؓ نے پھر عکرمہ کو بھیجا، انہوں نے ان سب کو شکست دی،ان سے فارغ ہوئے تھے کہ بنی مہرہ مخالفت پر آمادہ ہوگئے،عکرمہ ان کی طرف بڑھے لیکن جنگ کی نوبت نہیں آئی اور بنی مہرہ نے زکوٰۃ ادا کردی۔ (ایضاً) یمن کے مرتدوں کے مقابلہ پر زیاد بن لبید مامور ہوئے تھے اورانہوں نے بہت سے قبائل کی سرکوبی کرکے انہیں درست کردیا تھا،لیکن ایک مرتد اشعث بن قیس نے زیاد پر حملہ کرکے ان سے تمام نقد وجنس جو انہوں نے مرتدین سے حاصل کیا تھا اورکل مرتد قیدی چھین لیے ،زیاد نے حضرت ابوبکرؓ کو اس کی اطلاع کی،حضرت ابوبکرؓ نے عکرمہ کو بھیجا، انہوں نے زیاد اور مہاجرین ابی امیہ کے ساتھ مل کر اشعث کے سیکڑوں پیروں کو تلوار کے گھاٹ اتاردیا اور اشعث کو مجبور ہوکر اپنے قبیلہ کے لیے امان طلب کرنی پڑی، لیکن امان نامہ کی تحریر میں اپنا نام لکھنا بھول گیا، عکرمہ نے تحریر پڑھی تو اس میں خود اشعث کانام نہ تھا، اس لیے اس کو پکڑ کے حضرت ابو بکرؓ کے پاس آئے،آپ نے استحساناً چھوڑ دیا۔ (یعقوبی:۲/۵۴۹) شام کی فوج کشی فتنہ ارتداد فروہونے کے بعد شام کی فوج کشی میں مجاہدانہ شریک ہوئے اور تادمِ آخر نہایت جانفروشی سے لڑتے رہے، فحل کے معرکہ میں اس بہادری اور شجاعت سے لڑے کہ بے محابا دشمنوں کی صفوں میں گھستے چلے جاتے تھے،ایک مرتبہ لڑتے مارتے ہوئے صفوں کے اندر گھس گئے،سر اور سینہ زخموں سے چور ہوگیا، لوگوں نے کہا، عکرمہ! خدا سے ڈرو، اس طرح اپنے کوہلاک نہ کرو، ذرا نرمی سے کام لو، جواب دیا میں لات و عزیٰ کے لیے تو جان پر کھیلا کرتا تھا اورآج خدا اور رسول کے لیے جان بچاؤں ،خدا کی قسم ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ (اسد الغابہ:۴/۶) شام کی تمام معرکہ آرائیوں میں یرموک کا معرکہ نہایت اہم شمار کیا جاتا ہے، اس میں خالد بن ولید نے ان کو ایک دستہ کا افسر بنایا تھا، عکرمہ نے افسری کا پورا حق ادا کیا، دوران جنگ میں ایک مرتبہ رومیوں کا ریلا اتنا زبردست ہوا کہ مسلمانوں کے قدم ڈگمگا گئے،عکرمہ نے للکار کر کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کتنی لڑائیاں لڑچکے ہیں اور آج تمہارے مقابلہ میں بھاگ نکلیں گے؟ اورآواز دی کہ کون موت پر بیعت کرتا ہے؟ اس آواز پر چار سو مسلمان ان کے ساتھ جان دینے کے لیے آمادہ ہوگئے،ان کو لیکر عکرمہ خالد ؓبن ولید کے خیمہ کے سامنے اس پامردی سے لڑے کہ چار سو آدمیوں میں سے اکثروں نے جامِ شہادت پیا، جو بچے وہ بھی زخموں سے بالکل چور تھے،عکرمہ اور ان کے دولڑکے زخموں سے چور چور ہوگئے،لڑکوں کی حالت زیادہ نازک تھی،خالد بن ولید انہیں دیکھنے کے لیے آئے اوران کے سروں کو زانو پر رکھ کر سہلاتے جاتے تھے اورحلق میں پانی ٹپکاتے جاتے تھے۔ (طبری:۲۱۵) شہادت عکرمہ کی جائے شہادت میں بڑا اختلاف ہے،بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ فحل میں جامِ شہادت پیا اوربعضوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یرموک میں اور کچھ راوی اجنادین اور مرج صفر بتاتے ہیں ،لیکن یرموک کی شہادت زیادہ اغلب ہے۔ عبادت عکرمہ کو گذشتہ زندگی کے ہر پہلو میں تلافی مافات کی فکر تھی اس لیے قبول اسلام کے بعد اس پیشانی کو جو برسوں لات وعزیٰ کے سامنے سجدہ ریز رہ چکی تھی،خدا ئے قدوس کی رضا کیلئے وقف کردیا تھا،ارباب سیر لکھتے ہیں،ثم اجتھد فی العبادۃ ،یعنی قبول اسلام کے بعد انہوں نے عبادت میں بڑی مشقت کی (استیعاب:۲/۵۶۰) قران مجید کے ساتھ والہانہ شغف تھا،اس کو چہرہ پر رکھ کر نہایت بے قراری کے ساتھ کتاب ربی کتاب ربی کہہ کر روتے تھے۔ (مسند دارمی:۲۰۷،ومستدرک حاکم:۳/۳۴۱) انفاق فی سبیل اللہ یاد ہوگا کہ قبولِ اسلام کے بعد انہوں نے آنحضرتﷺ سے کہا تھا کہ جتنی لڑائیاں میں راہِ خدا کی مخالفت میں لڑچکا ہوں، اس کی دونی اس کی راہ میں لڑوں گا اور جتنی دولت اس کی مخالفت میں صرف کرچکا ہوں اس کی دونی اس کی راہ میں صرف کرونگا، اس عہد کو انہوں نے فتنہ ارتداد اور شام کی معرکہ آرائیوں میں پورا کیا اوران کے مصارف کے لیے ایک جبہ بھی بیت المال سے نہیں لیا،جب شام کی فوج کشی کے انتظامات ہونے لگے اورحضرت ابوبکرؓ معائنہ کرنے کے لیے تشریف لائے تو معائنہ کرتےہوئے ایک خیمہ کے پاس پہونچے اس کے چاروں طرف گھوڑے ،نیزے اورسامانِ جنگ نظر آیا، قریب جاکر دیکھا تو خیمہ میں عکرمہ دکھائی دیئے،حضرت ابوبکرؓ نے سلام کیا اوراخراجات ِ جنگ کے لیے کچھ رقم دینی چاہی، عکرمہ نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا اورکہا مجھ کو اس کی حاجت نہیں ہے میرے پاس دو ہزار دینار موجود ہیں ،یہ سن کر حضرت ابوبکرؓ نے ان کے لیے دعائے خیر کی۔ (اسد الغابہ:۴/۶)