انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت حمزہ بن حبیب الزیاتؒ نام ونسب حمزہ نام،ابوعمارہ کنیت تھی،والد کا اسم گرامی حبیب اورجدِ امجد کا عمارہ (المعارف لابن قتیبہ:۲۳۰) کوفہ کے خاندان آلِ عکرمہ بن ربیعی کے غلام تھےجو مشہور قبیلہ تیم اللہ سے تعلق رکھتا تھا،اسی نسبت سے تیمی کہے جاتے ہیں (شذرات الذہب :۱/۲۴۰،وکتاب الانساب :۱۱۳،ومرأۃ الحینان:۱/۳۳۲)زیات لقب تھا،اس کی وجہ تسمیہ کے بارے میں علامہ ابن قتیبہ رقمراز ہیں: كان يجلب الزيت من الكوفة إلى حلوان ويجلب من حلوان الجبن والجوز إلى الكوفة (المعارف،باب عاصم بن ابی النجود:۱/۱۲۰) وہ کوفہ سے زیتون لے جاکر حلوان میں فروخت کرتے تھے اور وہاں سے پنیر واخروٹ کوفہ لایاکرتےتھے۔ پیدائش اوروطن خلیفہ عبدالملک کےعہدِحکومت میں ۸۰ھ میں ولادت ہوئی (میزان الاعتدال للذہبی:۱/۲۸۴)اسی سال امام اعظم ابو حنیفہؒ کی ولادت بھی ہوئی،شیخ زیات کاآبائی وطن کوفہ ہے اور وہیں تاحیات درس وافادہ میں مصروف رہے۔ فضل وکمال وہ علم وفضل کے بلند ترین مقام پر فائز تھے،قرآن،حدیث،ادب اورفرائض وغیرہ علوم میں کامل دستگاہ حاصل تھی،بالخصوص علومِ قرآن اور فرائض میں ان کی مہارت اوردقیقہ رسی پر علماء کااتفاق ہے جن سات ائمہ نے فن قرأت میں نام پیدا کیا اورلائق تقلید قرار پائے ان میں حمزہ بن ابی حبیب الزیات کا نام بہت ممتاز ہے۔ کوفہ میں عاصم واعمش کے بعد قرأت میں انہی کو منصب امامت حاصل ہے،حافظ ذہبی انہیں شیخ القراءاۃ السبعۃ لکھتے ہیں (میزان الاعتدال:۱/۲۸۴)ان کے شیخ امام اعمش جو بلند مرتبہ تابعی اورخود قرآن کے ایک بڑے قاری تھے،جب بھی ابن حبیب کو دیکھتے فرماتے : انت عالم القرآن (ایضاً) قرآن قرآن کے ساتھ انہیں خاص شغف تھا؛چنانچہ وقت کے بہت سے اکابرقراء کی خدمت میں حاضرہوکر اس فن کی تحصیل کی اور اس میں اتنا کمال پیدا کیا کہ خود ان کی ذات مرجع انام بن گئی ،علامہ یافعی رقمطراز ہیں کہ: کان رأساً فی القرآن وَ الفرائض (العبر فی خبر من غبر:۱/۲۲۶) وہ علوم قرآن اور فرائض (قانونِ وراثت)میں بہت ماہر تھے۔ حافظ ذہبی لکھتے ہیں: قرأ علی التابعین وتصعد للاقراء فقرأ علیہ جل اھل الکوفۃ (مراۃالجنان للیافعی:۱/۳۳۲) انہوں نے تابعین سے قرأت کی تعلیم حاصل کی اور اس کے صدر نشین قرارپائے پھر اکثر اہلِ کوفہ نے ان سے اس فن کو حاصل کیا۔ جن ماہرین قراء سے انہوں نے نکاتِ فن کو حاصل کیا ان میں سلیمان بن مہران الاعمش حمران بن اعین،محمد بن ابی لیلیٰ اورابوعبداللہ جعفر الصادق کے نام قابلِ ذکر ہیں (کتاب الانساب للسمعانی ورق:۱۱۳)ان چاروں علمائے وقت کی سندِ قرآن علی الترتیب عبداللہ بن مسعودؓ،حضرت عثمانؓ،حضرت ابی بن کعبؓ،حضرت علیؓ بن ابی طالب تک پہنچتی ہے،جنہوں نے حضور اکرم ﷺ کی زبان گوہر فشاں سے قرآن کو پڑھا تھا۔ بعض علماء نے قراء سبعہ میں ابن حبیب کی قرأت کوناپسند کیا ہے،لیکن حافظ ابن حجرؒ نے ان پر کیے گئےنقد وجرح کی تردید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "ماہرین فن علماء کی اکثریت نے حمزہ کی قرأت قبول کرنے پر اتفاقِ رائے کیا اورناقدین کے کلام کو بے زبان قرار دیا ہے۔ قد انعقد الاجمع علی تلقی قراءۃ حمزۃ بالقبول والانکار علیٰ من تکلم فیھا (میزان الاعتدال:۱/۲۸۴) حمزہ بن حبیب الزیات کی قرأت کو قبول کرنے پر علماء کا اجماع ہے اورجنہوں نے اس سلسلہ میں کلام کیا ہے وہ پسندیدہ نہیں ہے علامہ ذہبی رقمطراز ہیں کہ حمزہ کی جلالتِ فنی کا اندازہ لگانے کے لیے امام سفیان ثوری کی یہ شہادت کافی ہے کہ ما قرأ حمزة حرفا إلا بأثر (ایضا) شیب بن حرب ان کی قرأت کو ہمیشہ درآبدار کہہ کر بیان فرمایا کرتے تھے (شذرالذہب :۱/۲۴۰)امام ثوری کا بیان ہے کہ: یا ابن عمارۃ اما القرأۃ و الفرائض فلانعرض لک فیھما (میزان الاعتدال:۱/۲۸۴،میزان:۱/۲۸۴) اے ابن عمارہ قرأت اور علم فرائض کے لیے ہم تم سے کوئی تعرض نہیں کریں گے۔ ان کی قرأت کے راوی بکثرت ہیں ؛لیکن خلف وخلاد زیادہ مشہور ومعروف ہیں۔ علمِ فرائض فرائض کے علم میں بھی وہ ید طولیٰ رکھتے تھے؛بلکہ درحقیقت قرآن اور فرائض ہی ان کی شہرت اورعظمت کی اصل بنیاد ہیں، محدث کی حیثیت سے ان کو کوئی قابلِ ذکر مقام حاصل نہیں ہوسکا،امام اعظم بایں ہمہ بلندی شان اورفضل وکمال فرمایا کرتے تھے : غلب حمزۃ الناس علی القرآن والفرائض (خلاصہ تذہیب،مراۃ الحنان للیافعی:۱/۳۳۲) حمزہ قرآن اورفرائض میں لوگوں پر غالب تھے۔ حدیث حدیث نبویﷺ سے بھی بہرہ وافر رکھتے تھے،اس کی تحصیل انہوں نے حکم بن عیینہ، حسیب بن ابی ثابت،عمرو بن مرّہ ،طلحہ بن مضرف،عدی بن ثابت،حماد بن اعین،ابو اسحاق، السبیعی،ابو اسحاق الشیبانی،اعمش اورمنصور بن المعتمر سے کی تھی اوران کے تلامذہ میں عبداللہ بن مبارک ،حسین بن علی الجعفی،عبداللہ بن صالح العجلی،سلیم بن عیسیٰ محمد بن فضل،عیسیٰ بن یونس،امام وکیع اورقبیصہ کے نام خصوصیت سے لائق ذکر ہیں۔ (خلاصہ تذہیب مرأۃ الجنان للیافعی:۱/۳۳۲) جرح وتعدیل ان کی ثقاہت کے متعلق علامہ ابن سعد لکھتے ہیں کہ: وہ محدث ،صدوق اورمتبع سنت تھے۔ عبادت کثرت عبادت وریاضت میں وہ صلحائے امت کا ایک اعلیٰ نمونہ تھے،رات کا بیشتر حصہ عبادت کرتے گزرتا تھااور بہت کم سوتے تھے،امام سفیان ثوری اورشریک بن عبداللہ جنہیں ان کے تلمذ خاص کا افتخار حاصل ہے، بیان کرتے ہیں کہ ابن حبیب الزیات کو جب بھی کوئی دیکھتا یا درس دیتے ملتے یا نماز پڑھتے ہوئے، کثرتِ عبادت کا یہ عالم تھا کہ ظہر وعصر اورمغرب وعشا کے درمیان بھی نوافل پڑھتے رہتے،اسی طرح درس کے خاتمہ پر پابندی سے چار رکعت نفل ادا فرمایا کرتے تھے ہر ماہ ترتیل کے ساتھ کم ازکم پچیس قرآن ختم کیا کرتے،علامہ سمعانی ان کی کثرتِ عبادت کے بارے میں رقمطراز ہیں: کان من جل عباداللہ عبادۃ وفضلا ونسکاً (کتاب الانساب للسمعانی ورق:۱/۳) وہ عبادت وفضیلت اور دنیا سے بے تعلقی میں خدا کے جلیل القدر بندے تھے۔ ابن فضل کا قول ہے کہ حمزہ کے تدین،جلالتِ علم اور عبادت گذاری سے کوفہ کی بلا دُور ہوتی ہے۔ (میزان الاعتدال:۱/۲۸۴) زہد واتقا ورع وتقویٰ اورخشیتِ الہیٰ علماء کبار کا وصف مشترک ہے، ابن حبیب الزیات اس میں خاص امتیاز رکھتے تھے،حافظ ذہبی رقمطراز ہیں کہ صدق اورورع وتقویٰ وغیرہ اوصاف ان کی ذات پر ختم ہوگئے تھے(میزان الاعتدال:۱/۲۸۴)ابن عماد حنبلی انہیں ورع کے اعتبار سے نمونہ عمل اوردلیلِ راہ بنائے جانے کا مستحق قرار دیتے ہیں۔ (شذرات الذہب:۱/۲۴۰) مناقب ان تمام کمالات کے علاوہ حمزہ کی ذات میں اوربہت سی خوبیاں مجتمع تھیں جو انسان کے باطن کو ہر قسم کی آلائشوں سے صاف کرکے اسے مثل آئینہ مجلی کردیتی ہیں۔ ابن حبیب الزیات بایں ہمہ علم وفضل کسی سے خدمت لینا گوارا نہیں کرتے تھے،شدید ترین گرمی کے موسم میں اثناء درس کبھی پیاس محسوس ہوتی تو اپنے کسی شاگرد سے پانی مانگنا گوارانہ کرتے ؛بلکہ خود اُٹھ کر تشنگی فرو کرتے (تہذیب التہذیب:۳/۲۸)قرآن کی تعلیم پر تاحیات اجرت نہیں لی، ذریعہ معاش تجارت کو بنارکھا تھا،جیسا اوپر مذکور ہوا کہ کوفہ سے زیتون لے جاکر حلوان میں فروخت کرتے اوروہاں سے پنیر واخروٹ لاکر کوفہ میں بیچتے تھے،لیکن یہ شغل بھی بقدر کفاف ہی کرتے ،جس سے محض روح وجسم کا رشتہ باقی رہ سکے،ورنہ زیادہ تر وقت درس وعبادت میں گذرتا تھا۔ وفات باختلافِ روایت ۱۰۶ھ یا ۱۰۸ھ میں بمقامِ حلوان وفات پائی ،اس وقت ابو جعفر منصور تختِ خلافت پر متمکن تھا۔ (المعارف:۲۳۰،وطبقات ابن سعد:۶/۲۶۸، والعبر فی خبر من غبر:۱/۲۲۶،مراۃ الجنان:۱/۲۳۲)