انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** وفد نہد یہ وفد تہامہ سے آیا تھا، اس کے امیر طخفہ بن زبیر تھے جنھوں نے حضورﷺ سے عرض کیاکہ ان کا علاقہ سخت خشک سالی کا شکار ہے ، انہوں نے حضور ﷺ سے دعا کرنے کی درخواست کی ، حضور ﷺ نے دعا فرمائی … اے اللہ ! ان کے دودھ اورمکھن میں برکت عطا فرما، پھلوں کو درختوں پر پختگی تک باقی رکھ، ان کے تالابوں کو ابلتے چشموں میں تبدیل فرما، ان کی اولادمیں برکت عطا فرما،پھر حضور ﷺ نے انہیں ایک تحریری فرمان بھی عطا فرمایا جس میں لا اِلٰہ الا اللہ کی شہادت دینے، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کی تلقین کی گئی اور سود کھانے سے منع کیاگیا،اس موقع پر حضرت علیؓ بھی موجو د تھے، انہوں نے عرض کیا … یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان، ہم آپﷺ ایک جد کی اولاد ہیں ‘ ایک ہی مقام پر ہماری تربیت ہوئی ہے لیکن آپﷺ وفود عرب سے اس زبان میں بات کرتے ہیں جو ہم سے مختلف ہوتی ہے ، اس پر آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ادب سکھایا ہے اور میں نے بنی سعدمیں پرورش پائی ہے،یہ خصوصیت تم میں نہیں ہے ( سیرت احمد مجتبیٰ)