انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت سفیان ثوریؒ (م:۱۶۱ھ) ۱۔حضرت سفیان بن عیینہؒ فرماتے ہیں کہ حضرت سفیان ثوریؒ کی وفات کے بعد میں نے ان کو خواب میں دیکھا تو ان سے عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت فرمادیجئے،آپ نے فرمایا: ((اقل من معرفۃ الناس)) "لوگوں سے جان پہچان کم کرو" (منھاج العابدین:۱۶) ۲۔((اسلکوا سبیل الحق ولا تستوحشوا من قلۃ أھلہ)) "تم حق کے راستے پر چلو اوراس سے نہ گھبراؤ کہ اہل حق تعداد میں کم ہیں" (کتاب الاعتصام:۱/۲۸) ۳۔اس شخص میں کوئی خیر نہیں جس کو لوگوں سے ایذاء نہ پہنچے اور بندہ حلاوت ایمان کا ذائقہ اس وقت تک نہیں پاسکتا جب تک کہ چاروں طرف سے اس پر بلائیں نازل نہ ہوں۔ (تاریخ ابن عساکر:۱/۲۴۵) ۴۔ایک مرتبہ حضرت سفیان ثوریؓ عسقلان تشریف لے گئے،تین روز تک ٹھہرے،کوئی شخص کوئی مسئلہ یا دین کی بات پوچھنے کے لئے نہ آیا تو اپنے رفیق سے فرمایا کہ بھائی میرے لئے سواری کرایہ پر لادو کہ میں اس شہر سے نکل جاؤں ؛کیونکہ یہ ایسا شہر ہے کہ اس میں علم مرجائے گا۔ (جامع العلم لابن عبد البر:۸۲) ۵۔میں نے ورع سے زیادہ آسان کوئی چیز نہیں دیکھی،جو چیز تمہارے دل میں کھٹکے اسے چھوڑدو۔ (الرسالۃ القشیریۃ:۱۵۶) ۶۔سب سے زیادہ عزت والے پانچ طرح کے لوگ ہیں: (۱)عالم جو زاہد بھی ہو۔ (۲)فقیہ جو صوفی ہو۔ (۳)مالدار جو متواضع بھی ہو۔ (۴)محتاج جو شاکر بھی ہو۔ (۵)سید زادہ جو سخی بھی ہو۔ (الرسالۃ القشیریۃ:۳۰۲) (۱)حضرت آدم کی لغزش کا سبب خواہشات نفس ہے اور شیطان کی نافرمانی کا محرک تکبر ہے اور جس شخص کا گناہ بوجہ تکبر ہوگا اس کی مغفرت کی امید نہیں اور جس شخص کا گناہ محض خواہش نفس کی وجہ سے ہوگا اس کی مغفرت کی امید ہے ۔ (۲)درویشوں نے پانچ چیزیں اپنے لئے پسند کیں : راحت نفس ، فراغت قلب ، عبادت رب ، خفت حساب اور آخرت میں اونچے مرتبے۔ اور مالداروں نے اپنے لئے پانچ چیزیں پسندکیں :مال کی خاطر اپنے کو مشقت میں ڈالنا ، قلب کو غیر اللہ میں مشغول رکھنا ، حساب کی شدت روز قیامت ، دنیا کی بندگی ، اور آخرت میں نچلے درجات ۔ (۳)مجھے میری والدہ نے کہا کہ اےبیٹا! جب تک علم پر عمل کرنے کی نیت نہ کرے پڑھنا شروع نہ کر ، اس لئے کہ وہ علم تیرے لئے آخرت میں وبال ہوگا ۔ (۴)ابراہیم تیمی ؒ غلاموں جیسے کپڑے پہنا کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کے دوستوں کے سوا کوئی انہیں عالم نہیں سمجھ سکتا تھا ، وہ فرمایا کرتے تھے کہ مخلص وہ ہے جو اپنی نیکیوں کو برائیوں کی طرح چھپا کر رکھے ۔ (۵)علم عمل کو بلاتا ہے اگر آگیا تو بہتر ورنہ خود چل دیتا ہے ۔ (۶)مخلص کی علامت یہ ہے کہ اگر لوگوں کو اس کی خوبی معلوم ہوجائے تو رنجیدہ ہو ، کیونکہ نفس کا اس پر خوش ہونا گناہ ہے ، بسا اوقات ریا اکثر گناہوں سے بدتر ہوتی ہے ۔ (۷)علماء کا تقویٰ شہوات کو چھوڑنا ہے ، کیونکہ ظاہری گناہ تو عالم اس خیال سے چھوڑتے ہیں کہ ان کی عظمت لوگوں کے دلوں سے جاتی نہ رہے ؛اور فرماتے میں نے سنا ہےکہ آخر زمانہ میں ایسے لوگ ہوں گے جو غیر اللہ کے لئے علم پڑھیں گےاور خدا تعالیٰ کی اس میں یہ حکمت ہوگی کہ علم معدوم نہ ہوجائے ، پھر قیامت میں اس کے وبال میں مبتلا ہوں گے ۔اعاذنا اللہ منہ۔ (۸)جب کوئی شخص بدعت پیدا کرے اور جو اس سے دوستی کا دعویٰ کرتا ہے پھر اس خیال سے اس سے عداوت نہ رکھے کہ میرا بھائی ہے تو اس کی محبت اللہ کے لئے نہیں ہے ، کیونکہ اگر اللہ کے لئے ہوتی تو ضرور اس کی نافرمانی پر ناراض ہوتا ۔ (۹)تیرا اللہ سے ایسے ستّر گناہ لے کر ملنا جو اللہ ہی کے ہوں بہت آسان ہے اس ایک گناہ کے مقابلہ میں جو کسی خاص شخص سے تعلق رکھتا ہے ، اے دوست! اسلاف کے خوف کو بغور دیکھ اور ان کی اقتداء کر کیونکہ تو ہلاکت کے کنارے پر ہے ، جو ڈرے گا وہ بچے گا۔ (۱۰)وہ شخص موت کے لئے تیار نہیں ہوا جسے یہ خیال ہو کہ کل زندہ رہے گا ، اور فرماتے ہیں کہ نیکیاں موت کی یاد کی فرع ہیں اور گناہ نسیانِ موت کی شاخ ہے ، اے دوست! اس میں غور کر اور عابدو زاہد لوگوں کی صحبت اختیار کر ، غافل اور دنیا دار لوگوں کی صحبت اختیار نہ کر ، کیونکہ ان کا میل جول دل کے لئے سیاہی اور آخرت کے حالات کے مشاہدہ کے لئے حجاب ہے ۔ (۱۱)جو حکومت کو اس کے حصول سے پہلے طلب کرے اس سے حکومت بھاگ جاتی ہے اور اس کا بہت سا علم ضائع ہوجاتا ہے ۔ (۱۲)مؤمن کا خوف اور غم اس کی بصیرت کے مطابق ہوتا ہے ۔ (۱۳)گریہ کے دس حصے ہیں ، ایک اللہ کے واسطے ہے اورباقی دکھاوے کے لئے ؛ پس اگر سال میں ایک دفعہ وہ حصہ آجائے جو اللہ کے لئے ہے تو وہ شخص ان شاء اللہ دوزخ سےبچ جائے گا ۔ (۱۴)جس کا علم اس کو رُلائے وہ عالم ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا "انّ الذین اوتو العلم من قبلہ اذا یتلی علیھم یخرّون للاذقان سجّداً"وہ لوگ جن کو پہلے علم دیا گیا ہے جب ان کو آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ روتے ہوئے سجدہ میں گر پڑتے ہیں ۔ (۱۵)اپنے دوستوں کو فرمایا کرتے کہ حتی الوسع دعوتوں میں حاضر ہونے سے پرہیز کرو ، کیونکہ جب آدمی دوسروں کے برتن میں کھاتا ہے تو ذلیل ہوتا ہے ۔ (۱۶)جو دولت میں تجھ سے زیادہ ہو اس کے ساتھ کبھی سفر نہ کر کیونکہ اگر تو اس کی برابری کرےگا تو تجھے نقصان پہونچےگا اور اگر کم رہے گا تو تجھے لوگوں میں ذلیل کرے گا۔ (۱۷)تیرا اپنے مال کو اس خیال سے محفوظ رکھنا کہ اس سے اپنی ضرورت کو پورا کرے ، اس سے اچھا ہے کہ تو اس کو صدقہ کردے اور لوگوں کے مال میں طمع کرے؛ کیونکہ انسان جب تک دو باتوں کی حفاظت کرے اچھا ہے (اول)اپنی ضرورت کے لئے درہم ، (دوم)اپنی آخرت کے لئے دین ۔ (۱۸)ہمارے اس زمانہ میں مال ہتھیار ہے ۔ (۱۹)میں چاہتا ہوں کہ طالبِ علم کو بقدرِ ضرورت مال حاصل ہو اس لئے کہ جب وہ محتاج و ذلیل ہوتا ہے تو اس کی طرف آفات اور لوگوں کی زبانیں(طعن و تشنیع کے ساتھ )بہت تیز چلنے لگتی ہیں ۔ (۲۰)اپنے مرض کی شکایت اپنے بھائی سے کرنا اللہ تعالیٰ کی شکایت نہیں ہے ۔ (۲۱)میں دس ہزار چھوڑ کر مروں جس کا حساب مجھے دینا پڑے یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں لوگوں کا محتاج رہوں ، اس لئے کہ مال پہلے زمانہ میں ناپسند کیا جاتا تھا ، مگر اب تو مؤمن کا ڈھال ہے جو مالداروں اور بادشاہوں کے سامنے سوال کی ذلت سے بچاتا ہے ۔ (۲۲)جب اپنے بھائی کو دیکھو کہ امامت کا طالب ہے تو اسکو پیچھے کردو ۔ (۲۳)کسی کے دوستوں کی کثرت دین میں اس کی نرمی کی دلیل ہے ۔ (۲۴)یہ زمانہ خاص اپنے نفس کی اصلاح کو لازم کرلینے اور عوام کو ان حال پر چھوڑدینے کا ہے ۔ (۲۵)دونوں فرشتے حسنات اور سیئا ت کی بو محسوس کرتے ہیں جب کوئی شخص قلب میں ان میں سے کسی کا ارادہ کرتا ہے ، پس جس طرح تم کو وہ فرشتے ایذاء نہیں دیتے ویسے ہی تم لوگ بھی ان کو تکلیف نہ پہونچاؤ ۔