انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت عمر فاروقؓ کا اسلام لانا حضرت حمزہؓ کے مسلمان ہونے کی خبر سن کر قریش کے فکر وتردّداور بغض وعداوت نے اوربھی ترقی کی اورآپس میں مشورے ہونے لگے،حضرت عمر فاروقؓ حضرت حمزہؓ کی طرح مشہور پہلوان اورعرب کے نامور بہادروں میں سے تھے، مسلمانوں کو ایذا پہنچانے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کوشش کرنے میں نمایاں حصہ لیتے تھے وہ مسلمانوں کو پکڑ کر لاتے اورمارتے مارتے تھک جاتے تو دم لیتے اورپھر اُٹھ کر مارتے غرض کہ انہوں نے مسلمانوں کو دینِ اسلام سے مرتد بنانے کی بے حد کوشش کی اورناکام رہے،آخر ایک روز انہوں نے فیصلہ کیا اور کفار کی مجلس میں وعدہ کیا کہ میں تنہا قریش کے اوپر وارد ہونے والے اس فتنہ کو مٹائے دیتا ہوں،یعنی اس کے بانی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کئے دیتا ہوں۔ ابو جہل نے سُن کر کہا کہ اگر تم نے یہ کام پورا کردیا تو سو اونٹ اورہزار اوقیہ چاندی نذر کروں گا؛چنانچہ حضرت عمرؓ مسلح ہوکر شمشیر بدست نکلے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش وجستجو کرنے لگے،راستہ میں سعد بن ابی وقاص نے پوچھا کہ عمر اس طرح کہاں جاتے ہو،انہوں نے کہاکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے جاتا ہوں کیوں کہ میرا ارادہ ہے کہ آج قریش کی مصیبت اور اُن کی بیسیوں تدبیروں کو سہل کردوں،حضرت سعد نے کہا کہ تم بنی ہاشم کے انتقام سے نہیں ڈرتے؟ اوریہ نہیں جانتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل کوئی آسان کام نہیں ہے؟ حضرت عمرؓ نے کہا کہ جب تک میرے ہاتھ میں تلوار ہے مجھ کو کسی کا بھی کچھ خوف نہیں ہے،پھر سعدؓ سے کہا کہ تم بھی اس کے حمایتی ہو،لاؤ پہلے تمہارا ہی کام تمام کردوں،حضرت سعدؓ نے کہا کہ تم مجھ کو اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تو بعد میں قتل کرنا پہلے اپنے ہی گھر کی خبر لو کہ تمہاری بہن مسلمان ہوچکی ہے اوراسلام تمہارے گھر میں داخل ہوچکا ہے۔ حضرت عمرؓ یہ نشتر زن جواب سُن کر اُسی وقت اپنی بہن کے گھر کی طرف چل دئے،وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی نیت سے چلے تھے،راستے میں اپنی بہن کے گھر کی طرف اُن کا رخ پھرنا گویا اسلام کی طرف رخ پھرنا تھا، بہن کے گھر پہنچے،وہاں حضرت خباب بن الارتؓ،حضرت عمرؓ کی بہن فاطمہ اوراُن کے شوہر حضرت سعیدؓ بن زیدؓ کو قرآن شریف کی تعلیم دے رہے تھے،ان کے آنے کی آہٹ سُن کر حضرت خبابؓ تو وہیں گھر میں کسی جگہ چھپ گئے اورقرآن کریم جن اوراق پر لکھا ہوا تھا اُن کو بھی فوراً چھپادیا،انہوں نے گھر میں داخل ہوتے ہی پوچھا کہ تم کیا پڑھ رہے تھے، پھر فوراً اپنے بہنوئی سعید بن زیدؓ کو پکڑ کر گرادیا اورمارنا شروع کردیا کہ تم کیوں مسلمان ہوئے؟ بہن اپنے شوہر کو چھڑانے کے لئے آگے بڑھی اوربھائی سے لپٹ گئی،اس کشتم کشتا میں ان کی بہن فاطمہؓ کے ایسی چوٹ لگی کہ اُن کے سر سے خون جاری ہوگیا،حضرت عمرؓ نے بہن اوربہنوئی دونوں کو مارا بہن نے آخر دلیری سے کہا کہ "قَدْ اَسْلَمْنَا وَتَابَعْنَا محمدا اِفْعَلْ مَا بَدَالَکَ"(ہاں عمرؓ !ہم مسلمان ہوچکے اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرماں بردار بن چکے ہیں،اب جو کچھ تجھ سے ہوسکتا ہے کرلے) بہن کا یہ دلیرانہ جواب سُنا اورنگاہ اٹھا کر دیکھا تو اُن کو خون میں تر بتر پایا،اس نظارہ کا اُن کے قلب پر کسی قدر اثر ہوا اور طیش وغضب کے طوفان میں قدرے دھیما پن ظاہر ہونے لگا۔ حضرت عمرؓ نے بہن سے کہا کہ اچھا تم مجھے وہ کلام دکھلاؤیا سناؤ جو تم ابھی پڑھ رہے تھے اور جس کے پڑھنے کی آواز میں نے گھر میں داخل ہوتے سنی تھی، حضرت عمرؓ کا یہ کلام چونکہ کسی قدر سنجیدہ لہجے میں تھا،اس لئے ان کی بہن کو اوربھی جرأت ہوئی اورانہوں نے کہا کہ پہلے تم غسل کرو تو ہم تم کو اپنا صحیفہ پڑھنے کے لئے دے سکتے ہیں،حضرت عمرؓ نے اُسی وقت غسل کیا،غسل سے فارغ ہوکر قرآن مجید کی آیات جن اوراق پر لکھی ہوئی تھیں لے کر پڑھنے لگے،ابھی چند ہی آیات پڑھی تھیں کہ بے اختیار بول اُٹھے: "یا شیریں کلام ہے، اس کا اثر میرے قلب پر ہوتا جاتا ہے" یہ سنتے ہی حضرت خبابؓ جو اندر چھپے ہوئے تھے،فوراً باہر نکل آئے اورکہا: اے عمرؓ مبارک ہو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا تمہارے حق میں قبول ہوگئی، میں نے کل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے کہ الہی عمرؓ بن الخطاب یا ابو جہل دونوں میں سے ایک کو ضرور مسلمان کردے،پھر خبابؓ نے سورۂ طہ کا پہلا رکوع پڑھ کر سنایا،حضرت عمرؓ سورۂ طہ کی آیات سُن رہے تھے اور رو رہے تھے،عمرؓ نے خبابؓ سے کہا کہ اسی وقت مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو؛چنانچہ وہ اُسی وقت حضرت عمرؓ کو دارارقم کی طرف لےکرچلے،اس وقت بھی ننگی تلوار حضرت عمرؓکے ہاتھ میں تھی مگر یہ تلوار حضرت عمرؓ کے ہاتھ میں اُس ارادے سے نہ تھی جو بہن کے گھر تک ان کے دل میں تھا۔ دارِ ارقم کے دروازے پر پہنچ کر حضرت عمرؓ نے دستک دی،صحابہ کرام جو اندر تھے انہوں نے حضرت عمرؓ کے ہاتھ میں شمشیر برہنہ دیکھ کر دروازہ کھولنے میں تامل کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ عمر ننگی تلوار لے کر دروازہ پر کھڑا ہے،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو،حضرت حمزہؓ بھی موجود تھے،انہوں نے کہا آنے دو،اگر ارادہ نیک ہے تو خیر، ورنہ اُسی کی تلوار سے اس کا سر اڑادیا جائے گا؛چنانچہ دروازہ کھولا گیا،حضرت عمر اندر داخل ہوئے ،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو گھر میں داخل ہوتے ہوئے دیکھ کر آگے بڑھے اوران کا دامن پکڑ کر زور سے جھٹکادیا اورفرمایا کہ اے عمرؓ کیا تو باز نہ آئے گا،حضرت عمرؓ نے جواباً عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں ایمان لانے کے لئے حاضر ہوا ہوں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنتے ہی جوشِ مسرت میں بلند آواز سے اللہ اکبر کہا اورساتھ ہی تمام صحابہؓ نے جو اس وقت دارارقم میں موجود تھے اس زور سے اللہ اکبر کہا کہ مکہ کی پہاڑیاں گونج گئیں،حضرت حمزہؓ،اورحضرت عمرؓ کے مسلمان ہونے سے مسلمانوں کو بڑی تقویت حاصل ہوگئی۔ حضرت عمرؓ مسلمان ہونے کے بعد سیدھے ابو جہل کے گھر پہنچے، دروازہ پر دستک دی، وہ باہر آیا اوربہ خندہ پیشانی اہلاً وسہلاً ومرحباً کہا اورآنے کی وجہ دریافت کی،حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ مانتا ہوں،یہ سنتے ہی ابو جہل جھلا کر اندر چلا گیا اوریہ بھی واپس چلے آئے،مدعاان کا یہ تھا کہ اس سب سے بڑے دشمنِ اسلام کو اپنے مسلمان ہونے کی خبر دے کر جلاؤں۔ حضرت عمرؓ نے مسلمان ہوتے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ ہم کو اب پوشیدہ طور پر گھروں میں نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ؛بلکہ علانیہ خانہ کعبہ میں نمازیں پڑھنی چاہیے؛چنانچہ قریش میں سےاول اول جو کوئی مانع ہوا حضرت عمرؓ نے اُس کا مقابلہ کیا،پھر بلا روک ٹوک مسلمان خانہ کعبہ میں نماز پڑھنےلگے اور اسلام مکہ میں علانیہ اورآشکار اطور پر ظاہر ہوگیا،یہ نبوت کے چھٹے سال کے آخری مہینے کا واقعہ ہے ،حضرت عمرؓ کی عمر اس وقت ۳۳ سال کی تھی،حضرت عمرؓ کے مسلمان ہونے کے وقت مکہ میں مسلمانوں کی تعداد چالیس ہوگئی ملک حبش میں جو مسلمان تھے وہ اس تعداد کے علاوہ تھے۔