انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت عبد اللہ بن عباسؓ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس ممتاز جماعت سے تعلق رکھتے تھے جو مکثرینِ فتویٰ کے لقب سے معروف تھی، نہ صرف حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ خود کے فتاوی صادر کیا کرتے تھے؛ بلکہ وقت پڑنے پر اس معاملہ میں وہ خلفاء راشدین اور عام اربابِ افتاء کی معاونت بھی کیا کرتے تھے، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کثرت سے فتاوی دئیے کہ علامہ ابن حزم کے مطابق خلیفہ مامون الرشید کے پڑ پوتے ابوبکر محمد بن موسی نے فتاوی ابن عباس ۲۰/جلدوں میں جمع کیے ہیں۔ (الاحکام فی اصول الاحکام:۵/۵۲) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی صلاحیتِ اجتہاد کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت عمرؓ جیسی لسان الحق شخصیت آپ رضی اللہ عنہ کی رائے و فتوے پر اعتماد کیاکر تی تھی، کبھی کبھار حضرت عمر رضی اللہ عنہ یوں فرماتے: ہمارے سامنے پیچیدہ مقدمات پیش ہوتے ہیں اور تم ہی انہیں اور ان جیسے دیگر مسائل کو حل کروگے (اسدالغابہ:۳/۲۹۱) بعض دفعہ مشورہ طلب کر تے ہوئے فرماتے: غوطہ خور ذرا غوطہ تو لگاؤ (سیراعلام النبلاء:۳/۳۴۶) حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : میں نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ پیچیدہ مسائل پیش آنے پر ابن عباس رضی اللہ عنہ کوطلب کرتے اور صرف یہ فرماتے کہ ایک پیچیدہ مسئلہ پیدا ہو گیا ہے؛ حالانکہ امیر المؤ منین کے اردگردبدری صحابہ رضی اللہ عنہم موجود ہوتے (طبقات ابن سعد: ۲/۳۶۹) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی اجتہادی صلاحیت کو اس سے بھی جِلا ملی کہ کبارِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اجتہادات پر بھی ان کی گہری نظر تھی، عبدا للہ بن عبدا للہ بن عتبہ بن مسعود کا کہنا ہے کہ: حضورﷺ کی احادیث نیزحضرت ابوبکر حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم عدالتی فیصلوں کا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر علم رکھنے والا اور انہیں سمجھنے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ (الاستیعاب:۳/۲۹۱) غرض کسی مجتہد کے لئے جن علوم میں دسترس و مہارت درکار ہوتی ہے ، ان سارے علوم میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ یگانۂ روز گار اور استاذِ زمانہ تھے ، مجتہد کی تعریف علمائے حدیث مثلاً بغوی ، رافعی علامہ نووی رحمہم اللہ وغیرہ نے ان لفظوں میں کی ہے: مجتہد وہ شخص ہے جو قرآن ، حدیث ، مذاہب ِسلف ، لغت ، قیاس ، ان پانچ چیزوں میں کافی دستگاہ رکھتا ہو یعنی مسائل شرعیہ کے متعلق جس قدر قرآن میں آیتیں ہیں جو حدیثیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں ، جس قدر علم لغت درکار ہے سلف کے جو اقوال ہیں قیاس کے جو طرق ہیں قریب کُل کے جانتاہو ؛ اگر ان میں سے کسی میں کمی ہے تو وہ مجتہد نہیں ہے اور اس کو تقلید کرنی چاہیے۔ (عقدالجید، از:حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ:۷) مجتہد کے یہ معیارات اگر چہ بعد کے وضع کردہ ہیں؛ تاہم اگر انکی روشنی میں بھی ابن عباس رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ حقیقیت کھل کر سامنے آتی ہے کہ یہ پیمانے ابن عباس رضی اللہ عنہ جیسی شخصیات کے وصفِ اجتہاد کی پیمائش کے مطلق قابل نہیں؛ بلکہ حق بات یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ جیسی شخصیات کو مد نظر رکھتے ہوئے بعد کے علماء نے نہایت مائل بہ تنزل ہو کر مجتہد کے لئے اخیر درجہ کے طور پر یہ معیارات مقرر کئے ہیں ۔ ذیل میں ہم چند نظائر کے ذکر کر نے پر اکتفاء کرتے ہیں جن سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی قابلیتِ اجتہاد وقیاس کا اظہار ہوتاہے: آیات قرآنی سے استنباط حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا کہنے لگا : میرے چچا نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارے چچا نے اللہ کی نافرمانی کی اس لئے اس نے اس کو شرمسار کردیا اور شیطان کی فرمانبرداری کی اس لئے اس نے اس کے لئے کوئی نکلنے کی راہ نہیں چھوڑی ، سائل نے اس پر کہا: اگرکوئی شخص اس کی بیوی کا حلالہ کرکے اس کو واپس کردے تو ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو شخص دھوکہ دیتا ہے اللہ تعالی خود اسے دھوکہ کے برے انجام سے دوچار کردیتے ہیں۔ (مصنف: ابن ابی شیبہ:۵/۱۱) ایک شخص نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاق دے دی ، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تین طلاق تم پر اسے حرام کر دے گی اور باقی طلاقیں تم پر بوجھ رہیں گی ، تم نے تو اللہ کی آیات کو مذا ق بنالیا ہے۔ (مصنف عبدا لرزاق:۶/ ۳۹۸۔ بیہقی: ۷/۷ ۳۳) اس موقع پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے فتوی پر سورۂ طلاق کی ابتدائی دو آیات سے دلیل قائم کی، ان آیات میں اشارۃ بتدریج سنبھل سنبھل کر طلاق دینے کی تعلیم نکلتی ہے ، دوسری آیات کے ختم پر ایسے محتاط آدمی کے بارے میں ارشاد ہے : جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے رہائی کی کوئی نہ کوئی سبیل نکال دیتے ہیں ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان آیات کی تلاوت فرمائی؛ پھر نتیجہ اخذ کرتے ہوئے گویا ہوئے: تو اللہ سے ڈرا نہیں، اس لئے تیرے لئے اب کسی قسم کی گنجائش باقی نہیں۔ (موافقات للشاطبی:۱/ ۵۳۵) ایک موقع پر حضرت علیؓ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کوسفارت کا ر بنا کر خوارج کے یہاں روانہ کیا تھا، خوارج نے بڑی نرالی ہی چال چلی ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ثالثی کو مغالطہ خیز طور پر آیتِ قرآنی، "اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ" حکم خدا ہی کا ہے (یوسف:۴۰) کے ذریعہ چیلنج کیا ، اس قرآنی ارشاد کے مطابق حکم و ثالث خدا ہی ہوسکتا ہے ، انسان کا یہ منصب نہیں، حضرت ابن عباس رضی الہ عنہ نے نہایت حاضر دماغی سے ان کی چال انہی پر اُلٹ دی ، فوراً ان آیات کا حوالہ دیا جہاں میاں بیوی کے باہمی نزاع کو چکا نے کے لئے خود حق تعالی نے حکم اور فیصل تجویز کرنے کا حکم دیا (النساء:۳۵) ایسے ہی بروقت ان آیات کی تلاوت فرمائی جہاں شکار ِ حرم یا شکاربحالت ِ احرام میں جزا کی تعیین حکم حضرات کے سپر د گئی ہے (المائدہ:۹۵) پھر نتیجہ اخذ کرتے ہوئے ان برخود غلط خوارج سے کہا: کیاامتِ مسلمہ کا باہمی نزاع ، زوجین کے نزاع سے بھی غیر اہم ہے؟ کیا امتِ مسلمہ کا خون صید حرم سے ارزاں ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی اس مدلل وکامیاب سفارت سے تقریباً ایک چوتھائی لوگ بغاوت سے تائب ہوئے۔ (اعلام الموقعین لابن قیم:۱/ ۲۳۴۔ ۲۳۶) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حیرت انگیز طور پر چاشت کی نماز کا ثبوت قرآن سے پیش کیا: فرماتے تھے یہ نماز قرآن میں ہے لیکن غواص ہی اس میں غوطہ لگا سکتا ہے اور پھر آپ رضی اللہ عنہ نے سورۂ نور کی آیت۳۶/ تلاوت فرمائی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ:۱/۱۰۹) احادیث ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے استنباط آپ رضی اللہ عنہ نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت کی ہے کہ جوشخص کوئی طعام خرید ے تو جب تک اسے اپنے قبضہ میں نہ لے لے، اس وقت تک اسے آگے فروخت نہ کرے، یہ روایت بیان کرنے کے بعد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا اجتہاد بیان فرمایا کہ میں ہرچیز کو طعام کے بہ منزلہ قرار دیتا ہوں (مسلم شریف:۳۸۱۰) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ روایت نقل کی کہ آنحضرتﷺ کا نکاح حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حالتِ احرام میں ہوا تھا؛ البتہ تعلقاتِ زن وشوہر بعد از فراغتِ احرام قائم ہوئے تھے (بخاری، کتاب الحج، باب تزویج المحرم) اس روایت سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بحالتِ احرام نکاح وانکاح ( خود نکاح کرنا اور کسی کا نکاح کرانا) کے جواز کا عمومی فتوی صادر فرمایاتھا، اس بابت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کاارشاد ہے: محرم اگر شادی کرلے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ:۱/ ۱۶۴) مجتہد اور قیاس مجتہد کے لئے قیاس کے بغیر چارہ کار نہیں، بہت سے لوگ قیاس کا نام سن کر بھڑک اٹھتے ہیں اور غلط فہمی کی بنا پر قیاس سے ثابت شدہ احکام و مسائل کو ایک متوازی شریعت خیال کرتے ہیں؛ حالانکہ دو باہم مماثل مواقع کو حکم میں یکساں رکھنا یا مشترک علت کی بنا پر فرع کو اصل پر قیاس کرنا عین تقاضائے فطرت ہے، حضرت عمررضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کو مسائل ومقدمات کے فیصل کرنے کے لیے جو ہدایت نامہ لکھ بھیجا تھا اس میں بعینہ قیاس کے اسی طریق کی بالتفصیل تلقین موجود ہے۔ (ازالۃ الخفاء:۲/۱۸۷) میراث کے معاملہ میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے جب قیاس کے معروف ضابطے کی خلاف ورزی کر تے ہوئے میت کے دادا کو بمنزلۂ ایک بھائی کے قرار دیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سخت نکیر فرمائی تھی اور کہا تھا: کیا زید اللہ سے ڈرتے نہیں کہ پوتے کو (بیٹے کی عدم موجودگی میں) بیٹے کے درجہ میں رکھتے ہیں اور دادا کو (باپ کی عدم موجودگی میں) بہ منزلۂ باپ نہیں رکھتے۔ (اعلام الموقعین:۱/ ۲۳۶) مجتہد کا ایک دقیق طرزِ اجتہاد مجتہد کایہ طرزِ عمل بھی کوتاہ بینوں کے لئے کھٹک کا باعث بنتا ہے کہ ایک طرف کسی مسئلہ میں بظاہر صریح حدیث موجود رہتی ہے پھر بھی مجتہد کسی ظاہر ی وجہ کے بغیر اس سے صرفِ نظر کرتاہے اور بظاہر اس حدیث کے خلاف رائے کواختیار کرتا ہے ایسے مواقع پر مشتعل ہوکر مجتہد کو مطعون کرنے کے بجائے مجتہد کے مدارکِ اجتہاد کو بدقتِ نظر ملاحظہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ایسی جگہوں پر عموماً شریعت کے ایسے اصولِ عامہ اور نصوص قاطعہ مجتہد کے پیش نظر رہتے ہیں کہ جن پر محض ایک جزوی دلیل کو فوقیت دینا، وہ اپنے اجتہاد کی روسے نا درست سمجھتا ہے بلکہ اس کی دانست میں یہ اصولِ عامہ، دلیل مخالف کی ظنیت کے پہلو کو قوی اور اس کے حدّاعتبار کو گھٹادیتے ہیں ، کوئی شخص تحمل و کشادہ ذہنی سے مجتہد کے اس طرزِ اجتہاد کا جائزہ لے تو اس کے سامنے منطقی اعتبار سے دوہی راستے رہ جاتے ہیں، یاتو مجتہد کا مصیب ومبنی برحق ہونا عیاں ہوجاتا ہے یا مخطیٔ وخطاوار ہونا سمجھ میں آتا ہے، شرافت و دیانت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ آدمی پہلی صورت میں مجتہد کی رائے بجان ودل قبول کرلے اور دوسری صورت میں مجتہد کو اپنے اجتہاد میں معذور سمجھے، خواہ مخواہ اپنے زعم میں اس پر مخالفتِ حدیث کا الزام نہ دھرے کہ یہ غیر شریفانہ و غیر عالمانہ عمل ہے ۔ عام قارئین کے لیے یہ انکشاف موجبِ حیرت ہوگا کہ اجتہاد کا یہ طرز عمل کوئی نیا نہیں ، صحابہ ہی سے چلا آرہا ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی اسی خاص نہج کے زیر اثر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ان دوروایات کو قبول نہیں کیا تھا۔ (الف)نیند سے بیدار ہونے والا شخص برتن میں اپنا ہاتھ ڈبونے سے قبل ہاتھ کو برتن کے باہر ضرور ہی دھولے، روایت کا عموم اس کو مقتضی ہے کہ؛ خواہ ہاتھ پر ناپاکی کا اثر موجود ہو یا نہ ہو، برتن خواہ چھوٹا اُٹھانے جھکانے کے قابل ہو یا بڑا حوض جیسا ہو، ہاتھ دھونا بہر حال ضروری ہے۔ (ب)آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم ہوگا خواہ یہ پنیر کا ایک ٹکرا کیوں نہ ہو ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پہلی روایت کو رفعِ حرج کی عام نصوص کے معارض ہونے کے وجہ سے قابلِ اخذ نہیں سمجھا اور دوسری روایت کو آگ کے خلقی خاصہ سے ہم آہنگ نہ ہونے کی بناپر اختیار نہیں کیا۔ (الموافقات:۳/۱۹۲) چنانچہ ایک دفعہ فرمایا: آگ تو اللہ کی نازل کردہ برکت ہے یہ کسی چیز کو نہ حلال کر تی ہے اور نہ ہی حرام آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم نہیں ہوتا۔ (مصنف عبدالرزاق:۱/ ۱۶۸۔ کنزالعمال:۹/۴۹۳) قارئین کرام! یہ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ہمہ گیروجامع الکمالات شخصیت کی علمی زندگی کے چند نمونے وخاکے ہیں، جونہ صر ف اجمالی طور پر حضرت رضی اللہ عنہ کی شخصیت کے تعارف میں معاون ثابت ہو ں گے؛ بلکہ مجتہدینِ امت کے تعلق سے پائی جانے والی عام غلط فہمیوں کے ازالہ کا بھی باعث بنیں گے۔