انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حوروں کے حق مہر نیک اعمال کے بدلہ میں پاک بیویاں: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ۔ (البقرۃ:۲۵) ترجمہ:اور خوشخبری سنادیجئے! آپ ان لوگوں کوجوایمان لائے اور نیک کام کئے اس بات کی کہ بے شک ان کے واسطے بہشتیں ہیں کہ چلتی ہوں گی ان کے نیچے سے نہریں، جب کبھی دیئے جائیں گے رزق وہ لوگ ان بہشتوں میں سے کسی پھل کی غذا توہربار میں یہی کہیں گے کہ یہ تووہی ہے جوہم کوملا تھا اس سے پہلے اور ملے گا بھی ان کودونوں بار کا پھل ملتا جلتا اور ان کے واسطے ان بہشتیوں میں سے بیویاں ہوں گی صاف پاک کی ہوئی اور وہ لوگ ان بہشتیوں میں ہمیشہ کوبسنے والے ہوں گے۔ دنیا کا چھوڑنا آخرت کا حق مہر ہے: حضرت یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دنیا کوچھوڑنا مشکل ہے؛ مگرآخرت کے انعامات کافوت ہوجانا بہت زیادہ شدید ہے؛ حالانکہ دنیا کا چھوڑنا آخرت کا حق مہر ہے۔ (تذکرۃ القرطبی:۲/۴۷۸) مسجد کی صفائی حورعین کا حق مہر ہے: حدیث: جناب حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ سید دوعالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: كَنْسُ المَسَاجِدِ مُهُورُ الحُورِ الْعِينِ۔ (تذکرۃ القرطبی:۲/۴۷۸) ترجمہ:مسجدوں کوصاف کرنا حورعین کے حق مہر ہیں۔ راستہ کی تکلیف دہ چیز ہٹانا اور مسجد صاف کرنا: حدیث: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ياعلي أعط الحور العين مهورهن إماطة الإذى عن الطريق وإخراج القمامة من المسجد فذلك مهر الحور العين۔ (مسندالفردوس دیلمی:۸۳۳۵) ترجمہ:اے علی! حورعین کے حق مہر ادا کرو راستہ سے تکلیف دہ چیزوں کوہٹادینے سے اور مسجد سے کوڑا کرکٹ نکالنے کے ساتھ؛ کیونکہ یہ حورعین کے مہر ہیں۔ کھجوروں اور روٹی کے ٹکڑا کا صدقہ: حدیث:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مهور الحور العين قبضات التمر وفلق الخبز۔ (تذکرۃ القرطبی:۲/۱۷۹، بحوالہ ثعلبی) ترجمہ:مٹھی بھرکھجوریں اور روٹی کا ٹکڑا (صدقہ کرنا) حورعین کا حق مہر ہیں۔ معمولی سے صدقات کرنے میں جنت کی حوریں: حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہرایک شخص فلاں کی بیٹی فلاں سے کثیرمال کے حق مہر کے بدلہ میں شادی کرلیتا ہے؛ مگرحورعین کوایک لقمہ اور کھجور اور معمولی سے کپڑے (کے صدقہ نہ کرنے کی وجہ) سے چھوڑ دیتا ہے۔ (تذکرۃ القرطبی:۲/۴۷۹) چارہزار ختمات قرآن کے بدلہ میں حورعین خریدنے والے کی حکایت: حضرت محمدبن نعمان مقری رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت جلاالمقری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں مکہ میں مسجدحرام میں حاضر تھا کہ ہمارے پاس سے ایک طویل قدکاٹھ کا ضعیف حبشہ کا بوڑھا شخص گذرا پرانے کپڑے پہن رکھے تھے، حضرت جلااس کے پاس تشریف لے گئے اور کچھ دیر اس کے پاس رہے پھرہمارے پاس لوٹ آئے اور فرمایا کیا تم اس شیخ کوجانتے ہو؟ ہم نے عرض کیا نہیں، فرمایا اس نے اللہ تعالیٰ سے قرآن پاک کے چارہزار ختمات کے عوض میں ایک حورعین خریدی ہے، جب اس نے چارہزار ختمات پورے کرلیے تھے تواس نے اس حور کے زیور اور ملبوسات سمیت خواب میں دیکھا اور پوچھا تم کس کے لیے ہو؟ اس نے کہا: میں وہی حور ہوں جس کوآپ نے اللہ تعالیٰ سے چار ہزار ختماتِ قرآن کے بدلہ میں خریدا ہے یہ تواس کی قیمت ہوگئی آپ نے مجھے تحفہ کیا دیا ہے؟ اس شیخ نے کہا کہ ایک ہزار ختماتِ قرآن کا، حضرت جلا رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: چنانچہ اب یہ اس کے تحفہ میں لگا ہوا ہے (یعنی اس کے لیے ایک ہزار ختماتِ قرآن پورے کررہا ہے)۔ (تذکرۃ القرطبی:۲/۴۷۹) حوروں کا طلبگار کیوں سوئے..... حکایت: حضرت سحنون رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مصر میں ایک آدمی رہتا تھا نام اس کا سعید تھا اس کی والدہ عبادت گذار خواتین میں سے تھیں جب یہ شحص رات کونوافل کے لیے کھڑا ہوتا تھا تواس کی والدہ اس کے پیچھے کھڑی ہوا کرتی تھیں جب اس آدمی پرنیند کا غلبہ ہوتا تھا اور نیند کےغلبہ سے اونگھنے لگتا تھا تواس کی والدہ اس کوآواز دیکر کہتی تھیں: اے سعید! وہ شخص نہیں سوتا جودوزخ سے ڈرتا ہے اور حسین وجمیل حوروں کونکاح کا پیغام دے رکھا ہو؛ چنانچہ وہ اس سے مرعوب ہوکر سیدھا ہوجاتا تھا۔ (تذکرۃ القرطبی:۲/۴۷۹) تہجد حور کا حق مہر ہے: حضرت ثابت رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ میرے والد گرامی رات کی تاریکی میں کھڑے ہوکے عبادت کرنے والے حضرات میں سے تھے، یہ فرماتے ہیں میں نے ایک خواب میں ایک ایسی عورت کودیکھا جودنیا کی عورتوں سے میل ومشابہت نہیں کھاتی تھی، میں نے اس سے پوچھا تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا میں حور ہوں اللہ تعالیٰ کی باندی ہوں، میں نے کہا تم اپنا نکاح مجھ سے کردو؟ اس نے کہا آپ میرے نکاح کا پیغام میرے پروردگار کے حضور پیش کریں اور میرا حق مہرادا کریں، میں نے پوچھا تمہارا حق مہر کیا ہے؟ تواس نے کہا: طویل تہجد پڑھنا؛ اسی مواقعہ کے لیے لوگوں نے یہ اشعار کہے ہیں ؎ ياخاطبَ الحُور ِفي خِدْرها وطالبًا ذاك على قَدرِها انْهضْ بجد ٍلا تَكُن وانيًا وجاهدْ النفسَ على صَبرها وجانب الناس وارفضهم وحالف الوحدة في ذكرها وقُمْ إذا الليلُ بَدَا وَجْهُه وصم نهارًا فهو من مهرها فلو رأت عيناك إقبالها وقد بدت رمانتا صدرها وهي تماشي بين أترابها وعقدها يشرق في نحرها لهان في نفسك هذا الذي تراه في دنياك من زهرها ترجمہ: (۱)اے حور کواس کی باپردہ جگہ میں نکاح کا پیغام دینے والے! اور اس کواس کے عالی مقام کے باوجود اس کی طلب کرنے والے! (۲)کوشش کرکے کھڑا ہوجا سست مت ہو اور اپنے کوصبر کا جہاد سکھا (۳)اورلوگوں سے کنارہ کش رہ بلکہ ان کوچھوڑ دے اور حور کی فکر میں تنہائی میں رہنے کی قسم کھالے (۴)جب رات اپنا چہرہ دکھائے توتوکھڑا ہوجا (عبادت کے لیے) اور دن کوروزہ رکھ یہ اس حور کا حق مہر ہے (۵)جب تیری آنکھیں اس کواپنے سامنے دیکھیں گی اور اس کے سینے کے انار ظاہر نظر آئیں گے (۶)اور یہ اپنی ہم جولیوں کے ساتھ چل رہی ہوگی اور اس کا ہار اس کے سینے پرچمک رہا ہوگا (۷)توجوکچھ تیرے نفس نے دنیا میں دنیا کی رعنائیں اور حسن وجمال کودیکھا تھا سب بے قیمت نظر آئے گا۔ عبادت کے ساتھ بیدار رہنے سے حوروں کے ساتھ عیش نصیب ہوگا: حضرت مضرالقاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک رات مجھ پرنیند نے ایسا غلبہ کیا کہ میں اپنا وظیفہ پورا کئے بغیر سوگیا توخواب میں ایک لڑکی کودیکھا گویا کہ اس کا چہرہ ماہ تمام ہے اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے اس نے کہا: اے شیخ! آپ اس کوپڑھ سکتے ہیں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ اس نے کہا توآپ اس کوپڑھیں، میں نے اس کوکھولا تواس میں یہ لکھا ہوا تھا، اللہ کی قسم! میں جب بھی اس کویاد کرتا ہوں میری نیند اڑجاتی ہے ؎ ألهتك اللذائذ و الأماني عن الفردوس و الظل الدواني ولذة نومة عن خير عيش مع الخيرات في غرف الجنان تيقظ من منامك إن خيرا من النوم التهجد بالقران ترجمہ: (۱)تجھے لذتوں اور خواہشات نے بے پرواہ کردیا ہے، جنت الفردوس سے اور جھکے جھکے سایوں سے (۲)اور نیند کی لذت نے جنتیوں کے بالاخانوں میں حسین ترین عورتوں کے ساتھ پرتعیش زندگی گزارنے سے (۳)اُٹھ بیدار ہوجا اپنی نیند سے کیونکہ نیند کرنے کے بجائے قرآن پاک کے ساتھ تہجد پڑھنا بہتر اور خوب ہے۔ حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ: حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیں کہ میرے چند وظائف ایسے تھے جن کومیں ہررات پورا کرکے سوجاتا تھا، ایک رات میں ویسے ہی سوگیا تومیں خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک حسن وجمال کی ملکہ حسین لڑکی ہے اس کے ہاتھ میں ایک رقعہ ہے اس نے کہا: کیا آپ اس کواچھی طرح سے پڑھ سکتے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں! تو اس نے وہ رقعہ مجھے دیدیا اس رقعہ میں یہ اشعار لکھے ہوئے تھے ؎ لَهَاكَ النومُ عن طلبِ الأمان وعن تلكَ الأَوانِس ِفي الجنانِ تعيشُ مخلدًا لاموتَ فيها وتلهوُ في الخِيام ِمَعَ الحِسانِ تنبَّهْ مِن منامك إنَّ خَيرًا مِن النَّومِ التهجد بالقُرَانِ ترجمہ: (۱)آپ کونیند نے اپنی (جنت کی) خواہشات کی طلب سے بے فکر کررکھا ہے اور جنتوں میں محبت کرنے والی دوشیزاؤں سے بھی (۲)آپ (جنت میں) ہمیشہ زندہ رہیں گے اس میں موت کبھی نہ آئے گی، آپ خیموں میں حسین وجمیل بیویوں سے کھیل کود کرتے ہوں گے (۳)بیدار ہوجایے اپنی نیند سے؛ کیونکہ نیند سے بہتر تہجد ادا کرنا ہے، قرآن پاک کی قرأت کے ساتھ۔ حسن وجمال میں بنی ٹھنی لڑکیاں اور ان کا حق مہر: شیخ مظہر سعدی رحمۃ اللہ علیہ کے شوق میں برابر ساٹھ سال تک روتے رہے تھے، ایک شب انہو ں نے خواب میں دیکھا کہ گویا نہرکاایک کنارہ مشک خالص سے بہہ رہا ہے اس کے دونوں کناروں پرلؤلؤ کے درخت ہیں جوسونے کی شاخوں کے ساتھ لہلہارہے ہیں، اتنے میں چند لڑکیاں حسن وجمال میں یکتا بن ٹھن کرآئیں اور پکار پکار کریہ الفاظ گانے لگیں: سُبحان المسبّح بكل لسان، سبحانه الموجود بكل مكان، سبحانه الدائم في كل الأزمان، سبحانه سبحانہ۔ ترجمہ:یعنی پاک ہے وہ ذات جس کی ہرزبان پاکی بیان کرتی ہے، پاک ہے وہ ذات جوہرجگہ موجود ہے، پاک ہے وہ ذات جوہرزمانہ میں ہمیشہ رہنے والی ہےپاک ہے وہ، پاک ہے وہ میں نے پوچھا تم کون ہو؟ انہوں نے جواب دیا ہم اللہ سبحانہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں، میں نے پوچھا تم یہاں کیا کررہی ہو؟ توانہوں نے یہ جواب دیا ؎ ذرانا إلهُ الناس ربُّ محمدٍ لقومٍ على الأقدام بالليل قُوَّمُ يناجُون ربَّ العالمين لحقهم وتسري همومُ القومِ والناسُ نُوَّمُ ترجمہ: (۱)ہمیں لوگوں کے معبود اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے اس قوم کے لیے پیدا کیا ہے جورات کو (اپنے پروردگار کے سامنے عبادت کے لیے) قدموں پرکھڑے رہتے ہیں (۲)اپنے (معبود) رب العالمین سے اپنے حق کے حصول کے لیےمناجات کرتے ہیں (اللہ تعالیٰ کے ذوق وشوق میں ان کی یہ حالت ہے کہ) شب کوان کے افکار برابر چلتے رہتے ہیں جب کہ اور لوگ پڑے سورہے ہوتے ہیں۔ میں نے کہا بس بس! یہ کون لوگ ہوں گے؟ جن کی اللہ تعالیٰ آنکھیں ٹھنڈی کریں گے؟ انہوں نے پوچھا: کیا آپ نہیں جانتے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان کونہیں جانتا انہوں نے کہا: وہ لوگ ہیں جوراتوں کوتہجد پڑھتے ہیں اور سوتے نہیں۔ (البدورالسافرہ:۲۰۶۷، بحوالہ ابن ابی حاتم) حوروں اور عورتوں سے مباشرت: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ عِينٍ۔ (الطور:۲۰) ترجمہ:اور ہم ان جنتیوں کی حورعین سے شادی کردیں گے۔ إِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِي شُغُلٍ فَاكِهُونَ۔ (یٰسٰ:۵۵) ترجمہ:اہل جنت (کا حال یہ ہے کہ وہ) بیشک اس روز (جنت میں) اپنے مشغلوں میں خوش دل ہوں گے، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ان کا مشغلہ کنواریوں کے پاس جانا ہوگا۔ (البدورالسافرہ:۲۰۶۲) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی ایسے ہی روایت ہے۔ (البدورالسافرہ:۲۰۶۸) حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ اور امام اوزاعی سے بھی ایسے ہی منقول ہے۔ (البدورالسافرہ:۲۰۶۸) جنتی صحبت بھی کریں گے: حدیث:حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا جنتی صحبت بھی کریں گے؟ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دحاما دحاما ولكن لامني ولامنية۔ (طبرانی کبیر:۷۴۷۹) ترجمہ:یعنی خوب جوش سے صحبت کریں گے نہ مرد کا پانی نکلے گا اور نہ موت آئے گی۔ جنتی کے پاس سومردوں کے برابرطاقت: حدیث:حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: يُعْطَى الْمُؤْمِنُ فِي الْجَنَّةِ قُوَّةٍ مَائِةٍ یَعْنِیْ فِی الْجِمَاع۔ (ترمذی:۲۵۳۶) ترجمہ:مؤمن کوجنت میں سومردوں کی طاقت دی جائے گی، صحبت کرنے میں۔ ایک دن میں سوعورتوں کے پاس جاسکے گا: حدیث:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عرض کیا گیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم جنت میں اپنی بیوی کے پاس جاسکیں گے؟ توآپ نے ارشاد فرمایا:ایک مرد ایک دن میں سوکنواریوں کے پاس جاسکے گا (بزار:۳۵۲۵، طبرانی بسند صحیح:۲/۱۳) اور ایک روایت میں ہے کہ ایک صبح میں سوعورتوں کے پاس جاسکے گا۔ جنابت کستوری بن کرخارج ہوجائے گی: حدیث: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: إِنَّ الْبَوْلَ وَالْجَنَابَةَ عَرَقٌ يَسِيلُ عَنْ تَحْتِ ذَوَانِبِهِمْ إِلَى أَقْدَامِهِمْ مِسْك۔ (طبرانی، البدورالسافرہ:۲۰۷۸) ترجمہ:پیشاب اور جنابت جنتیوں کے پہلوؤں کے نیچے سے پسینہ کی شکل میں بہہ کرقدموں تک جاتے جاتے کستوری بن جائے گا۔ عورت صحبت کے بعد خود بخود پاک ہوجائے گی: حدیث: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أنطأ في الجنة قال: نعم! والذي نفسي بيده دحما دحما فإذا قام عنها رجعت مطهرة بكرا۔ (طبرانی، البدورالسافرہ:۲۰۷۸) ترجمہ: (کسی نے سوال کیا کہ) کیا ہم جنت میں صحبت بھی کریں گے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں! مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! خوب جوش وخروش سے، جب جنتی اپنی بیوی سے فارغ ہوگا تووہ پھرپاک اور کنواری ہوجائے گی۔ وہ پھرکنواریاں ہوجائیں گی: حدیث:حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أهْلَ الجَنّةِ إذا جامَعُوا نِساءَهُمْ عادُوا أبْكاراً۔ (طبرانی صغیر:۱/۹۱) ترجمہ:جنتی جب اپنی بیویوں سے صحبت کرلیں گے تووہ پھرسے وہ کنواری (جیسی) ہوجائیگی۔ ایک دوسرے سیر نہیں ہوں گے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث صور میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: وَاَلَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ مَا أَنْتُمْ فِي الدُّنْيَا بِأَعْرَفَ بِأَزْوَاجِكُمْ وَمَسَاكِنِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ بِأَزْوَاجِهِمْ وَمَسَاكِنِهِمْ فَيَدْخُلُ رَجُلٌ مِنْهُمْ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِمَّا يُنْشِئُ اللَّهُ تَعَالَى وَاثْنَتَيْنِ مِنْ وَلَدِ آدَمَ لَهُمَا فَضْلٌ عَلَى مَنْ أَنْشَأَ اللَّهُ بِعِبَادَتِهِمَا فِي الدُّنْيَا يَدْخُلُ عَلَى الْأُولَى مِنْهُمَا فِي غَرْفَةٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ عَلَى سَرِيرٍ مِنْ ذَهَبٍ مُكَلَّلٍ بِاللُّؤْلُؤِ عَلَيْهِ سَبْعُونَ زَوْجًا أَيْ صِنْفًا مِنْ سُنْدُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ ثُمَّ يَضَعُ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهَا ثُمَّ يَنْظُرُ إلَى يَدِهِ مِنْ صَدْرِهَا مِنْ وَرَاءِ ثِيَابِهَا وَجِلْدِهَا وَلَحْمِهَا وَإِنَّهُ لَيَنْظُرُ إلَى مُخِّ سَاقِهَا كَمَا يَنْظُرُ أَحَدُكُمْ إلَى السِّلْكِ فِي قَصَبَةِ الْيَاقُوتِ كَبِدُهُ لَهَا مِرْآةٌ وَكَبِدُهَا لَهُ مِرْآةٌ، فَبَيْنَا هُوَعِنْدَهَا لَايَمَلُّهَا وَلَاتَمَلُّهُ وَلَايَأْتِيهَا مَرَّةً إلَّاوَجَدَهَا عَذْرَاءَ مَايَفْتُرُ ذَكَرُهُ وَلَايَشْتَكِي قُبُلَهَا فَبَيْنَا هُوَكَذَلِكَ إذْنُودِيَ إنَّاقَدْ عَرَفْنَا أَنَّك لَاتَمَلُّ وَلَانَمَلُّ إلَّاأَنَّهُ لَامَنِيَّ وَلَامَنِيَّةَ أَلَاإنَّ لَکَ أَزْوَاجًا غَيْرَهَا فَيَخْرُجُ فَيَأْتِيهِنَّ وَاحِدَةً بَعْدَ وَاحِدَةٍ كُلَّمَا جَاءَ وَاحِدَةً قَالَتْ وَاَللَّهِ مَافِي الْجَنَّةِ شَيْءٌ أَحْسَنُ مِنْك أَوْمَافِي الْجَنَّةِ شَيْءٌ أَحَبُّ إلَيَّ مِنْکَ۔ (الزواجر عن اقتراف الكبائر،الْأَمْرُ الرَّابِعُ فِي الْجَنَّةِ وَنَعِيمِهَا وَمَايَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ:۳/۴۱۰،۴۱۱، موقع الإسلام) ترجمہ:مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے تم لوگ دنیا میں اپنی بیویوں کواور اپنے مکانات کوجنتیوں سے ان کے اپنی بیویوں اور ان کے محلات کے جاننے سے زیادہ نہیں جانتے، جنتیوں میں سے ہرشخص اپنی ان بہتربیویوں کے پاس جائے گا جن کواللہ تعالیٰ نے (اپنی قدرت تخلیق سے) نئے سرے سے پیدا کیا ہوگا ان میں سے دوبیویاں اولادِ آدم میں سے ہوں گی ان دوبیویوں کی ان سب عورتوں پرفضیلت ہوگی جن کواللہ تعالیٰ نے نئے سرے سے پیدا کیا ہوگا وہ اس لیے کہ ان عورتوں نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی، جنتی مرد ان دونوں عورتوں میں سے ایک کے پاس یاقوت کے بالاخانہ میں سونے کے پلنگ پرداخل ہوگا اس پلنگ کولؤلؤ کا تاج پہنایا گیا ہوگا، اس بیگم پرموٹے اور باریک ریشم کے سترجوڑے ہوں گے، جنتی اس کے کندھوں کے درمیان (یعنی پشت پر) اپنا ہاتھ رکھے گا تواس کواس کے سینے کی طرف سے کپڑوں، جلد اور اس کے گوشت کے پیچھے سے نظر آئیگا اور وہ اپنی بیوی کی پنڈلی کے گودے کودیکھتا ہوگا، جس طرح سے تم میں کاکوئی شخص یاقوت کے موتی کے سوراخ میں دھاگے کودیکھتا ہے، مرد کا سینے کے اندر کا حصہ عورت کے لیے آئینہ ہوگا اور عورت کے سینے کے اندر کا حصہ مرد کے لیے آئینہ ہوگا؛ اسی دوران وہ مرد اس بیوی کے پاس ہوگا، نہ یہ اس سے سیرہورہا ہوگا نہ وہ اس سے سیرہورہی ہوگی، یہ جب بھی اس سے مباشرت کریگا وہ اس کوکنواری (جیسی) ملے گی نہ مرد کا نفس ڈھیلا ہوگا نہ عورت کی اندام نہانی کوتھکاوٹ اور تکلیف ہوگی یہ دونوں اسی حالت میں ہوں گے کہ اس کوآواز دی جائے گی: ہم جانتے ہیں کہ نہ توسیر ہوتا ہے نہ تجھ سے (بیوی کی) سیری ہوتی ہے؛ کیونکہ (وہاں نہ مرد کا پانی ہوگا نہ عورت کا کہ اس خروج سے خواہش میں فتور آجائے) بلکہ اس کی اور بیویاں بھی ہوں گی یہ جنتی ان عورتوں میں سے ہرایک کے پاس ایک ایک کرکے جائے گا یہ جب بھی کسی عورت کے پاس جائے گا وہ یہ کہے گی کہ اللہ کی قسم! جنت میں آپ سے زیادہ حسین کوئی چیز نہیں اور جنت میں میرے نزدیک آپ سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں۔ ایک خیمہ کی کئی حوریں: حدیث: حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: إِنَّ لِلْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْمَةً مِنْ لُؤْلُؤْ مُجَوَّفَةٍ طُولُهَا سِتُّونَ مِيلًا لِلْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ فِيهَا أَهْلُونَ فَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ لَايَرَى بَعْضُهُمْ بَعْضًا۔ (بخاری:۳۲۴۳، فی بدء الخلق) ترجمہ:مؤمن کے لیے جنت میں خولدار لؤلؤ کا ایک خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی، اس میں مؤمن کی گھروالیاں ہوگی یہ ان کے پاس جاتا ہوگا یہ گھروالیاں (اس حالت میں) ایک دوسرے کونہیں دیکھتی ہوں گی۔ بالطف بیویاں: حدیث: حضرت لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم جنت میں کس کس نعمت سے لطف اندوز ہوں گے؟ توآپ نے ارشاد فرمایا: عَلَى أَنْهَارٍ مِنْ عَسَلٍ مُصَفًّى، وَأَنْهَارٍ مِنْ كَأْسٍ، مَابِهَا مِنْ صُدَاعٍ، وَلانَدَامَةٍ، وَأَنْهَارٍ مِنْ لَبَنٍ لَمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ، وَمَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ، وَبِفَاكِهَةٍ، لَعَمْرُ إِلَهِكَ مَاتَعْلَمُونَ، وَخَيْرٌ مِنْ مِثْلِهِ مَعَهُ، وَأَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ، قُلْتُ يَارَسُولَ اللَّهِ: وَلَنَا فِيهَا أَزْوَاجٌ مُصْلِحَاتٌ، قَالَ: الصَّالِحَاتُ لِلصَّالِحِينَ، تَلَذُّوا بِهِنَّ مِثْلَ لَذَّاتِكُمْ فِي الدُّنْيَا، وَيَلْذَذْنَكُمْ، غَيْرَ أَنْ لاتَوَالُدَ۔ (قطعۃ من حدیث طویل اخرجہ الطرانی فی الکبیر:۱۹/۲۱۳۔ وعبداللہ بن احم فی المسندللامام احمد:۴/۱۴) ترجمہ:صاف شفاف شہد کی نہروں سے اور (شراب کی) ایسی نہروں کے پیالوں سے جن میں نہ تونشہ ہوگا نہ ندامت ہوگی او رایسے پانی سے جوکبھی خراب نہ ہوگا اور ایسے میوؤں سے تمہارے خدا کی قسم جن کوتم جانتے ہو؛ جب کہ وہ ان میوؤں سے بہت بہتر ہوں گے اور پاک صاف بیویوں سے میں عرض کیا یارسول اللہ! کیا ہمارے لیے جنت میں اس قابل بیویاں ہوں گی؟ توآپ نے ارشاد فرمایا نیک مردوں کے لیے نیک عورتیں ہوں گی وہ ان بیویوں سے اسی طرح سے لطف اندوز ہوں گے جس طرح سے تم دنیا میں لطف اندوز ہوتے ہو اور وہ تم سے لطف اندوز ہوں گی بس یہ بات ضروری ہے کہ وہاں توالد تناسل نہیں ہوگا۔ قربت کی لذت جسم میں سترسال تک باقی رہے گی: حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جنتی کی شہوت اس کے بد ن میں سترسال تک جاری رہے گی جس کی وجہ سے ان کوطہارت کی ضرورت پڑے، نہ ہی ضعف ہوگا اور نہ ہی قوت میں کمی ہوگی؛ بلکہ ان کی قربت بطورِ لذت اور نعمت کے ہوگی جس میں ان کوکسی بھی قسم کی کوئی آفت اور دکھ نہ ہوگا۔ (کتاب التوحید ابن خزیمہ:۱۸۶۔ زادالمعاد:۳/۶۷۷) امام ابن ابی الدنیا نے حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کے مذکورہ ارشاد کواس طرح سے نقل کیا ہے کہ جنت میں مرد کا قد سترمیل کے برابر ہوگا اور عورت کا تیس میل کے برابر ہوگااس عورت کے سرین خشک زمین کی طرح پیاسے ہوں گے، مرد کی شہوت عورت کے جسم میں سترسال تک باقی رہے گی جس کی اس کولذت محسوس ہوگی۔ (صفۃ الجنۃ ابن ابی الدنیا:۲۷۱) ہردفعہ دیکھنے سے نئی خواہش پیدا ہوگی: حضرت ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنت میں جوچاہیں گے وہی ہوگا وہاں اولاد نہ ہوگی، فرمایا کہ جنتی آدمی جب ایک مرتبہ اہلیہ کودیکھے گا تواس سے اس کی خواہش ہوگی پھردوبارہ دیکھے گاتواور خواہش پیدا ہوگی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ:۱۳/۱۱۶) (۱۲۵۰۰)بیویوں سے قربت: حضرت عبدالرحمن بن سابط رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جنتی مرد کی پانچ سوحوروں سے اور چارہزار کنواریوں اور آٹھ ہزار (دنیا کی) شادی شدہ عورتوں سے شادی کی جائیگی، ان عورتوں میں سے ہرایک سے وہ جنتی دنیا کی عمر کے برابر بغلگیر ہوگا ان دونوں (بغلگیر ہونے والوں) میں سے کوئی ایک دوسرے سے کوئی روک ٹوک نہیں کریگا (نہ مرد بیوی کونہ بیوی مرد کو) اس کے بعد اس سے قربت کریگا اور وہ دنیا کی تمام عمر کے برابر بھی اپنی قربت کوپورا نہ کریگا (بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصہ اس کے پاس جائے گا) اس طرح سے اس کے پاس کوئی برتن (کھانے پینے وغیرہ کا) پیش کیا جائے گا اور اس کے ہاتھ میں رکھا جائے گا اس سے بھی دنیا کی تمام عمر کے برابر لذت حاصل کرنے میں سیری نہیں ہوگی۔ (صفۃ الجنۃ ابن ابی الدنیا:۲۷۲، البعث والنشور) جنتی ایک سے ایک حور کی طرف پھرتا رہے گا: حدیث:حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: حَدَّثَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: يَدْخُلُ الرَّجُلُ عَلَى الْحَوْرَاءِ فَتَسْتَقْبِلُهُ بِالْمُعَانَقَةِ وَالْمُصَافَحَةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: فَبِأَيِّ بَنَانٍ تُعَاطِيهِ!، لَوْأَنَّ بَعْضَ بَنَانِهَا بَدَا لَغَلَبَ ضَوْءُهُ ضَوْءَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، وَلَوْأَنَّ طَاقَةً مِنْ شِعْرِهَا بَدَتْ لَمَلَأَتْ مَابَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا، فَبَيْنَا هُوَمُتَّكِئٌ مَعَهَا عَلَى أَرِيكَةٍ إِذْأَشْرَفَ عَلَيْهِ نُورٌ مِنْ فَوْقِهِ، فَيَظُنُّ أَنَّ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ قَدْ أَشْرَفَ عَلَى خَلْقِهِ، فَإِذَاحَوْرَاءُ تُنَادِيهِ: يَاوَلِيَّ اللَّهِ أَمَالَنَا فِيكَ مِنْ دُولَةٍ؟ فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتِ يَاهَذِهِ؟ فَتَقُولُ: أَنَامِنَ اللَّوَاتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿ وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ﴾ فَيَتَحَوَّلُ عِنْدَهَا، فَإِذَاعِنْدَهَا مِنَ الْجَمَالِ وَالْكَمَالِ مَالَيْسَ مَعَ الْأُولَى، فَبَيْنَا هُوَمُتَّكِئٌ مَعَهَا عَلَى أَرِيكَتِهِ إِذْأَشْرَفَ عَلَيْهِ نُورٌ مِنْ فَوْقِهِ، فَإِذَا أُخْرَى تُنَادِيهِ: يَاوَلِيَّ اللَّهِ أَمَالَنَا فِيكَ مِنْ دُولَةٍ؟ فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتِ؟ فَتَقُولُ : أَنَا مِنَ اللَّوَاتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ: ﴿ فَلَاتَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاأُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ فَلَايَزَالُ يَتَحَوَّلُ مِنْ زَوْجَةٍ إِلَى زَوْجَةٍ۔ (مجمع الزوائد:۱۰/۴۱۸، بحوالہ طبرانی فی الاوسط۔ البدورالسافرہ:۲۰۳۹۔ ترغیب وترہیب:۴/۵۳۳) ترجمہ:مجھے حضرت جبریل نے بیان فرمایا کہ جنتی حور کے پاس داخل ہوگا تووہ اس کا معانقہ اور مصافحہ سے استقبال کرے گی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں (آپ کومعلوم ہے کہ) وہ ہاتھ کی کیسی (حسین) انگلیوں سے استقبال کرے گی؟ اگراس کے ہاتھ کی کوئی انگلی ظاہر ہوجائے توسورج اور چاند کی روشنی پرغالب آجائے؛ اگراس کے بالوں کی ایک لٹ ظاہر ہوجائے تومشرق ومغرب کے درمیانی حصہ کواپنی خوشبو سے معطر کردے، یہ جنتی اسی حالت میں اس عورت کے ساتھ مسہری پربیٹھا ہوگا کہ اوپر سے ایک نور کی چمک پڑے گی جنتی یہ گمان کریگا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی طرف جھانکا ہے؛ لیکن وہ ایک حور ہوگی جو اس کوپکار کرکہے گی اے ولی اللہ! کیا ہماری باری نہیں آئے گی؟ وہ پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ان عورتوں میں سے ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ ہمارے پاس مزید بھی ہے چنانچہ وہ جنتی اس عورت کی طرف پھرجائے گا اس کوجب دیکھے گا تواس کے پاس جمال وکمال ایسا ہوگا جوپہلی کے پاس نہیں تھا؛ چنانچہ وہ اسی حالت میں اس کے ساتھ مسہری پرٹیک لگاکے بیٹھے گا کہ اس کے اوپرسے ایک نور کی چمک پڑے گی اور وہ دوسری ہوگی جوپکار کرکہے گی اے ولی اللہ! کیا ہماری باری نہیں آئے گی؟ وہ پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ان عورتوں میں سے ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: فَلَاتَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاأُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ کوئی بھی نہیں جانتا کہ ان مؤمنوں کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کیا چھپا کررکھا گیا ہے؛ چنانچہ وہ اسی طرح سے ایک بیوی سے دوسری کی طرف گھومتا رہے گا۔ نئی حور اپنے پاس بلائے گی: حضرت ثابت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنتی سترسال تک بڑے مزے سے ٹیک لگاکر بیٹھا ہوگا اس کے پاس اس کی بیویاں بھی موجود ہوں گی اور نوکر چاکر بھی، اچانک وہ عورتیں جنہوں نے اپنے خاوند کونہیں دیکھا ہوگا کہیں گی اے فلاں! کیا ہمارا آپ میں کوئی حق نہیں ہے۔ (صفۃ الجنۃ ابن ابی الدنیا:۲۹۱) حوروں کی جسامت کا ایک اندازہ: حدیث: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیددوعالم جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: وَإِنَّ لَهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لاَثْنَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً سِوَى أَزْوَاجِهِ مِنَ الدُّنْيَا، وَإِنَّ الْوَاحِدَةَ مِنْهُنَّ لَيَأْخُذ مَقْعَدُهَا قَدْرَ مِيلٍ مِنَ الأَرْضِ۔ (نہایہ فی الفتن والملاحم۔ مسنداحمد:۲/۵۷۳) ترجمہ:جنتی مرد کے لیے حورعین میں سے بہتر بیویاں ہوگی، اس کی دنیا کی عورتوں کے علاوہ اور ان (مذکورہ عورتوں) میں سے ہرایک کی سرین زمین پرایک میل کے برابر (موٹی) ہوگی۔ نوٹ:اس روایت پرمحدثین نے جرح کی ہے کہ مشہور احادیث کے خلاف ہے جن میں یہ وارد ہےکہ جنت کی عورتوں کا قد ساٹھ ہاتھ کا ہوگا؛ کیونکہ اس حدیث میں عورت کے سرین کا ایک میل کے بقدر ہونا ان روایات کی نفی کررہا ہے، ہاں اس حدیث میں اور ان احادیث میں یہ مطابقت ہوسکتی ہے کہ حورعین ہی کی صرف یہ جسامت ہوباقی حوروں اور عورتوں کی ایسی نہ ہو؛ نیز بعض روایات میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ جنتی مردوں کے قدنوے میل ہوں گے اور عورتوں کے اسی میل اور بعض روایات میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ جنتی مردوں کے قد ساٹھ میل ہوں گے اور عورتوں کے تیس میل اگرروایات کوقابل تسلیم سمجھا جائے توپھراس روایت کا سمجھنا آسان ہوجاتا ہے اور اگریہاں میل سے مراد یہ لیا جائے کہ عربی میں دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کی مقدار کو بھی میل کہتے ہیں توپھر یہ حدیث مشہور اور صحیح روایات کے تقریباً مطابق ہوجائیگی؛ مگر قَدْرَ مِيلٍ مِنْ الْأَرْضِ کے لفظ اس معنی کی تائید نہیں کررہے ہیں، واللہ اعلم۔ حمل اور ولادت: حدیث: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب سیدنا محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: إِذَااشْتَهَى الْمُؤْمِنُ الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ وَسِنُّهُ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ كَمَا يَشْتَهِي۔ ترجمہ:جب کوئی جنتی جنت میں اولاد کی خواہش کریگا تواس کا حمل اور ولادت اور عمر کا بڑھنا اسی وقت ہوجائے گا جس طرح سے وہ چاہے گا۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اہلِ علم نے اس مسئلہ میں اختلاف فرمایا ہے بعض کا موقف یہ ہے کہ جنت میں قربت توہوگی مگراولاد نہیں ہوگی یہ موقف حضرت طاؤس، حضرت مجاہد اور حضرت امام نخعی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کا ہے اور حضرت اسحاق بن ابراہیم اس مذکورہ حدیث کے متعلق فرماتے ہیں کہ جب جنتی اولاد کی خواہش کریگا تواولاد ہوگی مگر وہ اولاد کی خواہش ہی نہیں کریگا، حدیث لقیط میں بھی ایسے ہی ہے کہ جنت والوں کی کوئی اولاد نہیں ہوگی۔ (سنن ترمذی:۲۵۶۳، فی الجنۃ باب ۲۳، بتمامہ) علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اور ایک جماعت یہ فرماتی ہے کہ بلکہ جنت میں پیدائش اولاد کا سلسلہ ہوگا لیکن یہ انسان کی خواہش پرموقوف ہوگا اسی کواستاذ ابوسہل صعلوک رحمۃ اللہ علیہ نے راجح قرار دیا ہے میں کہتا ہوں کہ اس موقف کی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث کا پہلا حصہ تائید کرتا ہے جس کوامام ہناد بن سری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب الزہد میں روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا یارسول اللہ! اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک اور سرور کامل ہے توکیا جنت والوں کے ہاں اولاد ہوگی؟ توآپ نے ارشاد فرمایا: إِذَااشْتَهَى..الخ (یعنی جب وہ چاہے گا توہوگی نہیں چاہے گا تونہیں ہوگی)۔ (البدورالسافرہ:۲۰۸۴۔ صفۃ الجنۃ ابونعیم:۲۵۷) علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں کہ امام اصبہانی نے ترغیب میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جب جنتی آدمی اولاد کی خواہش کریگا تواس کا حمل، اس کا دودھ پلانا، اس کا دودھ چھڑانا اور جوان ہونا ایک ہی وقت میں ہوجائے گا۔ (ترغیب وترہیب ابونعیم اصبہانی۔ بدورالسافرہ:۲۰۸۵۔ البعث والنشور:۴۴۲) اس حدیث کوامام بیہقی نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ (بدورالسافرہ:۲۰۸۶، بحوالہ بیہقی فیالبعث والنشور:۴۴۰۔ حادی الارواح:۳۱۳) علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ یہ حدیث حضرت لقیط کی سابقہ حدیث کے مخالف نہیں ہے جس میں توالد تناسل کی نفی ہے؛ کیونکہ اس نفی کا معنی یہ ہے کہ جس طرح سے دنیا میں جماع کے بعد اکثر طور پرحمل ہوجاتا ہے یہ نہیں ہوگا بلکہ اگرخواہش ہوگی تواولاد ہوگی ورنہ نہیں ہوگی او ریہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت کے بہت وسیع ہونے کی وجہ سے اس کوآباد کرنے کے لیے ایک نئی مخلوق پیدا کریں گے جس کوجنت میں بسائیں گے (ہوسکتا ہے کہ وہ ان جنتیوں کی اولاد ہو جوجنت میں ان سے پیدا ہوئی ہو اس کواللہ تعال باقی ماندہ خالی جنت میں بسائیں ) اس اعتبار سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے کہ جنتیوں کے درمیان توالد تناسل کا سلسلہ نہ ہو۔ (بدورالسافرہ :۴۰۸۷) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حوروں سے ملاقات اور گفتگو: حدیث:حضرت ولید بن عبدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام سے فرمایا: ياجبريل قف بي على الحور العين فأوقفه عليهن فقال: مَنْ أَنْتَ؟ فَقُلْنَ: نَحْنُ جواري قوم کرام حلوا فلم يظعنوا، وشبوا فلم يهرموا، ونقوا فلم يدرنوا۔ (حادی الارواح:۳۰۴، بحوالہ لیث بن سعد) ترجمہ:اے جبریل مجھے حورعین کے پاس لے چلو توحضرت جبریل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوان کے پاس لے گئے توآپ نے ان سے پوچھا تم کون ہو؟ انہوں نے عرض کیا ہم بڑی شان والے حضرات کی گھروالیاں ہیں جو (جنت میں) داخل ہوں گے اور نکالے نہیں جائیں گے، جوان رہیں گے کبھی بوڑھے نہ ہوں گے، صاف ستھرے رہیں گے کبھی میلے کچیلے نہ ہوں گے۔ یہ حوریں کیسے کیسے خیموں میں رہتی ہیں: حدیث:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لماأسري بی دخلت الجنة موضعا يسمى البيدخ عليه خيام اللؤلؤ، والزبرجد الأخضر، والياقوت الأحمر، فقلن: السلام عليك يارسول الله، قلت: ياجبريل ماهذا النداء؟ قال: هؤلاء المقصورات في الخيام يستأذنون ربهن في السلام عليك، فأذن لهن فطفقن يقلن: نحن الراضيات فلانسخط أبدا، نحن الخالدات فلانظعن أبدا، وقرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم الآية حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ۔ (البعث والنشور:۳۷۶۔ درمنثور:۶/۱۶۱) ترجمہ:جب مجھے معراج کرائی گئی تومیں جنت میں ایک جگہ پرداخل ہوا جس کا نام (نہربیدخ) تھا اس پرلؤلؤ، زبرجد، اخضر اور یاقوت، احمر کے خیمے نصب تھے ان (میں رہنے والی حوروں) نے کہا: السلام علیکم یارسول اللہ (اے اللہ کے رسول! آپ پرسلام ہو) میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کن کی آواز تھی؟ انہوں نے فرمایا یہ وہ حوریں ہیں جوخیموں میں رکی ہوئی ہیں انہوں نے اپنے رب تعالیٰ سے آپ کوسلام کہنے کی اجازت طلب کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو (اس کی) اجازت عطاء فرمائی ہے؛ پھروہ حوریں جلدی سے بول پڑیں: ہم راضی رہنے والی ہیں (اپنے خاوندوں پر) کبھی ناراض نہ ہونگی، ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی (جنت سے) نکالی نہ جائیں گے؛ پھرجناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ (الرحمن:۷۲) حوریں ہیں خیموں میں رکی رہنے والیاں۔ حوروں کے ترانے اور نغمہ سرائیاں: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنت میں جنت کی لمبائی کے برابر ایک نہر ہے جس کے دونوں کناروں پرکنواری لڑکیاں آمنے سامنے کھڑی ہیں اتنی خوبصورت آواز میں نغمہ سرائی کرتی ہیں کہ ان جیسی مخلوقات نے خوبصورت آوازیں نہیں سنیں حتی کہ جنتی اس سے زیادہ لذت کی کوئی چیز نہ دیکھیں گے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ یہ حسین آواز میں کس چیز کی نغمہ سرائی کریں گی؟ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی تسبیح، تقدیس، تحمید اور ثناء کی نغمہ سرائی کریں گی۔ (البدورالسافرہ:۲۰۸۹۔ البعث والنشور:۴۲۵) نغمہ سرائی کرنے والی دوخاص حوریں: حدیث:حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَامِنْ عَبْدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّجَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهِ وَعِنْدَ رِجْلَيْهِ ثِنْتَانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ تُغَنِّيَانِهِ بِأَحْسَنِ صَوْتٍ سَمِعَتِ الْجِنُّ وَالْإِنْسُ، وَلَيْسَ بِمَزَامِيرِ الشَّيْطَانِ، وَلَكِنْ بِتَحْمِيدِ اللَّهِ وَتَقْدِيسِهِ۔ (البعث والنشور:۴۲۱۔ البدورالسافرہ:۲۰۹۰) ترجمہ:جوشخص بھی جنت میں داخل ہوگا اس کے سراور پاؤں کی طرف دو حورعین بیٹھیں گی جواس کے لیے سب سے زیادہ خوبصورت آواز میں جس کوجن وانسان نے نہیں سنا ہوگا نغمہ سرائی کریں گی یہ شیطان کے باجے نہیں ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی تقدیس بیان ہوگی۔ جنتی بیویوں کا ترانہ: حدیث: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: إن أزواج الجنة ليغنين لأزواجهن بأصوات مَاسمعها أحد قط إن مما يغنين: نحن الخيرات الحسان أزواج قوم كرام، ينظرون بقرة أعيان، وإن ممايغننين به: نحن الخالدات لایمتن نحن الآمنات فلايخفن نحن المقيمات فلايظعن۔ (معجم طبرانی صغیر:۷۳۴) ترجمہ:جنت کی عورتیں اپنے اپنے خاوندوں کے سامنے ایسی (خوبصورت) آوازوں میں نغمہ سرائی کریں گی جس کوکسی نے اس سے پہلے نہیں سنا ہوگا، جوترانے وہ گائیں گی ان میں سے ایک یہ ہے نحن الخيرات الحسان أزواج قوم كرام، ينظرون بقرة أعيان (ہم بہت اعلیٰ درجہ کی حسین عورتیں ہیں، بڑے درجہ کے لوگوں کی بیویاں ہیں وہ آنکھوں کی ٹھنڈک اور لذت سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہمیں دیکھتے ہیں) وہ یہ ترانہ بھی گائیں گی نحن الخالدات لایمتن نحن الآمنات فلايخفن نحن المقيمات فلايظعن (ہم ہمیشہ زندہ رہیں گی کبھی فوت نہ ہوں گی، ہم ہمیشہ ہرطرح کی تکلیف سے امن میں ہیں کبھی خوف نہیں کریں گی، ہم دائمی طور پرجنت میں رہنے والیاں ہیں کبھی اس سے نکالی نہ جائیں گی)۔ حوروں کا ترانہ: حدیث:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: إنَّ الحُورَ في الجنّةِ لِیغْنِیْنَ، يقُلْنَ نَحْنُ الحُورُ الحِسانُ ہَدَیْنَا لازْوَاج کِرَام۔ ترجمہ:جنت کی حوریں ترنم سے ترانے کہیں گی وہ کہیں گی نَحْنُ الحُورُ الحِسانُ ہَدَیْنَا لازْوَاج کِرَام ہم حسین وجمیل حوریں ہیں بڑی شان والے خاوندوں کوتحفہ میں عطاء کی گئی ہیں۔ عفافہ کی ہواؤں کے گیت: ارشادِ خداوندی فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ (الروم:۱۵) کی تفسیر میں امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب جنت والے خوبصورت آواز سننا چاہیں گے تواللہ تعالیٰ ہواؤں کوحکم دیں گے ان ہواؤں کا نام عفافہ ہے یہ نرم لؤلؤ کے سرکنڈوں کی گنجان جھاڑیوں میں داخل ہوگی اور اس کوحرکت دے گی تووہ ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے اور جنت میں خوش الحانی پیدا ہوجائے گی جب وہ خوش الحانی کرے گی توجنت میں کوئی درخت ایسا باقی نہیں رہے گا جس کوپھول نہ لگیں۔ (تاریخ کبیر امام بخاری:۷/۱۶۔ البدورالسافرہ:۲۰۹۳) حوروں کا اجتماعی گانا: حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَمُجْتَمَعًا لِلْحُورِ الْعِينِ يُرَفِّعْنَ بِأَصْوَاتٍ لَمْ تَسْمَعْ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهَا، يَقُلْنَ نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَانَبِيدُ وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَانَبْؤُسُ وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَانَسْخَطُ طُوبَى لِمَنْ كَانَ لَنَاوَكُنَّالَهُ۔ (ابن عساکر، البدورالسافرہ:۵/۲۰۹۶) ترجمہ:جنت میں حورعین کی ایک مجلس منعقد ہوا کریگی یہ ایسی خوبصورت آوازوں میں گائیں گی کہ مخلوقات نے ان جیسی نغمہ سرائی کبھی نہ سنی ہوگی یہ کہیں گی فَلَانَبِيدُ وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَانَبْؤُسُ وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَانَسْخَطُ طُوبَى لِمَنْ كَانَ لَنَاوَكُنَّالَهُ ہمیشہ رہنے والیاں ہیں کبھی فنا نہ ہوں گی ہم ہمیشہ نعمتوں میں پلنے والیاں ہیں کبھی خستہ حال نہ ہوں گی، ہم (اپنے خاوندوں پر) راضی رہنے والیاں ہیں کبھی ناراض نہ ہوں گی، بشارت ہو اس کے لیے جوہمارا خاوند بنا اور ہم اس کی بیویاں بنیں۔ دنیاوی عورتوں کا حوروں کے ترانے کا جواب دینا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب حورعین یہ ترانہ کہیں گی تودنیا کی مؤمن عورتیں اس ترانہ کے ساتھ جواب دیں گی: نَحْنُ المُصَلِّياتُ وَماصّلَّيْتُنَّ نحنُ الصَّائِماتُ وَمَاصُمْتُنَّ، وَنَحْنُ الْمُتَوَضَّئاتُ وَمَاتَوَضَّأتْنَ، وَنَحْنُ الْمُتَصَدِّقَاتُ وَمَاتَصَدَّقْتنَّ ہمیں نماز پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ہے تم نے نمازیں نہیں پڑھیں، ہم نے روزے رکھے ہیں تم نے نہیں رکھے، ہم نے وضو کئے ہیں تم نے وضو نہیں کئے، ہم نے زکوٰۃ وصدقات ادا کئے ہیں تم نے نہیں کئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس جواب کے ساتھ یہ دنیا کی عورتیں حورعین پرغالب آجائیں گی۔ (تذکرۃ القرطبی:۲/۷۴۶۔ صفۃ الجنۃ ابن کثیر:۱۱۳، بحوالہ قرطبی) درخت اور حوروں کا حسن آواز میں مقابلہ: ایک قریشی آدمی نے حضرت امام ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ کیا جنت میں گانا بھی ہوگا؛ کیونکہ مجھے خوبصورت آواز بہت پسند ہے توآپ نے فرمایا، جس ذات کے قبضہ قدرت میں ابن شہاب کی جان ہے بالکل ہوگا، جنت میں ایک درخت ہوگا جس کے پھل لؤلؤ اور زبرجد کے ہوں گے اس کے نیچے نوخواستہ لڑکیاں ہوں گی جو خوبصورت انداز سے قرآن پاک کی تلاوت کریں گی اور یہ کہیں گی کہ ہم نعمتوں کی پلی ہیں ہم ہمیشہ رہیں گی کبھی نہ مریں گی، جب وہ درخت اس کوسنے گا تواس کے ایک حصہ دوسرے سے باریک ترنم سے ملاپ کھائے گا تووہ لڑکیاں خوبصورت آواز میں اس کا جواب پیش کریں گی اور جنتی فیصلہ نہیں کرسکیں گے کہ ان لڑکیوں کی آوازیں زیادہ خوبصورت ہیں یادرخت کی؟۔ (ترمذی:۲۵۶۴۔ فی صفۃ الجنۃ، حادی الارواح:۳۲۳) حوروں کی جنت میں سیروتفریح: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ (الرحمن:۷۲) ترجمہ:حوریں ہیں خیموں میں محفوظ۔ اس کا ایک معنی تویہ ہے کہ وہ صرف خیموں میں ہی رہیں گی، دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ صرف اپنے شوہروں کوچاہیں گی ان کے علاوہ کسی غیرکونہیں دیکھیں گی اور خیموں میں رہتی ہوں گی، خیموں میں رہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اپنے اپنے خیموں کونہیں چھوڑیں گی باہرسیروتفریح کے لیے نہیں نکلیں گی بلکہ یہ مطلب ہے کہ عورتیں غائب پردہ میں رہنے والیاں ہوں گی بالکل پاکدامن رہیں گی اور یہ عورتوں کی بہترین صفت ہے اور یہ اسی طرح سے باغات اور تفریحات کے لیے نکلا کریں گی جس طرح سے بادشاہوں کی بیویاں باپردہ محفوظ طریقہ سے سیروتفریح کے لیے نکلتی ہیں، تابعی مفسر حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ان حوروں کے دل لؤلؤ کے خیموں میں صرف اپنے حاوندوں تک محدود رہیں گے۔ (جولات فی ریاض الجنات) جنت کی عورت اپنے حاوند کودنیا میں دیکھ لیتی ہے: حدیث: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لاتُؤذي امرأَة زوجَها في الدنيا إِلاقالت زوجتُهُ من الحور العين: لاتؤذيه، قاتلكِ اللهُ، فإنما هودَخِيل عندك، يوشِكُ يُفَارِقَكِ إِلينا۔ (تذکرۃ القرطبی:۴۸۵، بحوالہ ترمذی) ترجمہ:کوئی عورت جب بھی دنیا میں اپنے خاوند کوایذاء اور تکلیف پہنچاتی ہے تواس کی بیوی حورعین (جنت میں) کہتی ہے اللہ تجھے قتل کرے اس کوایذاء مت دو یہ تمہارے پاس کچھ وقت کا مہمان ہے وہ وقت قریب ہے کہ تمھیں چھوڑ کرہمارے پاس آجائے گا۔ فائدہ:حضرت ابن زید فرماتے ہیں جنت کی عورت کوجب کہ وہ جنت میں موجود ہے کہا جاتا ہے کیا توپسند کرتی ہے کہ تودنیا کے اپنے خاوند کودیکھے تووہ کہتی ہے ہاں (کیوں نہیں؟) چنانچہ اس کے لیے پردہ ہٹادیئے جاتے ہیں اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں حتی کہ وہ اس کودیکھتی اور پہچان رکھتی ہے اور ٹکٹکی لگاکردیکھتی رہی ہے اور یہ کہ وہ اپنے خاوند کودیر سے آنے والا سمجھتی ہے، یہ عورت اپنے خاوند کی اتنا مشتاق ہے جتنا کہ (دنیا کی) عورت اپنے گھر سے کہیں دوردراز گئے ہوئے اپنے خاوند کی واپسی کی مشتاق ہوتی ہے؛ شاید کہ دنیا کے مرد اور اس کی بیوی کے درمیان اس حور کی وہی حالت ہوتی ہے جوبیویوں کی اپنے خاوند کے درمیان نوک جھونک اور جھگڑا ہوتا ہے اور یہ جنت کی حور دنیا کی بیوی پرایسے ناراض ہوتی ہے اور اس کوتکلیف ہوتی ہے اور اسی تکلیف کی بناء پرکہتی ہے تجھ پر افسوس تم اس کوچھوڑ دویہ تمہارے پاس چندراتوں کا دنوں کا مہمان ہے اس کوتکلیف نہ دوہمیں تمہاری اس کوتکلیف دینے سے صدمہ ہوتا ہے یہ توجنت کا شہزادہ ہے۔ (تذکرۃ القرطبی:۴۸۵، البدورالسافرہ:۲۰۵۲، بحوالہ ابن وہب) حوریں حساب وکتاب کے وقت اپنے خاوندوں کودیکھ رہی ہوں گی: حضرت ثابت فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جب اپنے بندے کا قیامت کے دن حساب لے رہے ہوں گے اس وقت اس کی بیویاں جنت سے جھانک کردیکھ رہی ہوں گی جب پہلا گروہ حساب سے فارغ ہوکر (جنت کی طرف) لوٹے گا تووہ عورتیں ان کودیکھ رہی ہوں گی اور کہیں گی اے فلانی! خدا کی قسم! یہ تمہارا خاوند ہے وہ بھی کہے گی ہاں اللہ کی قسم! یہ میرا خاوند ہے۔ (صفۃ الجنۃ ابن ابی الدنیا:۲۹۰) حوریں بیت اللہ طواف کررہی تھیں: سیدنا حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے صاحبزادہ سیدنا محمدمعصوم نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب میں حرم میں داخل ہوا اور طواف شروع کیا تومردوں اور عورتوں کی ایک جماعت کوانتہائی حسین وجمیل شکل وصورت میں دیکھا جومیرے ساتھ شوق اور تقرب شدید کے ساتھ طواف کررہے تھے وہ بیت اللہ کے بوسے بھی لیتےتھے اور ہروقت اسے معانقہ کرتے تھے، ان کے قدم زمین پرتھے اور سرآسمان کوچھورہے تھے، مجھے معلوم ہوا کہ مرد توفرشتے ہیں اور عورتیں حوریں ہیں۔ فائدہ: فرشتوں کا بیت اللہ شریف کا طواف کرنے کا ذکر تواحادیث مبارکہ میں بہت وارد ہوا ہے؛ لیکن حوروں کے طواف کرنے کا ذکر احقر نے کسی حدیث میں نہیں دیکھا؛ مگران کا بیت اللہ شریف کا طواف کرنا کوئی بعید ازعقل بات نہیں ہے اس کی تصدیق میں کوئی حرج نہیں جب کہ اس کی نقل کرنے والے علامہ یوسف بن اسماعیل اکابر اسلاف میں سے گذرے ہیں اور حضرت خواجہ محمدمعصوم سرہندی مجددی کا مقام ولایت اور کثرت کرامات بھی ا کابرین اہل سنت، علماء دیوبند رحمۃ اللہ کے نزدیک مسلم ہے یہ حوروں کا بیت اللہ شریف کا طواف کرنا بطورِ عبادت کے نہیں ہے بلکہ ان کے مقام ومرتبہ کواس شرف کے ساتھ اعلیٰ اور بالا کرنا مقصود ہے اور یہ حوریں جس جنتی مرد کی زوجیت میں جائیں گی ان کے اضافہ شرف میں حوروں کوطواف کرایا جاتا ہوگا؛ تاکہ جنتی بیوی کوبیت اللہ کی زیارت اور طواف کا شرف حاصل ہو اور حوروں کے حسن ومرتبہ کمال اور اتمام ہو (واللہ اعلم)۔ دنیا کے میاں بیوی جنت میں بھی میاں بیوی رہیں گے: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ جوشخص کسی عورت سے شادی کرتا ہے جنت میں بھی وہ عورت اس کی بیوی ہوگی۔ (ابن وہب البدورالسافرہ:۲۰۶۱) فائدہ:بشرطیکہ وہ دونوں حالت اسلام پرفوت ہوئے ہوں اور بیوی نےشوہر کے مرنے کے بعد کسی اور مرد سے نکاح نہ کیا ہو۔ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت اسماء، حضرت زبیر بن عوام کی بیوی تھیں، حضرت زبیران پرسختی فرماتے تھے یہ اپنے والد صاحب کی خدمت میں شکایت لے کرآئیں توآپ نے ان کوتسلی دیتے ہوئے فرمایا: اے میری بیٹی! صبرکرو! اگرکسی عورت کا خاوند نیک ہوپھروہ اس کوداغ مفارقت دے جائے (یعنی فوت ہوجائے) اور اس کی بیوی نے اس کی وفات کے بعد کسی اور شخص سے نکاح نہ کیا ہوتواللہ تعالیٰ ان دونوں میاں بیوی کوجنت میں اکٹھے جمع فرمادیں گے (یعنی وہ جنت میں بھی اسی طرح سے میاں بیوی رہیں گے ان کی ازدواجی حالت ختم نہیں کریں گے)۔ (طبقات ابن سعد، البدورالسافرہ:۲۰۶۲) علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام درداء کو اپنے ساتھ نکاح کرنے کا پیغام بھجوایا توانہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ میں نے (اپنے فوت شدہ خاوند) حضرت ابوالدرداء سے سنا ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کونقل کرتے ہوئے فرمایا: المرأة لآخر أزواجها في الجنة جنت میں عورت اپنے آخری خاوند کی بیوی بنے گی؛ لہٰذا تومیرے بعد (کسی سے) نکاح نہ کرنا۔ (تذکرۃ القرطبی:۲/۴۸۲) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی بیوی سے فرمایا تھا کہ اگرتمھیں یہ بات پسند آئے کہ توجنت میں میری بیوی بنے اور اللہ تعالیٰ ہم دونوں کوجنت میں ملادیں توتم میرے (مرنے کے) بعد اور نکاح نہ کرنا (جنت میں) عورت اپنے دنیا کے آخری خاوند کی بیوی بنے گی۔ (تذکرۃ القرطبی:۱/۴۸۲) کئی خاوندوں والی عورت جنت میں کس کی بیوی بنے گی: وہ عورت جس نے یکے بعد دیگرے دنیا میں دومردوں یاتین مردوں یااس سے زیادہ سے نکاح کئے اور اس کے خاوند فوت ہوتے رہے کسی نے طلاق نہ دی توایسی عورت جنت میں کس کی بیوی بنے گی اس بارہ میں احادیث درجِ ذیل ہیں: حدیث:حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الْمَرْأَةُ لِآخِرِ أَزْوَاجِهَا فِي الْآخِرَةِ۔ (طبقات ابن سعد، البدورالسافرہ:۲۰۶۳) ترجمہ:عورت آخرت میں دنیا کے اپنے آخری خاوند کی بیوی بنے گی۔ فائدہ:یہ راویت تاریخ دمشق ابن عساکر میں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے موقوفا بھی مروی (ابن عساکر، البدورالسافرہ:۲۰۶۴) اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس کواسی طرح سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے؛ مگراس کی سند میں ایک راوی متہم بالوضع ہے۔ (تاریخ بغداد:۹/۲۲۸) فائدہ:ان احادیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ ایسی عورت کا آخری خاوند ہی جنت میں اس کا خاوند ہوگا لیکن درجِ دیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی عورت کواختیار دیا جائے گا وہ ان خاوندوں میں سے جس کوچاہے اپنا خاوند بنالے؛ چنانچہ حدیث میں ہے۔ حدیث: حضرت ام المؤمنین ام حبیبہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ عورت جس کے دنیا میں دوخاوند ہوتے ہیں یہ عورت بھی فوت ہوجاتی ہے اور وہ بھی فوت ہوجاتے ہیں پھریہ سب جنت میں داخل ہوں تویہ عورت کس خاوند کی بیوی بنے گی (پہلے کی یادوسرے کی) توآپ نے ارشاد فرمایا: لِأَحْسَنِهِمَا خُلُقًا كَانَ عِنْدَهَا فِي الدُّنْيَا ذَهَبَ حُسنُ الخُلُقِ بِخيرِ الدُّنيا، والآخِرةِ۔ ترجمہ:جودنیا میں اس کے پاس ان دونوں میں زیادہ اچھے اخلاق سے اس سے پیش آتا تھا، حسن اخلاق دنیا اور آخرت کی دونوں خوبیاں لے گیا۔ (البدورالسافرہ:۲۰۶۵) فائدہ:وہ عورت جس نے دنیا میں کئی مردوں سے نکاح کیا اور سب نے اس کو طلاق دی توعورت کویاتواختیار ہوگا وہ دنیا کے جس صالح مرد کوجنت میں شوہر منتخب کرے گی اس کے ساتھ اس کا نکاح کردیا جائے گا یاخود اللہ تعالیٰ ہی اس کا کسی جنتی سے بیاہ کردیں گے یاکوئی جنتی خود ایسی عورت کواللہ تعالیٰ سے اپنے نکاح میں لانے کی درخواست کریگا ان تینوں صورتوں میں سے پہلی صورت زیادہ قرین قیاس ہے؛ اگرکسی عورت نے دنیا میں یکے بعد دیگر کئی مردوں سے نکاح کئے اور سب نے اس کوطلاق دی مگرآخری نے اس کوطلاق نہ دی یاآخری خاوند کی زندگی میں یہ عورت فوت ہوگئی توقرین قیاس یہی ہے کہ وہ عورت جنت میں اس آخری خاوند کی بیوی بنے گی۔ ان سب صورتوں میں اگرخاوندوں نے اس سے بدسلوکی کی اور یہ ان پرناراض رہی حتی کہ جنت میں ان کی زوجیت میں رہنے کوتسلیم نہ کیا توانشاء اللہ اس کوجنت میں کوئی نعم البدل عطاء کیا جائے گا یااس کوان میں سے کسی ایک کے ساتھ جس کے ساتھ رہنے پروہ راضی ہوجائے رضامند کیا جائے گا، واللہ اعلم۔ دنیا میں جنتی مردوں اور عورتوں کی صفات: حدیث:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ألاَ أخْبِرُكمْ بِرِجالِكمْ مِنْ أهْلِ الجَنَّةِ النَّبِيُّ في الجَنَّةِ والصّدِّيقُ فِیْ الْجَنَّۃِ والشّهِيدُ في الجَنَّةِ والرَّجُلُ يَزُورُ أخاهُ في ناحِيَةِ المِصْرِ لَایَزُوْرُہٗ الاللہ فِیْ الْجَنَّۃِ وَنِسَائِکُمْ مِنْ أهْلِ الجَنَّةِ الوَدُودُ الوَلودُ الّتِي إذَاغَضَبَ أَوْغَضَبَتْ جَائَتْ حَتَّی تَضَعُ یَدَھَا فِیْ یَدِزَوْجہَا ثُمَّ تَقُوْلُ لَاأذوْق غَمضًا حَتَّى تَرْضَى۔ (سنن الکبری امام نسائی، کتاب عشرہ النساء نحو:۱۵۰) ترجمہ:میں تمھیں جنت میں جانے والے مرد حضرات کے متعلق بتلاؤں نبی بھی جنت میں جائیں گے اور وہ شخص بھی جنت میں جائیگا جواللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنے مسلمان بھائی کی ملاقات کے لیے شہر کے کسی کونے میں (سفر کرکے) جائے اور جنت میں جانے والی تمہاری عورتیں یہ ہیں جوخاوند سے خوب محبت کرنے والی ہو بچے زیادہ جننے والی ہو، جب خاوند اس پرناراض ہویاوہ خود ناراض ہوتووہ (خاوند کے پاس) جاکر اپنا ہاتھ اپنے خاوند کے ہاتھ دیدے اور پھرکہے میں اس وقت تک آرام نہیں کرسکوں گی جب تک تومجھ سے راضی نہ ہوجائے۔ فائدہ:صدیق ولایت کے سب سے اعلیٰ مقام پرفائز ہوتا ہے نبی کے مکمل نقشِ قدم پرچلتا ہے اور شہید وہ ہے جواسلام کی حقانیت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کودلائل حقہ کے ساتھ مشاہدہ کرتے ہوئے شریعت اور توحید کی حقانیت کی شہادت دے یاجوغلبہ اور سطوت اسلام اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے اپنی جان کی قربانی پیش کرے اور بھی شہادت کی بہت سی قسمیں ہیں جیسے کسی حادثہ میں مرجانا یہ دوسرے درجہ کی شہادت ہے؛ بہرحال اللہ کی رحمت اپنی مخلوق کے لیے بہت وسیع ہے وہ اپنے فضل سے ہمیں جنت میں اعلیٰ ترین مقامات عطاء فرمائیں، آمین۔ جنت کے درجات باغات اور سائے: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَأَصْحَابُ الْيَمِينِ مَاأَصْحَابُ الْيَمِينِo فِي سِدْرٍ مَخْضُودٍo وَطَلْحٍ مَنْضُودٍo وَظِلٍّ مَمْدُودٍo وَمَاءٍ مَسْكُوبٍo وَفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍo لَامَقْطُوعَةٍ وَلَامَمْنُوعَةٍ۔ (الواقعۃ:۲۷ تا ۳۳) ترجمہ: اور جوداہنے والے ہیں وہ داہنے والے کیسے اچھے ہیں، وہ ان باغوں میں ہوں گے جہاں بے خار بیریاں ہوں گی اور تہ بتہ ہوں گے اور لمبا لمبا سایہ ہوگا اور چلتا ہوا پانی ہوگا اور کثرت سے میوے ہوں گے جونہ ختم ہوں گے اور نہ ان کی روٹ ٹوک ہوگی۔ (مزید آیات) وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِo فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِo ذَوَاتَا أَفْنَانٍo فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِo فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِo فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِo فِيهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجَانِo فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِo مُتَّكِئِينَ عَلَى فُرُشٍ بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ وَجَنَى الْجَنَّتَيْنِ دَانٍo فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِo فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَاجَانٌّo فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِo كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُo فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِo هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّاالْإِحْسَانُo فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِo وَمِنْ دُونِهِمَا جَنَّتَانِo فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِo مُدْهَامَّتَانِo فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِo فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِo فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِo فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌo فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِo فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌo فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِo حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِo فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِo لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَاجَانٌّo فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِo مُتَّكِئِينَ عَلَى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍo فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِo تَبَارَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِo۔ (الرحمن:۴۶ تا ۷۸) ترجمہ:اور جوشخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے (ہروقت) ڈرتا رہتا ہے اس کے لیے (جنت میں) دوباغ ہوں گے؛ سواے جن وانس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکرہوجاؤ گے (اور وہ) دونوں باغ بہت شاخوں والے ہوں گے، سواے جن وانس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے، ان دونوں باغوں میں دوچشمے ہوں گے، کہ بہتے چلے جائیں گے؛ سواے جن وانس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے، ان دونوں باغوں میں ہرمیوے کی دودو قسمیں ہوں گی؛ سواے جن وانس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے، وہ لوگ تکیہ لگائے ایسے فرشوں پربیٹھے ہوں گے جن کے استردبیز (موٹے) ریشم کے ہوں گے اور ان باغوں کا پھل بہت نزدیک ہوگا؛ سوائے جن وانس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے، ان میں نیچی نگاہ والیاں (یعنی حوریں) ہوں گی کہ ان (جنتی) لوگوں سے پہلے ان پرنہ توکسی آدمی نے تصرف کیا ہوگا اور نہ کسی جن نے؛ سوائے جن وانس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے؛ گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں؛ سوائے جن وانس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے، پھلا غایت اطاعت کا بدلہ بجز عنایت کے اور بھی کچھ ہوسکتا ہے؛ سوائے جن وانس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے اور ان دونوں باغوں سے کم درجہ میں دوباغ اور ہیں؛ سوائے جن وانس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے، وہ دونوں باغ گہرے سرسبز ہوں گے؛ سوائے جن وانس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کےمنکر ہوجاؤ گے، ان دونوں میں دوچشمے ہوں گے کہ جوش مارتے ہوں گے، سوائے جن وانس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے، ان دونوں باغوں میں میوے اور کھجوریں اور انار ہوں گے؛ سوائے جن وانس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے، ان میں خوب سیرت خوبصورت عورتیں ہوں گی (یعنی حوریں)؛ سوائے جن وانس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے، وہ عورتیں گوری رنگت کی ہوں گی (اور باغات میں) خیموں میں محفوظ ہوں گی؛ سوائے جن وانس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور) ان جنتی لوگوں سے پہلے ان (حوروں) پرنہ توکسی آدمی نے تصرف کیا ہوگا اور نہ کسی جن نے، اے جن وانس! تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے، وہ لوگ سبز مشجر اور عجیب خوبصورت کپڑوں (کے فرشوں) پرتکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے؛ سوائے جن وانس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے، بڑا بابرکت نام ہے آپ کے رب کا جوعظمت والا اور احسان والا ہے۔ تمام جنت پرسایہ کرنے والا درخت: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ اس کے سایہ میں سوسال تک سوار چلتا رہے گا اگرتم چاہو تو وَظِلٍّ مَمْدُودٍ (الواقعۃ:۳۰) (اور لمبا لمبا سایہ ہوگا) پڑھ لو، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ بات حضرت کعب رضی اللہ عنہ کو پہنچی توفرمایا انہوں نے سچ کہا، اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان پرتورات کونازل کیا اور حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پرقرآن نازل کیا اگرکوئی شخص کسی نوجوان اونٹنی یانوجوان اونٹ پرسوار ہوکر اس درخت کی جڑ کے گرد گھومے تواس کا چکر پورا کرنے سے پہلے بوڑھا ہوکر گرپڑے، اللہ تعالیٰ اس درخت کوخود اپنے ہاتھ سے لگایا اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی، اس درخت کی شاخیں جنت کی چاردیواری سے باہر پڑتی ہیں، جنت کی ہرنہر اس درخت کی جڑ سے نکلتی ہے۔ (زوائد زہد ابن المبارک:۲۶۷) فائدہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس درخت کی تفصیل میں وَظِلٍّ مَمْدُودٍ کی تفسیرمیں فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جواتنی موٹی جڑ پرقائم ہے کہ تیز رفتار سوار اس کی ہرطرف سے سوسال تک چل سکتا ہے، جنت والے اور غرفات (بالاخانوں) والے اور دوسرے جنتی اس درخت کے پاس جمع ہوں گے اور اس کے سایہ میں باہم باتیں کریں گے، فرمایا کہ ان جنتیوں میں سے بعض کوکچھ خواہش ہوگی اور وہ دنیا کی لہولعب کویاد کریں گے تواللہ تعالیٰ جنت سے ایک ہوا بھیجیں گے تووہ درخت جوکچھ دنیا میں لہولعب کی اقسام تھیں سب کے ساتھ حرکت میں آئیگا۔ (صفۃ الجنۃ ابن ابی الدنیا:۴۵۔ حادی الارواح:۲۲۲) ہردرخت کا تنا سونے کا ہے: حدیث:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَافِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ إِلَّاوَسَاقُهَا مِنْ ذَهَبٍ۔ (ترمذی، كِتَاب صِفَةِ الْجَنَّةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَاب مَاجَاءَ فِي صِفَةِ شَجَرِ الْجَنَّةِ ،حدیث نمبر:۲۴۴۸، شاملہ، موقع الإسلام) ترجمہ:جنت میں کوئی درخت ایسا نہیں مگراس کا تنہ سونے کا ہے۔ جنت کی کھجور: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت کی کھجور کے تنے سبززمرد کے ہیں اور کھجور کے تنے کی ٹہنیاں سرخ سونے کی ہوں گی، اس کی شاخیں جنتیوں کے بہترین لباس ہوں گے انہیں میں سے ان کے چھوٹے کپڑے اور پوشاکیں تیار ہوں گی، اس کے پھل مٹکوں اور ڈول کی طرح (بڑے بڑے) ہوں گے دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھے، جھاگ سے زیادہ نرم، ان میں گٹھلی نہیں ہوگی۔ (ترغیب وترہیب:۴/۵۲۳۔ صفۃ الجنۃ ابن ابی الدنیا:۵۰) درختوں کی کچھ مزید تفصیل: حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جنت کی زمین چاندی کی ہے، اس کی مٹی کستوری کی ہے، اس کے درختوں کی جڑیں سونے اور چاندی کی ہیں جن کی ٹہنیاں لؤلؤ زبرجد اور یاقوت کی ہیں، پتے اور پھل ان کے نیچے لگے ہوں گے، جوشحص کپڑے ہوکر کھائے گا تواس کوبھی کوئی دقت نہ ہوگی اور جوشخص بیٹھ کرکھائے گا اس کوبھی کوئی دقت نہ ہوگی اور جوشخص اس کولیٹ کرکھائے گا اس کوبھی کوئی دقت نہ ہوگی۔ (زوائد زہد ابن المبارک:۲۲۹۔ ابن ابی شیبہ:۱۳/۹۵۔ البعث والنشور:۳۱۴) جنت میں درختوں کی لکڑیاں نہیں ہوں گی: حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارا قافلہ صِفاح مقام پراترا تووہاں ایک شخص درخت کے نیچے سورہا تھا سورج کی دھوپ اس تک پہنچنے ہی والی تھی میں نے غلام سے کہا تم اس کے پاس یہ چمڑے کا فرش لے جاؤ اور اس پرسایہ کردو چنانچہ وہ چلاگیا اور اس پرسایہ کردیا جب وہ شخص بیدار ہوا تووہ حضرت سلمان (فارسی رضی اللہ عنہ) تھے؛ چنانچہ میں ان کوسلام کرنے آیا توانہوں نے فرمایا: اے جریر! کیا آپ کومعلوم ہے قیامت کے دن کے اندھیرے کیا چیز ہیں؟ میں نے عرض کیا معلوم نہیں، فرمایا لوگوں کا آپس میں ظلم کرنا؛ پھرانہوں نے ایک چھوٹی سی لکڑی اٹھائی (اتنی چھوٹی) کہ میں اس کوان کی دوانگلیوں کے درمیان میں دیکھ نہیں پارہا تھا، اے جریر! اگرتم اتنی سی لکڑی بھی جنت میں طلب کرو توتمھیں یہ بھی نہ ملے، میں نے کہا: اے ابوعبداللہ! یہ کھجور اور درخت کہاں جائیں گے؟ فرمایا ان کی جڑیں لؤلؤ اور سونے کی ہوں گی جن کے اوپر کے حصوں میں پھل لگے ہوں گے۔ (البعث والنشور:۳۱۶) جنت معتدل ہوگی: حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ جنت معتدل ہوگی نہ اس میں گرمی ہوگی نہ سردی ہوگی۔ (البعث والنشور:۳۱۸) شجرۂ طوبی حدیث:حضرت عتبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے حوض کے متعلق اور جنت کے متعلق سوال کیا؛ پھراس دیہاتی نے سوال کیا کہ جنت میں میوے بھی ہوں گے؟ توآپ نے ارشاد فرمایا ہوں گے اور جنت میں ایک درخت ہوگا جس کوطوبیٰ کا نام دیا جاتا ہے؛ پھرآپ نے کچھ وضاحت فرمائی مگرمجھے معلوم نہیں کہ وہ وضاحت کیا تھی تواس دیہاتی نے کہا ہماری زمین کاکونسا درخت اس کے مشابہ ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا تیری زمین کے کسی درخت سے وہ کچھ بھی مشابہت نہیں رکھتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم (ملک) شام میں گئے ہو؟ اس نے عرض کیا نہیں تو، آپ نے فرمایا: یہ شام کے ایک درخت سے مشابہت رکھتا ہے جس کوناریل کا درخت کہا جاتا ہے یہ ایک ہی تنہ پراٹھتا ہے اس کا اوپر کا حصہ پھل جاتا ہے، اس (دیہاتی) نے عرض کیا: اس کی جڑ کتنی موٹی ہے؟ فرمایا اگرتمہارے رشتہ داروں کا پانچ سالہ (نوجوان) اونٹ (اس کے گرد) چلتا رہے تواس کی جڑ کے گرد نہ گھوم سکے؛ بلکہ (چل چل کر) بوڑھے ہوجانے کی وجہ سے اس کی ہنسلی کی ہڈی بھی ٹوٹ جائے۔ (الفتح الربانی:۲۴/۱۸۷۔ ابن حبان:۱۰/۲۵۱۔ صفۃ الجنۃ ابن کثیر:۷۴) درخت طوبیٰ والے جنتی کون سے ہوں گے؟ حدیث:حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس آدمی کے لیے (طوبیٰ) خوشخبری ہو جس نے آپ کی زیارت کی ہو اور آپ پرایمان لایا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس شخص کے لیے طوبیٰ ہو جس نے میری زیارت کی اور مجھ پرایمان لایا؛ پھرطوبیٰ ہو پھر طوبیٰ ہو جو مجھ پرایمان لایا مگر (میرے وفات پاجانے کی وجہ سے) مجھے نہ دیکھا ہو، تواس شخص نے عرض کیا: یہ طوبیٰ کیا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: جنت میں ایک درخت ہے جس کی مسافت سوسال کی ہے، جنت والوں کے کپڑے اس کے شگوفوں سے نکلیں گے۔ (الفتح الربانی:۲۴/۱۸۷۔ صفۃ الجنۃ ابن کثیر:۷۵۔ مسنداحمد:۳/۱۷۱) جنت طوبیٰ سے کیا کیا نعمتیں ظاہر ہوں گی: حدیث:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک درحت ہے جس کوطوبیٰ کہا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے: تفتقي لعبدي عماشاء، فتفتق له عن فرس بلجامه وسرجه وهيئته كماشاء، وتتفتق له عن الراحلة برحلها وزمامها وهيئتها كما شاء، وعن الثياب۔ (صفۃ الجنۃ ابن ابی الدنیا:۵۴۔ زوائد زہد ابن المبارک:۲۶۵) ترجمہ: میرے بندہ کے لیے وہ جس نعمت کوچاہے پھٹ جا، تووہ جنتی کے لیے گھوڑے کی لگام، زین اور خوبصورتی کے ساتھ ایسے پھٹے گا جیسے وہ (بندہ) چاہتا ہوگا اور یہ درخت جنتی کے لیے ایک سواری کونکالے گا اس کا کجاوہ، لگام اور خوبصورتی کے ساتھ جیسے وہ جنتی چاہے گا اور کپڑوں کوبھی (اپنے سے نکالےگا)۔ جنت کی ہرمنزل میں طوبیٰ کی لڑی جھنکتی ہوگی: حضرت مغیث بن سمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں طوبی جنت میں ایک درخت ہے؛ اگرکوئی شخص لمبی ٹانگوں والی اونٹنی یانوجوان اونٹ پرسوار ہوپھراس کے گرد گھومے تووہ اس جگہ تک نہیں پہنچ سکے گا جہاں سے روانہ ہوا تھا؛ حتی کہ بوڑھا ہوکر مرجائے گا، جنت میں کوئی منزل ایسی نہیں ہے مگراس درخت کی ٹہنیوں میں سے کوئی نہ کوئی ٹہنی جنتیوں پرضرورلٹکتی ہوگی جب جنتی پھل کھانے کا ارادہ کریں گے تویہ ان کے سامنے لٹک جائے گی تووہ جتنا چاہیں گے اس سے کھائیں گے، فرمایا کہ (ان کے پاس) پرندہ بھی پیش ہوگا یہ اس سے خشک گوشت یابھنا ہوا گوشت جیسے جی چاہے گا کھائیں گے پھر (جب کھاچکیں گے تووہ زندہ ہوکر) اڑجائے گا۔ (صفۃ الجنۃ ابن ابی الدنیا:۵۵) طوبیٰ کے پھل اور پوشاکیں: فرمانِ خداوندی (طوبیٰ) کی تفسیر میں حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ (مشہور تابعی مفسر) فرماتے ہیں کہ (طوبیٰ) جنت میں ایک درخت ہے اس پرعورتوں کی چھاتیوں کی طرح کے پھل لگے ہوں گے انہیں میں جنتیوں کی پوشاکیں موجود ہوں گی۔ (صفۃ الجنۃ ابن ابی الدنیا:۵۶۔ صفۃ الجنۃ ابونعیم:۴۱۰) سایہ طوبیٰ میں مل بیٹھنے کے لیے فرشتہ کی دُعا: حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کتنے بھائی ایسے ہیں جواپنے دوسرے بھائی کوملنا چاہتے ہیں مگران کے سامنے مصروفیت حائل ہے، قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں کوایسے گھر میں جمع فرمائے گا جہاں جدائی کا نام ونشان بھی نہ ہوگا؛ پھرحضرت مالک نے فرمایا: اور میں بھی اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتا ہوں اے میرے بھائیو! کہ وہ مجھے تم سے اس گھر میں طوبیٰ کے (درخت کے) سایہ میں اور عبادت گذاروں کی آرام گاہ میں ملادے جہاں کوئی جدائی نہ ہوگا۔ (صفۃ الجنۃ ابن ابی الدنیا:۵۸) فائدہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا حبشی زبان میں طوبیٰ جنت کا نام ہے۔ (صفۃ الجنۃ ابن ابی الدنیا:۵۹۔ تفسیر ابن جریر طبری:۱۳/۹۹) ایک درخت کی لمبائی کی مقدار: حدیث: حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً مُسْتَقِلَّةٌ عَلىٰ سَاق وَاحِد عرض ساقها ثَنْتَانِ وَسَبْعُوْنَ سَنَۃً۔ (صفۃ الجنۃ ابن کثیر:۷۳۔ مسنداحمد:۲/۴۵۵) ترجمہ:جنت میں ایک تنے پرایک درخت قائم ہے، اس کے تنے کی چوڑائی بہتر سال کے (سفرکے) برابر ہے (اس سے تم خود اندازہ کرلو کہ اس کی لمبائی کتنا زیادہ ہوگی)۔ شجرۃ الخلد: حدیث:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے ارشاد فرمایا: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا سَبْعِينَ أَوْمِائَةَ سَنَةٍ هِيَ شَجَرَةُ الْخُلْدِ۔ (مسنداحمد بن حنبل، بَاقِي مُسْنَدِ الْمُكْثِرِينَ،مُسْنَدُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حدیث نمبر:۹۸۷۰، شاملہ، الناشر: مؤسسة قرطبة،القاهرة) ترجمہ:جنت میں ایک درخت ہے تیز ترین سوار اس کے سایہ میں سترسال یاسوسال تک سفر کرسکتا ہے، اس کا نام شجرۃ الخلد (ہمیشہ رہنے والی جنت کا درخت) ہے۔ درخت سدرہ (بیری) کی لمبائی: حدیث:حضرت اسماء بنتِ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کیا اور فرمایا: يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّ الْفَنَنِ مِنْهَا مِائَةَ سَنَةٍ أَوْيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا مِائَةُ رَاكِبٍ شَكَّ يَحْيَى فِيهَا فِرَاشُ الذَّهَبِ كَأَنَّ ثَمَرَهَا الْقِلَالُ۔ (ترمذی،كِتَاب صِفَةِ الْجَنَّةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَاب مَاجَاءَ فِي صِفَةِ ثِمَارِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ،حدیث نمبر:۲۴۶۴، شاملہ، موقع الإسلام) ترجمہ:بہترین سوار اس کی شاخوں کے سائے تلے سوسال تک چلے گا یاسوسال تک سایہ میں بیٹھے گا اس کا فرش سونے کا ہے (اور) اس کے پھل مٹکوں کی طرح ہیں۔ سدرۃ المنتہیٰ پرریشم کا اسٹاک: سدرۃ المنتہیٰ کی تفسیر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ جنت کے درمیان میں ہے اس پرسندس اور استبرق (کے ریشم) کا اسٹاک رہے گا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ:۱۵۸۰۹۔ تفسیر طبری:۲۷/۲۹۔ درمنثور:۶/۱۲۵) درخت سدرہ: حدیث:حضرت سلیم بن عامر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اللہ تعالیٰ ہمیں دیہاتیوں سے ان کے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے) سوالات کرنے سے بہت فائدہ پہنچاتے تھے؛ چنانچہ ایک دن دیہاتی حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک موذی درخت کا ذکر کیا ہے، میرا خیال ہے کہ جنت میں کوئی ایسا درخت ہو جوجنتی کوایذا پہنچائے آپ نے پوچھا وہ کونسا درخت ہے، اس نے کہا بیری کا کیونکہ اس کے کانٹے ہوتے ہیں ایذا دینے والے، توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ: ﴿ فِي سِدْرٍ مَخْضُودٍ﴾ خَضَدَ اللَّهُ شَوْكَهُ فَجَعَلَ مَكَانَ كُلِّ شَوْكَةٍ ثَمَرَةً۔ (حادي الأرواح إلى بلاد الأفراح:۱/۱۱۲، شاملہ،المؤلف:محمد بن أبي بكرأيوب الزرعي أبو عبد الله ،الناشر:دارالكتب العلمية،بيروت) ترجمہ:کیا اللہ تعالیٰ ﴿ فِي سِدْرٍ مَخْضُودٍ﴾ نہیں فرمارہے؟ اللہ نے اس کے کانٹوں کوختم کردیا ہے اور ہرکانٹے کی جگہ پھل لگادیا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پھل، پتے اور نہریں: حدیث:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لَمَّارُفِعْتُ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى فِى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ نَبْقُهَا مِثْلُ قِلاَلِ هَجَرَ وَوَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ يَخْرُجُ مِنْ سَاقِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ قُلْتُ يَاجِبْرِيلُ مَاهَذَا قَالَ أَمَّاالْبَاطِنَانِ فَفِى الْجَنَّةِ وَأَمَّاالظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ۔ (دارِقطنی، الطهارة،حدیث نمبر:۳۶، شاملہ،موقع وزارة الأوقاف المصرية) ترجمہ:جب مجھے (معراج کی شب) ساتویں آسمان میں سدرۃ المنتہیٰ کی طرف لے جایا گیا تواس کے بیرہجرکے مٹکوں کی طرح (بڑے اور موٹے) تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے، اس کے تنہ سے دوظاہری نہریں نکلتی ہیں اور دوباطنی، میں نے پوچھا اے جبریل یہ (باطنی اور ظاہری نہریں) کیا ہیں؟ فرمایا: باطنی توجنت میں ہیں اور ظاہری (نہریں دنیا میں) دریائے نیل اور دریائے فرات ہیں۔ مصیبت والوں کے لیے شجرۃ البلویٰ: حدیث:حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد فرماتے ہوئے سنا: في الجنة شجرة يقال لها شجرة البلوى، يؤتى بأهل البلاء يوم القيامة، فلايرفع لهم ديوان، ولاينصب لهم ميزان، يصب عليهم الأجر صبا، وقرأ: ﴿ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ ۔ (طبرانی بسند ضعیف:۳/۹۶۔ بدورالسافرہ:۱۸۸۱) ترجمہ:جنت میں ایک درخت ہے جس کا نام شجرۃ البلوی ہے، روز قیامت مصیبت زدوں کوپیش کیا جائے گا توان کے اعمالنامہ کو (حساب کتاب کے لیے) پیش نہیں کیا جائے گا اور ان کے لیے ترازوئے اعمال کونصب نہیں کیا جائے گا بس ان پراجروانعام کی بارش ہی ہوتی رہے گی پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت ﴿ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ تلاوت فرمائی (کہ مصیبتوں پرصبر کرنے والوں کوپورا پورا انعام واکرام ملے گا، بغیر حساب وکتاب کے)۔