انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
عِنّین (نامرد) کی امامت درست ہے یا نہیں؟ کسی وجہ سے کوئی شخص نامرد ہو اور اس کے علاوہ اور کوئی مانع نہ ہو تو اس کی اقتداء جائز ہے، اگر کوئی نسبندی کرالے تو یہ اعضائے بدن کو اصلی خلقت سے بگاڑنا ہے، یہ حرام ہے، اس لئے ازراہِ رغبت (اپنی مرضی سے) خصی بننے والے کو امامت کا اعلیٰ منصب عطا کرنا درست نہیں ہے۔ (فتاویٰ محمودیہ:۶/۲۷۷،مکتبہ شیخ الاسلام، دیوبند۔ احسن الفتاویٰ:۳/۲۷۶، زکریا بکڈپو، دیوبند۔فتاویٰ دارالعلوم دیوبند:۳/۱۵۶، مکتبہ دارالعلوم دیوبند، یوپی۔ کتاب الفتاویٰ:۲/۲۹۴،کتب خانہ نعیمیہ، دیوبند )