انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** پل صراط حضرت حذیفہ اور حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاقیامت کے دن صفت امانت اور صلہ رحمی کو(ایک شکل دے کر)چھوڑدیا جائے گا،یہ دونوں چیزیں پل صراط کے دائیں بائیں کھڑی ہوجائیں گی(تاکہ اپنی رعایت کرنے والوں کی سفارش اور نہ رعایت کرنے والوں کی شکایت کریں)تمہارا پہلا قافلہ پل صراط سے بجلی کی طرح تیزی کے ساتھ گزر جائے گا،راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا:میرے ماں باپ آپ پر قربان بجلی کی طرح تیز گزرنے کا کیا مطلب ہے ،آپﷺ نے ارشاد فرمایا:کیا تم نے بجلی کو نہیں دیکھاکہ وہ پل بھر میں گزر کر لوٹ بھی آتی ہے،اس کے بعد گزرنے والے ہوا کی طرح تیزی سے گزریں گےپھر تیز پرندوں کی طرح پھر جواں مردوں کے دوڑنے کی رفتار سے،غرض ہر شخص کی رفتار اس کے اعمال کے مطابق ہوگی اور تمہارے نبیﷺ پل صراط پر کھڑے ہوکرکہہ رہے ہوں گے اے میرے رب ان کو سلامتی سے گزاردیجئے،یہاں تک کہ ایسے لوگ بھی ہوں گےجو اپنے اعمال کی کمزوری کی وجہ سے پل صراط پر گھسیٹ کر چل سکیں گے،پل صراط کے دونوں طرف لوہے کے آنکڑے لٹکے ہوئے ہوں گےجس کے بارے میں حکم دیا جائے گا وہ اس کو پکڑ لیں گے، بعض لوگوں کو ان آنکڑوں کی وجہ سے صرف خراش آئے گی وہ نجات پا جائیں گے اور بعض جہنم میں دھکیل دئے جائیں گے،حضرت ابو ھریرہ فرماتے ہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں ابو ھریرہ کی جان ہے ،بلا شبہ جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت کے برابر ہے۔ (مسلم،باب ادنی اہل الجنۃ منزلۃ فیھا،حدیث نمبر:۲۸۸)