انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** محمد بن کعب القرظی نام ونسب محمد نام، ابوحمزہ کنیت، نسب نامہ یہ ہے، محمد بن کعب بن حبان بن سلیم بن اسد قرظی، ان کے والد کعب بنی قریظہ کے یہودی اور انصار کے قبیلہ اوس کے حلیف تھے، غزوۂ قریظہ میں گرفتار ہوئے لیکن بہت کمسن تھے اس لیے چھوڑ دیے گئے۔ فضل وکمال محمد بن کعب بڑے فاضل اور بلند مرتبہ کے تابعی تھے، ابن حبان کا بیان ہے کہ وہ علم وفقہ میں مدینہ کے فاضل ترین علماء میں تھے (تہذیب التہذیب:۹/۴۲۱) امام نووی لکھتے ہیں کہ وہ بڑے علماء اور ائمہ تابعین میں تھے۔ (تہذیب الاسماء:۱/۹۰) قرآن ان کوقرآن وحدیث میں یکساں کمال حاصل تھا، عجلی ان کو ثقۃٌ، رجلٌ، صالحٌ اور عالم قرآن لکھتے ہیں (تہذیب التہذیب:۹/۴۲۱) عون بن عبداللہ کا بیان ہے کہ میں نے تاویل قرآن کا ان سے بڑا عالم نہیں دیکھا (تہذیب التہذیب:۹/۴۲۱) حافظ ذہبی رحمہ اللہ ان کومفسرقرآن لکھتے ہیں۔ (تہذیب التہذیب:۹/۴۲۱) قرآن میں تدبیر وتفکر قرآن کے معنی میں تدبر وتفکر بھی آپ کی خصوصیت تھی، ایک مرتبہ رات میں سورۂ زلزال اور سورۂ القارعہ پڑھنا شروع کیں اور پوری رات ان کی سورتوں کے معانی ومطالب میں تدبر وتفکر کرتے رہے؛ یہاں تک کہ سفیدۂ صبح نمودار ہوگیا۔ (تہذیب التہذیب:۹/۴۲۱) فرماتے تھے قرآن کے معنی کا مجھ پراس قدر ورود اور ہجوم ہوتا ہے کہ رات کی رات کٹ جاتی ہے؛ پھربھی معانی کا ہجوم اور آمد ختم نہیں ہوتی۔ (دول الاسلام ذہبی:۱/۵۶) تفسیر کی کتابو ںمیں صدہا آیتوں کی تفسیر میں ان کے اقوال ملیں گے، ان میں سے بیشتر میں کوئی نہ کوئی لفظی یامعنوی ندرت ضرور ہوگی۔ حدیث حدیث کے بھی وہ ممتاز حافظ تھے، علامہ ابن سعد ان کوثقہ عالم اور کثیرالحدیث لکھتے ہیں(تہذیب التہذیب:۹/۴۲۱) حدیث میں انھوں نے معاویہ، کعب بن عجرہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، زید بن ارقم، عبداللہ ابن رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عمرو بن العاص، عبداللہ بن یزید خطمی، عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، براء بن عازب رضی اللہ عنہ، جابر رضی اللہ عنہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے استفادہ کیا تھا، ان سے فیض اُٹھانے والوں میں ان کے بھائی عثمان، حکم بن عتبہ، یزید بن ابی زیاد، ابن عجلا، موسیٰ بن عبیدہ، ابومعشر، ابوجعفر حطمی، یزید بن الہاد، ولید بن کثیر، محمدبن المنکدر، عاصم بن کلیب، ایوب بن موسیٰ، ابن ابی الموالی، ابن المقدام اور ہشام بن زیاد وغیرہ لائق ذکر ہیں۔ (تہذیب التہذیب:۹/۴۲۱) فقہ فقہ میں مدینہ کے ممتاز فقہا میں شمار تھا : كان من أفاضل أهل المدينة علماً وفقهاً۔ (تهذيب التهذيب:۹/۳۷۴، شاملہ، موقع یعسوب) ترجمہ:علم وفقہ کے اعتبار سے مدینہ کے فضلا میں تھے۔ زہدوورع زہد وورع کی دولت سے بھی بہرہ مند تھے، ابن سعدان کوعلماء متورعین (تہذیب التہذیب:۹/۴۲۱) میں شمار کرتے ہیں اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ زاہد (تہذیب التہذیب:۹/۴۲۱) ابن عماد حنبلی لکھتے ہیں کہ کعب علم صلاح اور ورع سے متصف تھے۔ (دول الاسلام:۱/۵۶) ان کی پاکبازی کی شہادت ان کی والدہ کی زبانی زندگی کے ہرزمانہ میں نہایت پاکباز اورپاک نفس رہے، باایں ہمہ دعائے مغفرت وتوبہ واستغفار میں ہروقت مشغول رہتے تھے، یہ دیکھ کر ان کی والدہ فرماتی تھیں محمد! اگرتمہاری پاکبازانہ زندگی میرے سامنے نہ ہوتی توتمہاری دن رات کی گریہ زاری اور توبہ واستغفار سے میں سمجھتی کہ تم نے کوئی بہت بڑا گناہ کیا ہے؛ لیکن میں نے تمھیں بچپن میں بھی پاکباز اور پاک نفس پایا اور بڑے ہونے پربھی ویسا ہی پارہی ہوں، محمد بن کعب نے فرمایا: اماں جان! آپ جوسمجھتی ہیں وہ ٹھیک ہے؛ لیکن میں اپنے کوگناہوں سے مامون نہیں پاتا، ہوسکتا ہے کہ مجھ سے کوئی ایسی لغزش ہوگئی ہو، جو خدائے تعالیٰ کے غضب اور ناراضگی کا باعث ہو، اسی وجہ سے میں ہروقت استغفار کیا کرتا ہوں۔ زریں اقوال فرماتے تھے، اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ کوبھلائی کی توفیق دیتا ہے تواس میں تین خصلتیں پیدا کردیتا ہے، دین میں سمجھ، دنیا سے بے رغبتی اور عیب پوشی۔ فرمایا: جوقرآ ن پڑھے گا وہ عقل کی دولت سے ضرور بہرہ ورہوگا، چاہے اس کا سن سوبرس کا کیوں نہ ہوگیا۔ فرمایا کہ کچھ لوگوں کے اُوپر اور کچھ لوگوں کے واسطے زمین روتی ہے؛ پھرفرمایا جولوگ بھلائی کرتے ہیں، ان کے واسطے زمین روتی اور دُعا کرتی ہے اور جولوگ برائی کرتے ہیں اُن کے اُوپرزمین روتی ہے اور بددُعا کرتی ہے؛ پھریہ آیت تلاوت فرمائی: فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ۔ (الدخان:۲۹) ترجمہ:زمین وآسمان ان پرنہیں روئے۔ رونے سے مراد ہمدردی وشہادت ہے، اس لیے کہ قیامت میں ہمارے اعمال کے بارے میں ہرچیز سے شہادت لی جائے گی، آپ سے پوچھا گیا کہ خذلان اور حرمان کی علامت کیا ہے، فرمایا کہ اچھے کوبرا اور برے کواچھا سمجھنا۔ ذکرالہٰی فرماتے تھے کہ اگرترک ذکر کی رخصت دی جاسکتی توسب سے پہلے حضرت زکریا علیہ السلام کورخصت ملتی (کیونکہ ان کواللہ تعالیٰ نے تین دن تک بولنے سے منع کردیا تھا؛ مگراسی کے ساتھ یہ حکم بھی تھا کہ ذکرِالہٰی کثرت سے کرو) پھریہ آیت تلاوت کی: آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزًا وَاذْكُرْ رَبَّكَ كَثِيرًا۔ (آل عمران:۴۱) ترجمہ:تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تین روز تک کسی شخص سے بجز اشارے کے بات نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کا ذکر زیادہ کرو۔ پھرفرمایا کہ دوسرے مجاہدین فی سبیل اللہ کواس کی رخصت مل سکتی تھی؛ لیکن ان کے متعلق فرمایا ہے؛ پھریہ آیت پڑھی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَالَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا۔ (الأنفال:۴۵) ترجمہ:اے ایمان والو! جب تم سے دشمن کی کسی جماعت سے مڈبھیڑ ہوجائے توثابت قدم رہو اور ذکرِ الہٰی زیادہ کرو۔ وفات سنہ۱۰۸ھ میں وفات پائی۔ (شدرات الذہب:۱/۱۳۶)