انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** امیر معاویہؓ کی حمایتِ حق حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے معبد اسلمی کے ہاتھ ابو موسیٰ اشعری کے پاس ایک خط روانہ کیا جس کے جواب میں ابو موسیٰ ؓ نے لکھا کہ اہلِ کوفہ نے میرے ہاتھ پر بیعت کرلی ہے،اکثر نے یہ بیعت برضا ورغبت کی ہے اوربعض نے بہ اکراہ،اس خط کے آجانے سے گونہ اطمینان کوفہ کی طرف سے حاصل ہوا،جب ابو موسیٰؓ کے نام کوفہ کی جانب خط روانہ کیا گیا تھا اُسی وقت دوسرا خط جریر بن عبداللہ اور سبزہ جہمی کے ہاتھ حضرت امیر معاویہؓ کے نام دمشق کی جانب بھیجا گیا،وہاں سے تین مہینے تک کوئی جواب نہیں آیا، حضرت امیر معاویہؓ نے کئی مہینے تک قاصد کو ٹھہرائے رکھا، پھر ایک خط سربمہر اپنے قاصد قبیصہ عبسی کو دے کر جریر بن عبداللہ کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ کیا،اس خط کے لفافہ پر حضرت علیؓ کا پتہ صاف لکھا ہوا تھا یعنی ‘‘من معاویۃ الی علی’’ یہ خط لے کر دونوں قاصد ماہ ربیع الاول ۳۶ ھ کے آخر ایام میں مدینے پہنچے،قاصد نے حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر خط پیش کیا، حضرت علیؓ نے لفافہ کھولا تو اس کے اندر سے کوئی خط نہ نکلا،آپ ؓ نے غصہ کے ساتھ قاصد کی طرف دیکھا،قاصد نے کہا کہ میں قاصد ہوں مجھ کو جان کی امان ہے،حضرت علیؓ نے فرمایا: ہاں تجھ کو امان ہے،اس نے کہا کہ ملکِ شام میں کوئی آپ کی بیعت نہ کرے گا، میں نے دیکھا ہے کہ ساٹھ ہزار شیوخ عثمان غنیؓ کے خون آلودہ قمیص پر رو رہے تھے، وہ قمیص لوگوں کو مشتعل کرنے کی غرض سے جامع دمشق کے منبر پر رکھی ہے،حضرت علیؓ نے فرمایا، وہ لوگ مجھ سے خونِ عثمانؓ کا بدلہ طلب کرتے ہیں ؛حالانکہ میں خون عثمانؓ سے بری ہوں،خدا قاتلینِ عثمانؓ سے سمجھے یہ کہہ کر قاصد کو معاویہؓ کی طرف واپس کردیا۔