انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت فضیل بن عیاضؒ (م:۱۸۷ ھ ۱۔تم راہ ہدایت کا اتباع کرو اگر اس پر چلنے والے کم ہوں تو وہ تمہارے لئے مضر نہیں،گمراہی کے راستہ سے بچو اورہلاکت میں پڑنے والوں کی کثرت سے دھوکہ مت کھاؤ۔ (کتاب الاعتصام للشاطبی:۲/۹۶) ۲۔جو شخص کسی بدعتی کے پاس بیٹھتا ہے اس کو حکمت نصیب نہیں ہوتی۔ (کتاب الاعتصام:۱/۱۰۶) ۳۔جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کے غم کو زیادہ کردیتا ہے اورجب کسی سے نفرت کرتا ہے تو اس کے لئے دنیا کشادہ کردیتا ہے۔ (الرسالۃ القشیریۃ:۱۷) ۴۔لوگوں کے لئے کوئی کام چھوڑنا ریاکاری اورلوگوں کے لئے کوئی کام کرنا شرک ہے۔ (الرسالۃ القشیریۃ:۱۷) ۵۔اگر ساری کی ساری دنیا مجھ پر پیش کردی جائے اورمجھ سے اس کا حساب بھی نہ لیا جائے تو میں اس سے اس طرح بچوں گا جس طرح تم مردار سے گذرتے ہوئے بچتے ہو کہ کہیں وہ کپڑوں کے ساتھ نہ لگے جائے۔ (الرسالۃ القشیریۃ،ص:۱۷) ۶۔اللہ تعالیٰ سے دراصل وہی لوگ پورے پورے راضی ہیں جو اللہ عزوجل کی معرفت حاصل کرچکے ہیں۔ ۷۔سچ اورطلب حلال سے زیادہ کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو آدمی کے لئے زینت،خوشنمائی،عزت ،سجاوٹ اوراس کی خوبصورتی کا ذریعہ ہو۔ ۸۔اصل زہد یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالی کے ہر فیصلہ پر راضی رہے۔ ۹۔جس نے لوگوں کو پہچان لیا وہ راحت پاگیا۔ (مذکورہ اقوال کے لئے دیکھئے:طبقات الصوفیۃ،ص:۱۰) ۱۰۔تم میں جہالت کے باعث دو خصلتیں پائی جائیں گی،بے بات ہنسنا اورصبح صبح سوجانا۔ ۱۱۔مشہور ہے کہ سارا شر ایک گھر میں رکھ دیا گیا اوردنیا کی رغبت اس کی کنجی بنادی گئی اورسارا خیر ایک گھر میں رکھ دیا گیا اوردنیا میں بے رغبتی اس کی کنجی بنادی گئی۔ ۱۲۔تین خصلتیں دل کو سخت کرتی ہیں، خوراک کی کثرت ،نیند کی کثرت اورباتوں کی کثرت۔ ۱۳۔بہترین عمل وہ ہے جو سب سے پوشیدہ ہو،شیطان سے زیادہ محفوظ اور ریا سے زیادہ دور ہو۔ (مذکورہ اقوال کے لئے دیکھئے:طبقات الصوفیۃ:۱۳) ۱۴۔خلوتوں میں یعنی تنہائیوں میں اللہ عزوجل کے ساتھ اپنا معاملہ سچا رکھو؛کیونکہ عزت ورتبہ والا وہ آدمی ہے جسے اللہ تعالی عزت اورسربلندی دے دے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے یعنی اسے محبوب بنالیتا ہے تو مخلوق کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دیتا ہے۔ (حلیۃ الأولیاء : (/۸۸) ۱۵۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ مخلوق تجھ سے اتنا ہی ڈرے گی جتنا تو اللہ سے ڈرے گا۔ (حلیۃ الأولیاء : / ۱۱۰) ۱۶۔پانچ چیزیں بدبختی کی علامت ہیں: ۱۔سنگ دلی ۲۔آنکھوں کا آنسو نہ بہانا ۳۔بے حیائی ۴۔دنیا کی رغبت ۵۔لمبی آرزو ئیں کرنا (الرسالۃ القشیریۃ،ص:۳۰۲) ۱۷۔ایک فاجر اچھے اخلاق والے کی صحبت کو میں ایک عابد برے اخلاق والے کی صحبت سے بہتر سمجھتا ہوں۔ (الرسالۃ القشیریۃ،ص:۳۳۷) ۱۸۔اگر انسان چالیس سال کی عمر تک پہنچ کر بھی گناہ نہ چھوڑے اوراپنی سرکشی سے تائب نہ ہو تو شیطان اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتا ہے کہ نجات نہ پانے والے چہرے پر میں فدا ہوں۔ ۱۹۔منافق کی علامت غیر موجود صفت کی تعریف پر خوش ہونا اورموجود عیوب کی مذمت پر خفا ہونا ہے۔ ۲۰۔جس کا غصہ زیادہ ہے اس کے دوست کم ہیں، جس نے بد معاش پر انعام کیا اس نے بد معاشی کی مدد کی،جس نے کسی سے سوال کیا اس نے ذلت اٹھائی،جس نے بے عمل سے علم سیکھا اس نے جہالت کی ترقی دی، جس نے بے وقوف کو علم پڑھایا اس نے بے فائدہ عمر ضائع کی،جس نے ناشکر گزار پر احسان کیا اس نے اپنی نیکی ضائع کی۔ ۲۱۔انجام کی خرابی ابتدا کی برائی سے ہوتی ہے لہذا ابتدا کواچھا بناؤ۔ ۲۲۔تین چیزوں کی تلاش مت کرو کیونکہ تمہیں یہ نہ مل سکیں گے،ایسا عالم جس کا علم میزان عمل میں پورا ہو نہ پاؤ گے اور بلا علم کے رہو گے،ایسا عامل جس کا اخلاص عمل کے موافق ہو نہ پاؤ گے اوربلا عمل رہو گے،تیسرے بھائی مت ڈھونڈو جو بے عیب ہو کیونکہ یہ بھی نہ پاسکو گے اوربغیر بھائی کے رہو گے۔ ۲۳۔جو شخص جانور پر لعنت کرتا ہے تو جانور کہتا ہے کہ میری اور تیری طرف سے آمین ہو اور جو مجھ اورتجھ میں سے اللہ تعالی کا زیادہ نافرمان ہے اس پر لعنت ہو۔ ۲۴۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اپنا دوست بناتا ہے تو اس کو بہت سی تکالیف دیتا ہے اورجب اپنا دشمن بناتا ہے تو اس پر دنیا فراخ کردیتا ہے۔ ۲۵۔ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا کہ مجھے نصیحت فرمائیں،آپ نے پوچھا کیا تیرا والد فوت ہوگیا ہے؟اس نے کہا ہاں،آپ نے فرمایا جو شخص والد کی وفات کے بعد بھی وعظ کا محتاج ہو اس کو کوئی نصیحت کار گر نہیں ہوسکتی۔ (مخزن اخلاق:۱۱۹ تا۱۲۲) (۱)لوگوں کے واسطے عمل کرنا ریا ہے اور لوگوں کی وجہ سے اس کا چھوڑنا شرک ہے ، اخلاص یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو ان دونوں سے بچائے ۔ (۲)اگر حصول علم نیک نیت سے ہو تو اس سے بڑھ کر کوئی نیکی نہیں ، لیکن لوگ عمل کے لئے نہیں پڑھتے بلکہ دنیا کے شکار کے لئے جال بناتے ہیں ۔ (۳)ریا کار عالم کی علامت یہ ہے کہ ان کا علم تو پہاڑوں کی طرح ہو اور عمل برائے نام ذرّہ کے برابر ہو ، اور اگر عالم علم پر عمل کرے تو اس کی کڑواہٹ معلوم ہو اور پھر کبھی خوش نہ ہو کیونکہ یہ تمام کا تمام تکلیف ہے، جتنا وہ علم میں ترقی کرے اتنا ہی تکلیف بڑھتی ہے ۔ (۴)کسی کو امراء کے پاس آنا جانا اور ان سے میل جول کرنا زیبا نہیں ، ہاں امیر المؤمنین عمر بن الخطاب جیسا ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ، لیکن ہمارے جیسے لوگوں کو تو امراء کے پاس جانا بالکل مناسب نہیں اس لئے کہ ان کو بالمشافہہ نصیحت نہیں کرسکتے اور نہ ان کے ظلم و تعدی کی برائی کرسکتے ہیں ، لہٰذا ہم جیسوں کو تو اس سے بچنا ہی مناسب ہے ۔ (۵)مروی ہے کہ جب کسی کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ تحفہ دینا چاہتے ہیں تو اس پر ظالم کو مسلّط کردیتے ہیں۔ (۶)حکومت کو وہی پسند کرتا ہے جو لوگوں کے عیوب کا ذکر پسند کرے تاکہ وہ لوگوں میں ممتاز ہوجائے ، اور وہ اس بات کو بُرا جانتا ہے کہ اس کے روبرو کسی کی تعریف کریں ، پھر جس نے حکومت طلب کی اس نے اپنی صلاحیت سے منہ پھیرا ۔ (۷)جب اپنی مجلس میں کسی مخلوق کا ذکر کیا کرو تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرلیا کرو ، کیونکہ ذکرِ الٰہی مخلوق کے ذکر کی بیماری کا علاج ہے ۔ (۸)آنکھوں کا رونا حقیقی رونا نہیں ہے بلکہ دل کا رونا حقیقی رونا ہے کیونکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی آنکھیں روتی ہیں اور دل سخت ہوتا ہے ، کیونکہ منافق کا آنسو سر سے آتا ہے دل سے نہیں آتا ۔ (۹)کسی نے آپ سے درخواست کی کہ مجھے نصیحت کیجئے ، آپ نے دریافت کیا ، کیا تیرا والد مرگیا ہے ؟ اس نے کہا ہاں !آپ نے فرمایا میرے پاس سے اٹھ جا ، جو والد کی وفات کے بعد بھی وعظ کا محتاج ہو اس کو کوئی نصیحت کار گر نہیں ہوسکتی۔ (۱۰)جب شیطان انسان سے تین باتوں میں سے ایک حاصل کرلیتا ہے تو کہتا ہے مجھے مزید کی ضرورت نہیں اول: اس کا تکبر کرنا ، دوم: اپنے اعمال کو زیادہ سمجھنا ، سوم : اپنے گناہ کو بھول جانا ۔ ایک روایت میں چار باتیں آئی ہیں چہارم : پیٹ بھر کھانا ، اور یہ سب کی جڑ ہے کیونکہ باقی تینوں اسی سے پیدا ہوتے ہیں ۔ (۱۱)اگر آدمی چالیس سال کی عمر تک پہونچ کر بھی گناہ نہ چھوڑے اور اپنی سرکشی سے تائب نہ ہو تو شیطان اس کے چہرہ پر ہاتھ پھیرتا ہے اور کہتا ہے نجات نہ پانے والے چہرہ پر میں فدا ہوں۔ (۱۲)احسان یہ ہےکہ تو دوست کا احسان مند ہو اگر اس نے کچھ لیا ہے ، کیونکہ اگر وہ نہ لیتا تو تجھے ثواب نہ ہوتا نیز اس نے تجھ سے سوال کیا اور تجھ ہی سے اس کو امید تھی ۔ (۱۳)علماء کا نفاق اور ریا سے خالی ہونا کبریت ِاحمر سےبھی کمیاب ہے ، کیونکہ جب وہ اپنے مقابل میں کسی کا یہ قول کہ فلاں بہت بڑا عالم ہے ، یا قرآنِ مجید اچھا پڑھتا ہے ،سنتے ہیں تو تکبر اور نخوت سے بھر جاتے ہیں، اور کوئی خود اس کے بارے میں کہہ دے کہ فلاں عالم نہیں ہے یا اس کی آواز اچھی نہیں ہے تو اس پر نہایت شاق گزرتا ہے اور رنج سے قریب المرگ ہوجاتا ہے ، یہ ریا کی بہت بڑی علامت ہے ، پھر طرفہ یہ کہ خود اپنی تعریف بھی کرتا ہے۔ (۱۴)ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو اپنے روزوں کو ہنسی سے بھی بچاتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ مہینہ نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت کرنے کا ہے نہ کہ غفلت اور ہنسنے کا۔ (۱۵)جو اپنے تمام اعضاء کو گناہوں سے نہ روکےوہ اگر چہ بھوکا رہے پھر بھی روزہ دار نہیں ، اور جو اپنے اعضاء کو روکے وہ درحقیقت روزہ دار ہے۔ (۱۶)اللہ تعالیٰ نے تمام برائیوں کو ایک کوٹھری میں بند کر رکھا ہے اور اس کی کنجی دنیا کی محبت ہے ، اسی طرح تمام بھلائیوں کو ایک مکان میں بند کر رکھا ہے اور اس کی کنجی زہد ہے ۔ (۱۷)حلال کماؤ اور صدقہ کرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ کہاں سے کما رہا ہے تو اللہ بھی اس کی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کو کس طرف سے دوزخ میں داخل کرے ۔ (۱۸)اپنے ہمنشینوں سے ملاطفت اور حسنِ خلق کا برتاؤ کرنا رات بھر نفل نماز پڑھنے اور دن بھر نفل روزہ رکھنے سے زیادہ ثواب کا کام ہے ۔ (۱۹)تمہارا وہ بھائی نہیں جس نے تم سے کوئی چیز مانگی اور تم نے کسی وجہ سے نہ دی تو وہ تم سے ناخوش ہوجائے ۔ (۲۰)حضرت لقمان باوجود حبشی غلام ہونے کے بنی اسرائیل کے قاضی تھے ، اس وجہ سے کہ ان میں بات کی سچّائی اور لایعنی باتوں کو چھوڑنے کی عادت تھی ۔ (۲۱)زاہد ہونے کی ایک علامت یہ ہے کہ جب امراء اور ان کے مقربین کے سامنے اس کو جاہل کہا جائے تو وہ خوش ہو ۔ (۲۲)جو شخص اپنے پیٹ میں جانے والی غذا سے متعلق واقف ہے تو وہ عنداللہ صدیق ہے ، پس اے مسکین تو غور کر کہ تیرا کھانا کہاں سے آرہا ہے ۔