انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت عبداللہ ؓبن زبعری نام ونسب عبداللہ نام، باپ کا نام زبعری تھا، نسب نامہ یہ ہے،عبداللہ بن زبعری بن قیس بن عدی بن سہم ،بن عمرو بن مصیص قرشی سہمی اسلام سے پہلے قبولِ اسلام سے پہلے عبداللہ اسلام اورپیغمبر اسلام ﷺ کے سخت دشمن تھے،ان کا زور ومال ان کی قوت و طاقت ان کی شاعری اورزبان آوری سب مسلمانوں کی ایذا رسانی کے لیے وقف تھی، قریش کے بڑے آتش بیان شاعر تھے،اس کا مصرف آنحضرتﷺ کی ہجو تھی (استیعاب:۱/۳۶۷) احد کے مشرک مقتولین کا نہایت زبردست مرثیہ کہا تھا حضرت حسان بن ثابتؓ نے اس کا جواب دیا۔ (سیرۃ ابن ہشام:۲/۴۳) سلام فتحِ مکہ کے بعد جب معاندین اسلام کا جتھا ٹوٹا تو عبداللہ اورہبیر بن وہب نجران بھاگ گئے،عبداللہ حسان بن ثابت پر بہت سے وار کرچکے تھے،عبداللہ کے فرار پر انہیں بدلہ لینے کا موقع ملا؛چنانچہ انہوں نے یہ شعر کہا لا تعد من رجلا احلک بغمنہ نجران فی عیش احذلئیم ترجمہ:ایسا شخص معدوم نہ ہو، جس کے بغض نے تم کو نجران کی نا پسندیدہ اورمکروہ زندگی میں مبتلا کردیا ہے۔ عبداللہ نے سنا تو نجران سے لوٹ آئے اورآنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر مشرف باسلام ہوگئے، گذشتہ خطاؤں پر سخت نادم وشرمسار تھے،آنحضرتﷺ سے ان کی معافی چاہی،آپ نے معاف کردیا اور اب وہی زبان جو کلمۂ شہادت پڑہنے کے قبل تیرو نشتر کی طرح مسلمانوں کے دلوں پر ہجو کے چر کے لگائی تھی، نعتِ رسول کے پھول برسانے لگی ،تمام ارباب سیر نے ان کے نعتیہ اشعار لکھے ہیں، ہم طوالت کے خیال سے انہیں قلم انداز کرتے ہیں،حافظ ابن حجر کے بیان کے مطابق آنحضرتﷺ نے نعت کے صلہ میں انہیں ایک حلہ میں مرحمت فرمایا تھا۔ (اصابہ تذکرۂ عبداللہ بن زبعری واستیعاب:۱/۳۶۷) غزوات قبولِ اسلام کے بعد متعدد غزوات میں شریک ہوئے اورجہاد فی سبیل اللہ کا شرف حاصل کیا۔ (استیعاب :۱/۳۶۷) وفات وفات کے بارہ میں ارباب سیر خاموش ہیں۔