انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت شاہ ابو الرضا محمد دہلویؒ (۱)سب سے اچھی ریاضت کھانے پینے میں توسط و اعتدال اختیار کرنا ہے دوامِ توجہ کے ساتھ ، یہاں تک کہ دوامِ توجہ ملکہ بن جائے ۔ (۲)نجات تقلید ِانبیاء میں مضمر ہے ، انبیاء کی تقلید عقائد کے اندر بغیر زیادت و نقصان کے ہونی چاہئے جیسا کہ قدمائے اہلِ سنّت کا مذہب ہے ۔ (۳)ایک فاضل نے ایک صوفی سے دریافت کیا کہ صوفیاء اتنی ریاضات اور اتنے مجاہدات کیوں کرتے ہیں ؟ صوفی نے جواب دیا کہ اگر تجھ سے کہا جائے کہ اتنی محنت کرےگا تو تجھے سلطنت مل جائے گی یا بادشاہ تیرے پاس آئے گا تو پھر تو محنت و مجاہدہ کرے گا یا نہیں ؟ فاضل نے کہا ایسی صورت میں تو ہر کوئی محنت و مجاہدہ کرےگا ، صوفی نے کہا کہ ریاضات و مجاہدات کے سبب حضرت حق باعظمت ِ الوہیت خانۂ قلوب ِ صوفیہ میں جلوہ گر ہوجاتے ہیں پھر وہ ریاضات و مجاہدات کیوں نہ کریں ۔ (۴)ولایت کی تین قسمیں ہیں : ولایت ِ ایمانی ، ولایتِ عرفانی ، اور ولایتِ احسانی ، ولایتِ ایمانی و عرفانی والا ولی قصداً گناہ ِ کبیرہ صادر ہونے سے بھی محفوظ نہیں ہوتا ، چہ جائے کہ صغیرہ سے محفوظ ہو ، لیکن ولایت ِ احسانی والا ولی مطلقاً صدورِ کبیرہ سے اور معتمداً صدورِ صغیرہ سے محفوظ ہوتا ہے ۔ (۵)اس جہانِ فانی میں کوئی کمال حاصل کرلے اور بےفکر آدمی کی طرح غافل ہوکر مت بیٹھ ، جب غبار چھٹ جائے گا تب پتہ چلے گا کہ تیری سواری میں درحقیقت گھوڑا تھا یا گدھا ۔ (۶)نصیحت سونے والے دل کو تو بیدار کرتی ہے ،لیکن مردہ دل کو ناراض و بیزار کردیتی ہے ۔ (۷)دیکھو محاسبۂ اخروی سے پہلے پہلے اپنا محاسبہ دنیا ہی میں خود ہی کرلو ۔ (۸)لوگوں کے اولیاء سے انکار کا ایک بڑا سبب شرکتِ مکان ، اور شرکتِ زمان، اور شرکتِ نسبت بھی ہے ، عوام اکثر اس شخص کے معتقد ہوتے ہیں جو خدّام بہت رکھتا ہو اور عبادت بھی بہت زیادہ کرتا ہو اگرچہ وہ عبادت ریا اور عجب کے ساتھ ہو ۔