انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** آپﷺ کے اجتہاد کی چند مثالیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اجتھاد صرف دنیوی امور تک ہی محدود نہیں تھا، بلکہ دینی معاملات میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجتھاد فرمایا کرتے تھے (الاحکام للآمدی: ۱/۴۱۶) اور اس کی کئی مثالیں احادیث میں ملتی ہیں، مثلاً: ۱۔ ایک خاتون نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی مرحومہ والدہ کے بارے میں پوچھا کہ وہ حج نہیں کرپائی ہیں، کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا اور تم اسے اداکرتی تو کیا یہ کافی نہ ہوتا؟ انہوں نے کہا ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "فَاللّٰہُ أحَقَّ بِالْوَفَاءِ " (بخاری، حدیث نمبر:۱۷۲۰) اللہ کا دین زیادہ قابل ادائیگی ہے۔ ۲۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ روزہ کی حالت میں میں خودپر قابو نہ پاسکا، اور اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا، پھر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا کہ مجھ سے ایک بڑی غلطی ہوگئی ہے اور اپنا واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: "أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَاءٍ وَأَنْتَ صَائِمٌ قُلْتُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفِيمَ"۔ (مسنداحمد: ۱/۵۲۔ حدیث نمبر:۳۷۲) تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر تم روزہ کی حالت میں پانی سے کلی کرو؟ تو میں نے عرض کیا کہ اس سے تو روزہ نہیں ٹوٹتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بوسہ سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کی تمہید، منہ میں پانی ڈالنے کے عمل پر جماع کی تمہید بوسہ کو قیاس فرمایا۔ (شرح الزقانی علی الموطا: ۲/۲۲۱) ۳۔ ایک خاتون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے ذمہ نذر کے روزے باقی تھے، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری ماںپر کسی کا قرض باقی ہوتا تو کیا اسے ادا کرتیں؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى" (بخاری، حدیث نمبر:۱۸۱۷) اللہ کا دین زیادہ قابل ادائیگی ہے۔ دیکھئے یہاں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اجتھاد سے کام لیا ہے اور بندے کے دین پر خداکے دین کو قیاس کیا ہے۔