انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
مقتدی نے قصداً تشہد اور درود نہ پڑھا تو کیا حکم ہے؟ درود شریف سنت ہے اور تشہد واجب ہے، منفرد یا امام عمداً ترکِ واجب کرے تو نماز واجب الاعادہ ہے اور سہواً ترک ہو تو سجدۂ سہو واجب ہے، مگر مقتدی کے سہواً ترکِ واجب پر نہ سجدۂ سہو واجب ہے اور نہ اعادہ ہے، اس سے معلوم ہوا کہ مقتدی کے ترکِ واجب کا کوئی جابر نہیں، لہٰدا عمداً ترکِ واجب پر اعادہ کو واجب نہیں ہو گا، اس کے علاوہ حضرات فقہاء رحمہم اللہ تعالیٰ نے ترکِ واجب متابعۃ الامام کے مباحث میں کہیں بھی اعادہ کا حکم تحریر نہیں فرمایا ، حالانکہ اس کے بعض مواقع میں ارکان میں تکرار اور ان میں تقدیم و تاخیر بھی ہے، اس سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے کہ مقتدی کا عمداً ترک اعادہ کو واجب نہیں کرتا، باوجود اس کے اعادہ میں احتیاط ہے، مقتدی کاسہو موجبِ اعادہ نہ ہونے پر بعض فقہاء نے بحث تحریر فرمائی ہے تو عمد میں بدرج اولیٰ بحث ہوگی، لہٰذا اعادہ بہتر ہے۔ (احسن الفتاویٰ:۳/۲۹۱، زکریا بکڈپو، دیوبند)