انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت عکرمہؒ یہ عکرمہ مولی ابن عباس کے نام سے مشہور ہیں بربر ی غلام تھے حسین بن ابی الحر عنبری نے انہیں حضرت ابن عباس کو بطورھدیہ پیش کیا،عکرمہ نے اپنے مولی ابن عباس کے علاوہ حضرت علی رضی اللہ عنہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابن عمررضی اللہ عنہ،ابو سعیدخدریؓ، حضرت عائشہؓ اوربعض دیگر حضرات سے بھی روایات نقل کی ہیں۔ (تھذیب التھذیب:۲۳۴،۲۳۵۷) عکرمہ تفسیر قرآن کے کس قدر حریص تھے اوراس کے لیے انہوں نے کس قدرجدوجہد کی تھی اس کا خود ان کے قول سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے، فرماتے ہیں اللہ تعالی کے اس قول"ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ" میں اس آدمی کا حال معلوم کرنے کی جستجو میں میں نے ۱۴ سال تک لگادیے، جو اللہ اوراس کے رسول کی خاطر ہجرت کے ارادہ سے اپنے گھر سے نکلا تب جاکر مجھ کو اس کا حال معلوم ہوا،ابن عبدالبر فرماتے ہے وہ ضمرۃ ابن حبیب ہے۔ (مقدمہ تفسیر قرطبی :۲۱) حضرت ابن عباس ان کی تعلیم کا خاص اہتمام فرماتے تھے عکرمہ خود بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس میرے دونوں پیروں پر بیٹریاں لگادیتے تھے اورمجھے قرآن وسنت کی تعلیم دیتے تھے، اس محنت وجانفشانی کا اثر تھا کہ اپنے وقت کے مثالی مفسر بن گئے، امام شافعی فرماتے ہیں: کتاب اللہ کو عکرمہ سے زیادہ جاننے والا کوئی باقی نہ رہا (مناھل العرفان:۳۴۹)قتادہؒ فرماتے ہیں: عکرمہ تفسیر کے سب سے بڑے عالم ہیں ،سلام بن مسکین فرماتے ہیں عکرمہ تفسیر قرآن کے سب سے زیادہ جاننے والے ہیں، عباس بن مصعب مروزی کا بیان ہے عکرمہ ابن عباس کے آزاد کردہ غلاموں میں اور آپ کے شاگردوں میں تفسیر کے سب سے بڑے عالم ہیں شعبی کہتے ہے:عکرمہ سے بڑھکر کتاب اللہ کا جاننے والا کوئی باقی نہ رہا سفیان ثوری کا قول ہے چارلوگوں سے تفسیر سیکھو ان چاروں میں عکرمہ کو آ پ نے سب سے پہلے شمار کرایا،ابن حبان کا بیان ہے عکرمہ اپنے زمانے میں فقہ اورقرآن کے بڑے علماء میں سے تھے۔ (ھدی الساری مقدمۃ فتح الباری:۶۰۰،۵۹۹) حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں میرے پاس پانچ حضرات جمع ہوئے طاؤس،مجاھد،سعید بن جبیر،عکرمہ،عطاء ان میں سے مجاھد اورسعید بن جبیر آگے بڑھکر عکرمہ سے آیات کی تفسیر سے متعلق مسائل پوچھنے لگے؛ چنانچہ وہ دونوں جس آیت کی بھی تفسیر ان سے دریافت کرتے تھے وہ ان کے سامنے اس کی تفسیر بیان کردیتے تھے؛ حتی کہ جب ان کے سوالات ختم ہوگئے تو عکرمہ ازخود کہنے لگے کہ فلاں آیت فلاں موقع پر نازل ہوئی اورفلاں آیت فلاں موقع پر اتری۔ (تھذیب التھذیب :۲۳۶۷) ایوب سختیانی ایک شخص کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں عکرمہ ،سعید بن جبیر،طاؤس اور میں سمجھتا ہوں کے انہوں نے عطاء کا بھی نام لیا تھا ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، اوراس دن عکرمہ علمی مذاکرہ کررہے تھے اس وقت سامعین وحاضرین کا حال یہ تھا کہ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں(یعنی پوری توجہ وانہماک سے وہ سب ان کی باتیں سن رہے تھے)ان میں سے سوائے سعید کے کسی نے بھی کسی مسئلہ میں ان سے اختلاف نہیں کیا اورسعید نے بھی صرف ایک مسئلہ میں ان سے اختلاف کیا،(ھدی الساری مقدمۃ فتح الباری:۵۹۹)علماء ومحدثین کے ان اقوال وواقعات کی روشنی میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عکرمہ کا مقام ومرتبہ تفسیر میں کسی قدر بلند تھا اورانکے تفسیری اقوال وروایتیں کس درجہ مقبول و مستند تھیں؛ لیکن اس کے باوجود کچھ ایسے علماء ومحدثین بھی تھے جو بعض وجوہات کی بناء پر عکرمہ سے ناخوش تھے بلکہ ان پر جرح کرتے تھے اوران پر اعتراضات کرتے تھے ،حافظ ابن حجر نے بڑی تفصیل کے ساتھ ان اعتراضات کو نقل کرکے ایک ایک کی تردید یا توجیہ کی ہے جس کی تلخیص محقق عصر علامہ تقی عثمانی نے علوم القرآن میں تحریر فرمایا، اس کا خلاصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ علامہ عثمانی تحریر فرماتے ہے :بعض محدثین نے عکرمہ پر کچھ اعتراضات بھی کیے ہیں اس مسئلہ پر ابن حجر نے مقدمہ فتح الباری میں نہایت مبسوط اورکافی وشافی بحث کی ہے حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ عکرمہ پر جو اعتراضات وارد کیے جاتے ہیں ان کا مدار تین اعتراضات پر ہے۔ ایک یہ کہ انہوں نے بعض غلط باتیں حضرت ابن عباس کی طرف منسوب کردی تھیں، دوسرے یہ کہ وہ عقیدۃخارجی تھے اورتیسرے یہ کہ وہ امراء وحکام سے انعامات وصول کرتے تھے ،جہاں تک اس تیسرے الزام کا تعلق ہے کہ انہوں نے امراء سے انعامات وصول کیے ہیں سو ظاہر ہے کہ یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کی بنا پر ان کی روایات کو رد کردیا جائے ،رہے باقی دو اعتراضات سوحافظ ابن حجر نے تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ ان میں سے کوئی الزام ان پر ثابت نہیں ہوا،اس سلسلہ میں جتنے قصہ ان کی طرف منسوب ہیں حافظ ابن حجر نے ان میں سے ایک ایک کو نقل کرکے اس کی مدلل تردید یا توجیہ کی ہے ؛مثلا ان پر جھوٹ کا جو الزام عائد کیا گیا ہے اس کا منشا ایک غلط فہمی ہے اور وہ یہ کہ بسا اوقات انہوں نے ایک حدیث دو آدمیوں سے سنی ہوتی تھی ایک موقع پر وہ ایک شخص سے روایت کرتے تھے پھر کوئی اسی حدیث کے بارے میں پوچھتا تو دوسرے آدمی سے روایت کردیتے، اس سے بعض لوگ یہ سمجھتے کہ یہ حدیث گھڑتے ہیں ؛حالانکہ دونوں مرتبہ ان کی روایت درست تھی چنانچہ خود انہوں نے فرمایا ہے۔ "ارایت ھولاءِ الذین یکذبون من خلفی،افلایکذبونی فی وجھی؟"۔ بھلا یہ لوگ جو میرے پیٹھ پیچھے میری تکذیب کرتے ہیں میرے سامنے کیوں تکذیب نہیں کرتے؟۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ میرے سامنے تکذیب کریں تو میں ان کو حقیقت حال سے آگاہ کروں اسی طرح ان پر خارجی ہونے کا جو الزام لگایا گیا ہے اس کے بارے میں حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ وہ کسی قابل اعتبار ذریعہ سے ثابت نہیں ہوا البتہ ہوا یہ کہ انہوں نے بعض جزوی (فقہی)مسائل میں ایسامسلک اختیار کیا تھا جو خارجیوں کے مطابق تھا، اس سے بعض لوگوں نے انہیں خارجیت کی طرف منسوب کردیا؛ چنانچہ امام عجلی فرماتے ہیں: "عکرمۃ مولی ابن عباس مکی تابعی ثقۃ بریٔ ممایرمیہ بہ الناس من الحروریۃ"۔ عکرمہ حضرت ابن عباس کے مولی ہیں مکہ کہ رہنے والے ہیں، ثقہ تابعی ہیں اورلوگ ان پر خارجیت کا جو الزام لگاتے ہیں وہ اس سے بری ہیں۔ (علوم القرآن:۴۶۴،مقدمہ فتح الباری) اسی وجہ سے امام بخاری کا ارشاد ہے،ہمارے ساتھیوں میں سے (یعنی محدثین میں سے) کوئی ایسا نہیں مگروہ عکرمہ کی روایت سے استدلال کرتا ہے، محمد بن نصر المروزی فرماتے ہیں، اکثر اہل علم کا عکرمہ کی روایت سے استدلال واحتجاج کرنے پر اتفاق ہے اوراس پر محدثین متفق ہیں۔ (ھدی الساری:۶۰۰) خلاصہ کلام یہ ہے کہ عکرمہ ترجمان القرآن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے علوم کے محافظ اورامین اپنے زمانہ کے بہت بڑے مفسر اوراکثر اھل علم کے نزدیک ثقہ اور قابل اعتبار ہیں،محدثین آپ سے روایت کرنے پر اورآپ سے احتجاج واستدلال کرنے پرمتفق ہیں،آپ کی وفات ۱۰۴ھ میں ہوئی۔ تفسیری اقوال عکرمہؒ کے تفسیری کمالات کا اندازہ آپ کے ان اقوال سے لیا جاسکتا ہے: (۱)حضرت عکرمہ ؒاس آیت: "يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا"۔ (یوسف:۴۱) اے قید خانہ کے دونوں رفیقو! تم میں ایک تو (بری ہوکر) اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اوردوسرا سولی دیا جائے گا اوراس کے سرکو پرندے کھاویں گے۔ کی تفسیر میں فرماتے ہیں وہ قیدی حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس آیا اورکہنے لگا میں نے ایک خواب دیکھا کہ میں نے ایک انگور کا دانہ زمین میں گاڑا اس سے انگور کی بیل اگ آئی،پھر اس میں انگور کے خوشہ نکل آئے میں نے انہیں توڑ کر اسے نچوڑا پھر اسے بادشاہ کو پلانے گیا تو حضرت یوسف علیہ السلام نے اس خواب کی یہ تعبیر بیان فرمائی کہ تم تین دن جیل میں رہو گے پھر رہا ہوکر جیل سے نکل جاؤ گے پھر بادشاہ کو شراب پلایا کروگے۔ (الدرالمنثور:۳۶۴) (۲)اس طرح عکرمہؒ اس آیت : "ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ"۔ (آل عمران:۴۴) یہ قصے منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں ہم ان کی وحی بھیجتے ہیں آپ کے پاس اوران لوگوں کے پاس آپ نہ اس وقت موجود تھے جبکہ وہ (قرعہ کے طورپر) اپنے اپنے قلموں کو پانی میں ڈالتے تھے کہ ان سب میں کون شخص مریم علیہ السلام کی کفالت کرے اورنہ آپ ان کے پاس اس وقت موجود تھے جبکہ باہم وہ اختلاف کررہے تھے۔ کی تفسیر میں فرماتے ہیں وہ لوگ یعنی بیت المقدس کے نگران و متولیان نہر اردن کے پاس آئے اور مریم علیھا السلام کی کفالت کے لیے قرعہ اندازی کی اور قرعہ اندازی کے لیے یہ بات طئے پائی کہ وہ سب اپنے قلموں کو جس سے وہ توراۃ اوردیگر کتب مقدسہ لکھا کرتے تھے، نہر میں ڈالدیں سو جس کا قلم پانی کے بہاؤ میں نہ بہے بلکہ ٹھر جائے تو وہی شخص مریم کی کفالت کرے گا پھر ان لوگوں نے اپنے اپنے قلموں کو نہر میں ڈال دیا توزکریا علیہ السلام کے قلم کے سوا باقی سب کے قلم نہر کے بہاؤ میں بہہ گئے اورزکریا علیہ السلام کا قلم پانی کے بہاؤ میں ٹھہرا رہا۔ (تفسیر ابن کثیر:۴۷۴۱) (۳)"وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ"(البقرۃ:۱۵۹) اس آیت کی تفسیر میں عکرمہ فرماتے ہیں ان کفار پر ہر چیز لعنت کرتی ہے حتی کہ مکوڑے اوربچھو تک ان پر لعنت کرتے ہیں، کہتے ہیں: بنی آدم کے گناہوں کی نحوست کے سبب ہم سے بارش روک لی گئی