انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** تجدید معاہدہ کی درخواست قریش سے کہا گیا کہ ان میں سے کوئی شرط منظور کی جائے ، قرطہ بن عمرو نے قریش کی طرف سے کہا کہ صرف تیسری شرط منظور ہے؛ لیکن قاصد کے واپس چلے جانے کے بعد قریش کو ندامت ہوئی، دارالندوہ میں مجلس مشاورت منعقد ہوئی ، انہوں نے ابو سفیان کو سفیر بنا کر بھیجا کہ مدینہ جا کر حدیبیہ کے معاہدہ کی تجدید کر ا لائیں ، چنانچہ ابو سفیان مدینہ آئے اور حضور ﷺ کے پاس جانے سے پہلے انہوں نے خیال کیا کہ پہلے اپنی بیٹی (اُم حبیبہؓ ) سے کیوں نہ مل لوں جو حضور ﷺ کی شریک حیات اور اُم المومنین ہیں، سیدھے بیٹی کے گھر گئے ، بارہ تیرہ سال بعد باپ اور بیٹی کی ملاقات ہوئی اس لئے کہ حضرت ا ُ م حبیبہ ہجرت کر کے حبشہ چلی گئی تھیں اور وہیں نجاشی نے حضور ﷺ سے ان کا نکاح پڑھایا تھا اور وہ چند ماہ قبل ہی فتح خیبر کے بعد مدینہ واپس ہوئی تھیں، ابو سفیان نے بیٹھ کر بیٹی سے بات کرنی چاہی؛ لیکن حضرت اُم حبیبہؓ نے بستر لپیٹ دیا جس پر ابو سفیان نے پوچھا ، بیٹی کیا یہ بستر میرے شایان شان نہیں ، بیٹی نے فوراً جواب دیا ، آپ نے غلط سمجھا ، یہ اللہ کے رسول کا بستر ہے، نجس مشرک اس پر نہیں بیٹھ سکتا ، یہ جملہ سن کر ابو سفیان کو سخت تکلیف ہوئی اور وہ غصہ میں گھر سے باہر نکل گئے، وہاں سے و ہ حضورﷺ کی خدمت میں مسجد نبوی میں حاضر ہوئے اور تجدید معاہدہ کی درخواست کی، حضور ﷺنے کوئی جواب نہ دیا، ابو سفیان نے حضرت ابو بکرؓ ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کو بیچ میں ڈالنا چاہا؛ لیکن سب نے کانوں پر ہاتھ رکھا، پھر وہ حضرت علیؓ کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ وہ حضور ﷺ سے مل کر معاہدہ کی تجدیدکروائیں لیکن حضرت علیؓ نے فرمایا " کچھ اور تو سمجھ میں نہیں آتا البتہ تم اگر مناسب سمجھو تو خود ہی یہ کام کر گزرو، تم بنی کنانہ کے سردار ہو، مسجد میں جاکر لوگوں کے سامنے اعلان کردو ، چنانچہ ابو سفیان اٹھے اور مسجد میں جاکر بلند آواز سے کہے، لوگو! میں معاہدہ کی تجدید کرتا ہوں اور صلح کی مدت بڑھاتا ہوں ، پھر ابو سفیان نے مکہ واپس ہوکر لوگوں کو حالات سے آگاہ کیا تو قریش نے کہا کہ علیؓ نے تمہارے ساتھ مذاق کیا ہے ، تمہاری اس کاروائی سے صلح یا حالت جنگ کی بات کا پتہ نہیں چلتا ، نہ ہم مطمئن ہوکر بیٹھ سکتے ہیں اور نہ ہی جنگ کی تیاری کرسکتے ہیں، تمہاری یکطرفہ کاروائی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔