انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ (م :۱۳۶۲ ھ) ۱۔مصائب وتکالیف سے بچاؤ کی اصل تدبیر اصلاح اعمال ہے،اگر ایسا کریں تو چند روز میں ان شاء اللہ اس کی برکت سے دشمن خائف ہوجائیں گے۔ ۲۔جس کو اکثر جھوٹ بولنے کی عادت ہو اس کا بہت بڑا علاج یہ ہے کہ جب کذب صادر ہو تو فوراً اپنی تکذیب مخاطب کے سامنے کرے کہ یہ میری بات جھوٹ ہے۔ ۳۔بڑی ضرورت اس کی ہے کہ ہر شخص اپنی فکر میں لگے اوراپنے اعمال کی اصلاح کرے،آج کل یہ مرض عام ہوگیا ہے عوام میں بھی خواص میں بھی کہ دوسروں کی تو اصلاح کی فکر ہے اوراپنی خبر نہیں۔ ۴۔غصہ کا ایک مجرب علاج یہ ہے کہ مغضوب علیہ (جس پر غصہ آیا ہے) کو اپنے سے جدا کردیا جائے یا اس کے پاس سے خود جدا ہوجائے اورفوراً کسی اورکام میں لگ جائے۔ ۵۔علاج بدنگاہی کا یہ ہے کہ بزرگوں کے تذکرہ کی کتابیں پابندی سے دیکھو اورکسی وقت خلوت میں معاصی پر جو وعیدیں اور عقاب وارد ہوا ہے اس کو سوچا کرو،شہرت سے دینی اوردنیوی دونوں ضرر ہوتا ہے مگر یہ وہ شہرت ہے جو اختیار وطلب سے حاصل ہو اورجو شہرت غیر اختیاری ہو وہ نعمت ہے۔ ۶۔خانگی مفسدات سے بچنے کی ایک عمدہ تدبیر یہ ہے کہ چند خاندان ایک گھر میں اکٹھے نہ رہا کریں؛ کیونکہ چند عورتوں کا ایک مکان میں رہنا ہی زیادہ فساد کا سبب ہے۔ ۷۔جو کام تنہا ہوسکے وہ مجمع کے ساتھ ہر گز نہ کیا کرو اکثر دیکھا ہے کہ مجمع میں کام بگڑ جاتا ہے۔ ۸۔عادۃ اللہ تعالی یہی ہے کہ محنت کا نتیجہ راحت ہے اور مشقت کا ثمرہ سہولت ہے؛چنانچہ ارشاد ربانی ہے: "اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا" (الشرح:۶) "بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے" ۹۔شہوات دنیا موجب نقص نہیں ؛بلکہ یہی موجب کمال ہیں،ٹاٹ کا پردہ زانی نہ ہو تو کیا کمال ہے،اندھا نظر بد نہ کرے تو کیا کمال ہے؛بلکہ کمال تو یہ ہے کہ حسن کا ادراک اوراس کی طرف طبیعت میں میلان بھی ہو،پھر بھی نامحرم کو آنکھ اٹھا کر نہ دیکھے۔ ۱۰۔جب کبھی کسی کی شکایت زبان سے نکلے تو مجمع میں اس شخص کی خوبیاں بیان کرنا چاہئے؛کیونکہ کوئی نہ کوئی خوبی تو اس میں ہوگی۔ ۱۱۔اسلام نہ ترک تعلقات کی تعلیم دیتا ہے نہ انہماک فی الدنیا کی اجازت دیتا ہے ؛بلکہ تعلقات میں اختصار کی تعلیم دیتا ہے۔ ۱۲۔حضورﷺ کے کلام مبارک میں ایسا اثر تھا کہ جب کفار سنتے تھے تو ان کے خیالات میں عظیم الشان تبدیلی واقع ہوجاتی تھی ۔ ۱۳۔حضورﷺ کی اتباع میں خاص برکت کا راز یہ ہے کہ جو شخص آپ کی ہیٔت بناتا ہے اس پر خدا تعالیٰ کو محبت اورپیار آتا ہے کہ یہ میرے محبوب کا ہم شکل ہے پس یہ وصول کا سب سے اقرب طریق ہے۔ ۱۴۔غذا کے بعد جو شکر کا حکم کیا گیا ہے تو درحقیقت اسی غذا کے ہضم کے واسطے چورن بتلایا گیا ہے تاکہ پھر بھی غذا کھا سکے کیونکہ شکر سے نعمتیں بڑھتی ہیں جس طرح چورن سے دوسرے وقت زیادہ کھاسکے گا اورناشکری سے نعمتیں سلب ہوجاتی ہیں۔ ۱۵۔غلامی کا راز یہ ہے کہ انسان نے عبداللہ(اللہ کا بندہ)بننے سے انکار کیا تھا، اس لئےسزا کے طور پر عبداللہ (اللہ کے بندے)کا عبد(بندہ)بنادیا گیا جو کہ بالکل عقل کے موافق ہے ؛چنانچہ جب کوئی بادشاہ کے خلاف بغاوت کرتا ہے تو اس کو قید کرکے ایک معمولی جیلر کی سپردگی میں دے دیا جاتا ہے۔ ۱۶۔بندہ رسوخ کا مکلف نہیں ہے صرف عمل کا مکلف ہے حتی کہ اگر عمر بھر میں رسوخ نہ ہو تو مقصود میں کوئی خلل نہیں،کمال عبادت ،اجر اور قرب میں ذرا کمی نہ ہوگی، بشرطیکہ عمل میں کمی نہ کرے۔ ۱۷۔بات کا جواب نہ دینا سخت بے ادبی ہے اسی طرح دیر سے جواب دے کر انتظار کی تکلیف پہنچانا بھی بے ادبی ہے۔ ۱۸۔اصلاح نفس کے لئے نری دعا کافی نہیں ؛بلکہ تدابیر کی بھی ضرورت ہے جیسے بچہ پیدا ہونے کے لئے نری دعا کافی نہیں؛بلکہ زوجین کی بھی ضرورت ہے۔ ۱۹۔اگر مسلمان اپنی اصلاح کرلیں اوردین ان میں راسخ ہوجائے تو دنیاوی مصائب کی بھی ان شاء اللہ چند ہی روز میں کایا پلٹ جائے گی۔ ۲۰۔تقریبات میں عورتوں کے جانے کے انسداد کا سہل طریق یہ ہے کہ جانے سے منع نہ کریں مگر اس پر مجبور کریں کہ کپڑے زیور وغیرہ کچھ نہ پہنیں، جس حیثیت سے اپنے گھر رہتی ہیں اسی طرح چلی جائیں خود بخود جانا بند ہوجائے گا۔ ۲۱۔حدیث میں جو اجابۃ الداعی (یعنی دعوت قبول کرنا مسلمان کے حقوق میں سے ہے)آیا ہے خطوں کا جواب دینا بھی اس کے عموم میں داخل ہے،اس لئےخطوط کا جواب دینا حتی المقدور جلد ضروری ہے۔ ۲۲۔کثرت گناہ سے دل کی حس خراب ہوجاتی ہے تو گناہ کی پریشانی اورظلمت کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ ۲۳۔شیطان کو گمراہ کرنے کے لئے دوسرا شیطان نہیں آیا تھا ؛بلکہ یہی نفس تھا جس نے اس کو ابلیس بنادیا ورنہ وہ تو عزازیل تھا، پس نفس کو مغلوب کرنا کفار کو مغلوب کرنے سے اہم ہے اسی لئے مجاہدہ نفس کو جہاد اکبر کہا گیا ہے۔ ۲۴۔جس چیز کا خود کھانا حرام ہے اسے اولاد کو کھلانا بھی حرام ہے،یاد رکھو کہ اپنی اولاد کو جو حرام کھلاتا ہے وہ ان کے اندر شرارت کا مادہ پیدا کرتا ہے۔ ۲۵۔یاد رکھو خدا کی نافرمانی کے ساتھ مشاہدہ جمال حق کبھی نہیں ہوسکتا دل اورروح کی آنکھیں اس وقت کھلتی ہیں جب نفس کی شہوت و لذات کو حرام جگہ سے روکا جائے۔ ۲۶۔چندہ مانگو تو غریبوں سے مانگو،کچھ ذلت نہیں، وہ جو کچھ بھی دیں گے نہایت خلوص اور تواضع سے دیں گے اوراس میں برکت بھی ہوگی اورامراء تو محصل کو ذلیل اور خود کو بڑا سمجھ کردیتے ہیں اس لئے اس میں ذلت بھی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ وہ تو بے چارے رحم کے قابل ہیں کہ ان کا خرچ آمدنی سے بڑھا ہوا ہے اس لئے پریشان رہتے ہیں۔ ۲۷۔جب حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے رحمت کی ہوائیں چلتی ہیں تو گو اس سے مقصود کوئی خاص بزرگ ہوں ؛لیکن حسب قرب وبعد آس پاس کو بھی پہنچتی ہیں جیسا کہ کسی کے پنکھا جھلا جائے تو آس پاس کے لوگوں کو بھی ہوا ضرور لگتی ہے،اس لئے بزرگوں کے قریب دفن ہونے کی تمنا کرنا عبث نہیں، سلف وخلف کا تعامل صاف دلیل ہے کہ یہ عمل بے اصل نہیں۔ ۲۸۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں عمل نافع کا حکم دیا جس میں سراسر ہمارا ہی نفع ہے، پھر عمل کی بھی توفیق دی پھر توفیق کے بعد اس کو ہمارا عمل فرمایا اورجب عمل سے نفع پہنچا تو اوپر سے انعام بھی دیا تو گویا عطا پر عطا ہوئی۔ ۲۹۔درحقیقت یہ شیطان کا دھوکہ ہے کہ گناہ کرلینے سے تقاضا کم ہوجائے گا ؛کیونکہ ارتکاب معصیت سے فی الحال کچھ دیر کو تقاضا کم ہوجائے گا مگر اس کا اثر یہ ہوگا کہ آئندہ کے لئے مادہ معصیت قوی ہوجائےگا اورازالہ قدرت سے باہر ہوجائے گا۔ ۳۰۔بندہ کو چاہئے کہ خود ہمت کرے پھر اس کی تکمیل حق تعالیٰ خود کو کردیتے ہیں،جیسے باپ جب دیکھتا ہے بچہ دس قدم چلا اور گر گیا تو خود ہی رحم کھا کر اس کی مدد کرتا ہے اور اس کو گود میں اٹھا لیتا ہے تو جیسے باپ چاہتا ہے کہ بچہ اپنی طرف سے کوشش کرے چلنے کی اسی طرح حق تعالیٰ ہماری طلب دیکھنا چاہتے ہیں مگر افسوس تو یہ ہے کہ ہم تو اپنی جگہ سے سرکتے ہی نہیں۔ ۳۱۔بعض اوقات کسی سے اتنا انتقام لینا(جیسا کہ کسی سے کوئی رنج پہنچا ہو تو انتقاما یہ کہہ دینا کہ ہاں تمہاری اس حرکت سے مجھے رنج ضرور ہے)اچھا ہے،اس سے دل صاف ہوجاتا ہے،البتہ زیادہ پیچھے نہ پڑنا چاہئے۔ ۳۲۔تہذیب کی بات یہ ہے کہ جو کام خود کرسکے اس کی فرمائش دوسرے سے نہ کرے، بس اس کام کو دوسرے سے کہے جو بغیر اس کے ممکن نہ ہو، وہ بھی بشرط اپنی ضرورت اوراس کی سہولت کے۔ ۳۳۔کسی کے تعلق اورواسطہ سے کسی کو چاہنا حقیقت میں واسطہ کو چاہنا ہے،پس خدا تعالیٰ کی وجہ سے مخلوق کے ساتھ محبت کرنا بھی محمود ہے۔ ۳۴۔شرف نسب بوجہ امر غیر اختیاری ہونے کے سبب فخر نہیں مگر اس کے نعمت ہونے میں کوئی شک نہیں ،فخر عقلاً ان چیزوں پر ہوسکتا ہے جو اختیاری ہوں، اور وہ علم و عمل ہے،گوشرعاً ان پر بھی فخر نہ کرنا چاہئے،پس صاحب نسب جاہل سے غیر صاحب نسب عالم افضل ہے۔ ۳۵۔فلاح کی حقیقت راحت ہے اورنماز سے قلب کو وہ راحت ملتی ہے جوہزار کھانوں سے بھی نہیں مل سکتی مگر اس راحت کا احساس ایک خاص میعاد کے بعد ہوتا ہے جو ہر شخص کے لئے اس کے مناسب ہوتی ہے۔ ۳۶۔مسلمان کو گناہ کرتے وقت خوف خدا ضرور ہوتا ہے کہ اس سے اللہ تعالی ناراض ہوں گے اورآخرت میں عذاب ہوگا، یہ خیال ساری لذت مکدر کردیتا ہے اس لئے مسلمان کو گناہ میں پوری لذت نہیں مل سکتی۔ ۳۷۔اگر خواب میں کسی کو حضورﷺ کی زیارت ہوجائے تو یہ کچھ کمال ماموربہ نہیں گو نعمت عظمی ہے اوراگر کسی کو عمر بھر زیارت نہ ہو تو کچھ نقص منہی عنہ نہیں ؛کیونکہ کمال ونقص کا مدار تو امور اختیار یہ ہیں،غیر اختیاری امور کے نہ ہونے سے نقص لازم نہیں آتا۔ ۳۸۔بعض لوگوں کو ہر حالت میں عزیمت پر عمل کرنے کا شوق ہوتا ہے یہ کوئی کمال نہیں،بلا وجہ رخصت شرعیہ اور نعم الہیٰ سے باوجود ضرورت کے بھی کام نہ لینا خدا تعالیٰ کو ناپسند ہے،حدیث میں ہے: ((ان اللہ تعالیٰ یحب ان یوتی رخصۃ کما یحب ان یوتی عزائمہ)) "حق تعالیٰ چاہتے ہیں کہ ان کی رخصتوں پر بھی ویسا ہی عمل کیا جائے جیسا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی عزیمتوں پر عمل کیا جائے" ۳۹۔انفاق معتبر وہی ہے جس سے دل پر معتدبہ اثر ہو اورکچھ دکھن محسوس ہو پھر رفتہ رفتہ خرچ کی عادت ہوجائے گی۔ ۴۰۔طبیب ناواقف اورجاہل فیصلہ کرنے والا دونوں جہنمی ہیں گو ان کی نیت درست ہی ہو،مگر نری خوش نیتی سے کام نہیں چلتا،یہاں تو علم کی ضرورت ہے۔ ۴۱۔عدل فقط نرمی کا نام نہیں ؛بلکہ جہاں سختی کی ضرورت ہو وہاں سختی کرنا بھی عدل ہے، اس موقع پر نرمی کرنا ظلم ہے۔ ۴۲۔عقل باندی ہے اورشریعت سلطان ہے،پس عقل کی تائید سے شریعت کی بات کو ماننا ایسا ہے جیسے غلام کے جی ہاں جی ہاں کو سن کر بادشاہ کی بات کو مانا جائے اور اس کا حماقت ہونا ظاہر ہے، بادشاہ کی بات خود حجت ہے،غلام کی تصدیق سے اس کو حجت سمجھنا سراسر حماقت ہے۔ ۴۳۔جس مسئلہ پر زور دینے میں فتنہ کھڑا ہوتا ہو اس میں گفتگو بند کردی جائے؛ کیونکہ اس خاص مسئلہ دین کی حمایت کرنے سے فتنہ کا دبانا زیادہ ضروری ہے ہاں مقتدائے اسلام کو شریعت کی ہر بات صاف صاف کہنا چاہئے جیسے امام حنبل نے خلق قرآن کے متعلق صاف صاف کہہ دیا تھا اورجو ایسا بڑا مقتدا نہ ہو اس کو بحث کی ضرورت نہیں جہاں مخاطب سمجھدار منصف مزاج ہو وہاں صحیح بیان کردے جہاں بحث مباحثہ کی صورت ہو خاموش رہے۔ ۴۴۔بعض لوگ صلح کرانا اس کو سمجھتے ہیں کہ جہاں دو آدمیوں میں نزاع ہوا فوراً دونوں کا مصافحہ کرادیا جائے،خواہ فریقین کے دل میں کچھ بھی بھرا ہو،میں کبھی ایسا نہیں کرتا؛بلکہ صاف صاف کہتا ہوں کہ پہلے معاملہ کی اصلاح کرو پھر مصافحہ کرو ورنہ بدون اصلاح معاملہ کے مصافحہ بے کار ہے اس سے فریقین کے دل کا غبار بھی نہیں نکلتا تو مصافحہ کے بعد پھر مکافحہ یعنی مقاتلہ (لڑائی جھگڑا) شروع ہوجاتا ہے۔ ۴۵۔کسی دوست یا دشمن کے زوال نعمت سے اگر اندر سے دل خوش ہواگرچہ بظاہر اس سے اظہار افسوس بھی کیا جائے،یہ چونکہ غیر اختیاری ہے اور اس کو مذموم بھی سمجھا جاتا ہے اس لئے معصیت نہیں؛البتہ نقص ہے اس کا علاج بہ تکلف اس شخص کے لئے دعا کرنا ہے بکثرت ایسا کرنے سے ان شاء اللہ یہ نقص زائل ہوجائے گا۔ ۴۶۔جو بات خود کونا گوار گزر ے وہی مصیبت ہے اوراس پر انا للہ پڑھنا ثواب ہے۔ تبلیغ اسلام کا کام زیادہ تر شفقت سے بھرا ہوا ہے،جس کو امت کے حال پر شفقت ہوگی وہی تبلیغ کے مصائب کو خوشی سے برداشت کرسکے گا۔ ۴۷۔اسلام کا ایک حسن یہ ہے کہ اس کو اپنی اشاعت کے لئے نہ زر کی ضرورت ہے نہ زور کی۔ ۴۸۔کمال شریعت یہی ہے کہ اس میں تمام انسانی حالات کے متعلق مفصل قواعد موجود ہیں کوئی جزئی ایسی نکلنی ممکن نہیں جس کے متعلق شریعت نے حکم نہ دیا ہو۔ ۴۹۔آدمی قناعت اوراکتفا اورضروری سامان کے ساتھ رہے تو تھوڑی آمدنی میں بھی رہ سکتا ہے اور فرض منصبی کو بھی ایسا ہی تقویٰ والا ادا کرسکتا ہے۔ ۵۰۔اکثر لوگ بچپن میں تربیت کا اہتمام نہیں کرتے یوں کہہ دیتے ہیں کہ ابھی تو بچے ہیں حالانکہ بچپن ہی میں عادت پختہ ہوجاتی ہیں جیسی عادت ڈالی جاتی ہے وہ اخیر تک رہتی ہے اوریہ وقت ہے اخلاق کی درستی کا اورخیالات کی پختگی کا،چنانچہ اول سے ماں باپ میں رہتا ہے اوران کو ماں باپ سمجھتا ہے تو اگر بعد میں کوئی شک ڈالے خواہ کتنے ہی لوگ شک میں ڈالنے والے ہوں تو کبھی شک نہ ہوتا بچپن کا علم ایسا پختہ ہوتا ہے کہ کبھی نہیں نکلتا۔ ۵۱۔نیند کا اصل علاج یہ ہے کہ پانی کم پیو،ستر اہل مجاہدہ کا قول ہے کہ نیند کا مادہ پانی سے ہے،اس کو امام غزالی نے لکھا ہے،پھر بھی اگر نیند آوے تو سیاہ مرچ چبا لو اور دن کو تھوڑا سا سوجایا کرو۔ ۵۲۔کھانا کھانے میں میرے سامنے سے اگر کوئی پیالہ اٹھا لیتا ہے تو نا گوار ہوتا ہے،اگر اورسالن کی ضرورت ہو تو دوسرے پیالہ میں لانا چاہئے،کھانے والا آدمی اتنی دیر بے کار بیٹھا ہوا کیا کرے۔ ۵۳۔مجھ سے جب کوئی مشورہ لیتا ہے تو میں مشورہ دینے کے بجائے یہ لکھ دیتا ہوں کہ اگر مجھے یہ واقعہ پیش آتا تو میں یہ کرتا،یہ نہیں کہتا کہ تم بھی ایسا کرو،آج کل اکثر مواقع پر مشورہ دینا بے وقوفی ہے،الزام ضرور آتا ہے۔ ۵۴۔جو دین کا پابند نہیں ہوتا اس کی دنیا کی سمجھ بھی خراب ہوجاتی ہے اور جو شخص دین دار ہوتا ہے گو تجربہ دنیا کا نہ ہو لیکن دنیوی امور میں بھی اس کی سمجھ سلیم ہوجاتی ہے حلال روزی میں بھی یہی اثر ہے برخلاف اس کے حرام روزی سے فہم مسخ ہوجاتی ہے۔ ۵۵۔قبر کے نشان کے لئے صرف ایک سادی سل پتھر کی سرہانے کھڑی کردے بس اتنی علامت کافی ہے۔ ۵۶۔عورتیں قابل تعریف وترحم ہیں ان میں دو صفتیں تو ایسی ہیں کہ مردوں سے بھی کہیں بڑھی ہوئی ہیں، خدمت گاری اورعفت ،عفت تو اس درجہ ہے کہ مرد چاہے افعال سے پاک ہوں لیکن وسوسوں سے کوئی بھی شاید خالی ہو،اورشریف عورتوں میں سے اگر سوکولیا جائے تو شاید سوکی سوا ایسی نکلیں گی کہ وسوسہ تک بھی ان کو عمر بھر نہ آیا ہو اسی کو حق تعالیٰ فرماتے ہیں ۔(المحصنات الغافلات) ۵۷۔دوسروں پر ہنسنانہ چاہئے اکثر دیکھا ہے جو جس پر ہنسا خود اس عیب یا مصیبت میں مبتلا ہوا۔ ۵۸۔وجد وگریہ اکثر ضعف قلب کی وجہ سے ہوتا ہے،یہ کوئی ایسی قابل اعتبار چیز نہیں کہ اس کی فکر میں رہے۔ ۵۹۔نشست وبرخاست سب میں اس امر کا خیال رکھنا چاہئے کہ کسی کو تکلیف یا تنگی تو نہیں ہوتی ،گول بات ہرگز نہیں کہنی چاہئے، سوال کو خوب سمجھ کر پورا اورصاف جواب دینا چاہئے تاکہ دوسرے کو با ر بار پوچھنا نہ پڑے۔ ۶۰۔جب کھانے میں یا اورکسی کام میں کوئی مشغول ہو تو آنے والے کو چپکے سے بیٹھ جانا چاہئے یہ نہیں کہ بیچ میں سلام کرکے لٹھ سا آکر ماردیا مصافحہ کرنے لگے یہ بدتہذیبی کی بات ہے اور ایذا کا سبب ہے۔ ۶۱۔اہل اللہ کی نسبت یہ خیال کرنا کہ کون بڑا ہے کون چھوٹا ہے بے ادبی ہے، خدا کو معلوم ہے کہ اس کے نزدیک کون زیادہ مقبول ہے سب سے حسن عقیدت رکھنا چاہئے۔ ۶۲۔جیسے طبیعت کو آزاد چھوڑدینا مضر ہے اسی طرح زیادہ مقید کرنے سے بھی تنگ ہوجاتی ہے بس نماز میں اتنی توجہ کافی ہے جیسے کسی کو کوئی سورت کچی یاد ہو اور سرسری طور پر سوچ کر پڑھتا ہے اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں،پھر اگر اس کے ساتھ بھی وساوس آئیں تو ذرا مضر نہیں۔ ۶۳۔آدمی سب کو خوش نہیں رکھ سکتا جب ہر حال میں اس پر برائی آتی ہے پھر اپنی مصلحت کو کیوں فوت کرے جس کا م میں اپنی مصلحت اورراحت دیکھے بشرط اذن شرعی وہی کرے کسی کی بھلائی برائی کا خیال نہ کرے۔ ۶۴۔سب میں ایک مرض ادھوری بات کہنے کا ہے الا ماشاء اللہ یہ بہت ہی تکلیف دہ حرکت ہے۔ ۶۵۔فقہی کتابوں میں تصوف ہی ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے حلال و حرام کی تمیز ہوگی،حرام سے بچیں گے تو اس سے نور پیدا ہوگا، علم و عمل کی توفیق ہوگی اوراس سے بھی قرب الہی نصیب ہوگا، یہی تصوف ہے۔ ۶۶۔آدمی گناہ کرے اوراپنے کو گناہ گار سمجھے یہ اچھا ہے اس سے کہ گناہ کو رنگ عبادت میں ظاہر کردے یہ بہت ہی برا ہے،گناہ کو گناہ تو سمجھو۔ ۶۷۔جس شخص کے لئے مانگنا حرام ہے اس کو اس کے مانگنے پر دینا بھی حرام ہے البتہ دینے والے کو اگرمعلوم نہ ہو تو معذور ہے۔ ۶۸۔مال کی قدر کرو مال دنیا کی زندگی کا سہارا ہے اس کو ہوش و عقل کے ساتھ خرچ کرو اوراگر خرچ کرنے ہی کا جوش ہے تو اللہ کی راہ میں دو اس میں حوصلہ آزمائی کرو۔ (ماخوذاز ‘‘ملفوظات کمالاتِ اشرفیہ’’باب اول) ۶۹۔وقت پر کام کرنے سے ذرا اہتمام تو کرنا پڑتا ہے مگر کام کرکے بے فکری ہوجاتی ہے،اگر تساہل کیا جائے تو بعد میں بڑا بار اور دقت پیش آتی ہے۔ ۷۰۔جو لوگ مولویوں کو حقیر سمجھتے ہیں ان کے ساتھ مولوی نرمی کرتے ہیں مجھ کو برا معلوم ہوتا ہے ان کے ساتھ تو معاملہ کرنا چاہئے (التکبر مع المتکبرین عبادۃ)"تکبر والوں سے تکبر کرنا عبادت ہے" ۷۱۔جیسے یہ لوگ علماء کو احمق سمجھتے ہیں ان کو بھی دکھانا چاہئے کہ تم کو بھی کوئی احمق سمجھتا ہے،ان سے تو یوں کہنا چاہئے کہ ہم سے تم سوائے تکلف کے کپڑوں کے اورکیا زیادہ ہے،سوجن پر کپڑوں کا رعب ہوگا ان پر ہوگا ہم کپڑوں سے کیوں معزز سمجھیں۔ ۷۲۔اگر اطاعت حق کرنے والے لوگ طعن وملامت کریں تو کچھ پرواہ نہ کرنی چاہئے یہ ملامت پختگی کا ذریعہ ہے،ضد ہی کی بدولت جد (کوشش)پیدا ہوتی ہے۔ ۷۴۔کسی کام کی پیشگی اجرت لینے کے تذکرہ میں فرمایا کہ پیشگی لینے کے بعد کام پورا کرنا مشکل پڑجاتا ہے اوربیگار کی طرح پورا کیا جاتا ہے اس لئے پیشگی لینا ٹھیک نہیں چڑھا کرلینے میں خوشی زیادہ ہوتی ہے۔ ۷۵۔جب میں کوئی کتاب یا مضمون لکھتا ہوں تو ناغہ نہیں کرتا بعض اوقات بالکل فرصت نہ ملی تو برکت کے لئے صرف ایک ہی سطر لکھ لی اس سے تعلق قائم رہتا ہے ورنہ اگر ناغہ ہوجائے تو پھر بے تعلق ہوکر مشکل سے دوبارہ نوبت آتی ہے۔ (ماخوذ از ‘‘ملفوظات کمالاتِ اشرفیہ’’ باب دوم) ۷۶۔محبوب حقیقی جب تم کو رلائیں (مصیبت، بیماری یا کسی کی موت)تو روؤ تاکہ تمہارا افتقار اور عجز ظاہر ہو، حضرت امیر المومنین عمر فاروق ؓ بیمار ہوئے، کسی نے پوچھا کہ حضرت طبیعت کیسی ہے؟ فرمایا اچھی نہیں بیمار ہوں، کسی نے پوچھا کہ حضرت تو بڑے عارف ہیں، آپ بھی جزع فزع کرتے ہیں،فرمایا کہ دیوانے ہو کیا اپنے خدا کے سامنے بہادر بنوں کہ وہ تو میرا ضعف ظاہر کریں اورمیں قوت ظاہر کروں۔ (معارف اشرفیہ،ص:۳۱ بحوالہ رفع الموانع ،ص:۳۰) ۷۷۔بعض لوگ انبیاء ؑ کی تہذیب کے ساتھ توہین کرتے ہیں،آج کل کے واعظین،مصنفین اور مدرسین حضورﷺ کی فضیلت دیگر انبیاء علیہم السلام کے مقابلہ میں اس طرح ثابت کرتے ہیں کہ اس سے تنقیص انبیاء علیہم السلام لازم آتی ہے گو ان کی نیت تنقیص کی نہ ہو مگر اس طرح مقابلۃً حضورﷺ کی فضیلت بیان کرنا جس سے دوسرے انبیاء علیہم السلام کی تنقیص کا وہم ہوجائز نہیں۔ (معارف اشرفیہ،ص:۳۲،بحوالہ شکر نعمت بذکر رحمۃ الرحمہ،ص۳۳) ۷۸۔خشیت تو علم سے پیدا ہوتی ہے اگر علم نہیں تو خشیت بھی نہیں۔ (معارف اشرفیہ،ص:۳۵،بحوالۂ الظاہر،ص:۵۴) ۷۹۔ہماری تواضع بھی تکبر ہے؛چنانچہ اگر کوئی شخص تعریف کرے تو کہتے ہیں کہ صاحب میں تو محض نالائق ہوں مگر دل سےہرگز ایسا نہیں سمجھتے،اگر زبان سے کہا تو تکبر ہے،اس کا امتحان یہ ہے کہ تعریف کرنے والا ذرا پلٹ کر کہہ دے کہ ہاں جناب آپ بڑے نالائق ہیں، مجھ کو معلوم نہ تھا اس لئے تعریف کرتا تھا،بس اب دیکھے ان کی کیا حالت ہے گولی مارنے کو تیار ہوجائیں گے،عمر بھر آپس میں بغض ہوجائے گا۔ (معارف اشرفیہ،ص:۳۹،بحوالۂ التقویٰ،ص:۱۱) ۸۰۔عمل کی نیت نہ ہوتب بھی علم حاصل کرو، اس سے بہت سی خرابیاں دور ہوجائیں گی مثلا عقائد کی؛کیونکہ اس میں کچھ کرنا نہیں پڑتا، دوسرے اگر عمل کی توفیق ہوئی تو راستہ معلوم ہوگا۔ (معارف اشرفیہ،ص:۴۰ بحوالہ‘‘التقویٰ،ص:۲۵) ۸۱۔عبادت سے مقصود معبود کی عظمت دل میں پیدا کرنا ہے اورجوارح سے اس کی عظمت کا اظہار کرنا ہے۔ (معارف اشرفیہ،ص:۴۸ ،الفاظ القرآن،ص:۴۶) ۸۲۔عالم حقانی وہی ہے جو تمہاری مرضی کے موافق(لالچ،رشوت لے یا عہدہ کے ڈر سے ) فتویٰ نہ دے۔ (معارف اشرفیہ،ص:۵۰،بحوالہ الفاظ القرآن،ص:۹) ۸۳۔بعض لوگ آدمی سے جانور بنتے ہیں، کسی کا لقب طوطئی ہند ہے کسی کا بلبل ہند اور مزایہ کہ اس کو فخر سمجھتے ہیں، بھلا اس میں بھی کچھ فخر ہے کہ آدمی سے طوطی اوربلبل بن گئے،کیا یہ جانور آدمی سے افضل ہیں، خدا کا شکر کرو کہ اس نے تمہیں آدمی بنایا مسلمان بنایا نمازی بنایا۔ (معارف اشرفیہ،ص:۵۴ بحوالۂ مظاہر الآمال،ص:۲۶) ۸۴۔آج کل بعض اہل علم میں یہ مرض ہے کہ اگر غلط بات منہ سے نکل جائے تو پھر اسی کے دفاع میں لگ جاتے ہیں، اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے، غلط تاویلات کرتے ہیں، ایسے شخص کے فتویٰ پر کچھ اعتماد نہیں،قابل اعتماد وہ شخص ہے جو ایک بچہ کے کہنے سے بھی اپنی رائے کو چھوڑدے اگر اس کی بات ٹھیک ہو۔ (معارف اشرفیہ،ص:۵۷،مطاہر الاقوال،ص:۳۶) ۸۵۔سلب قدرت گناہ بھی نعمت ہے یعنی ارادہ معصیت کے بعد بندہ سے گناہ کی قدرت سلب کرلی جائے۔ (معارف اشرفیہ،ص:۵۸،بحوالۂ عصم الضوف عن رغم الانوف،ص:۹) ۸۶۔تذکرۂ مصیبت سے مصیبت بڑھ جاتی ہے (عورتوں میں چونکہ مصیبت یا موت کا تذکرہ ہوتا رہتا ہے اس لئے غم تازہ رہتا ہے) روزہ میں شدت گرمی اورپیاس کا بار بار تذکرہ نہ کیا جائے ورنہ روزہ اورلگے گا۔ (معارف اشرفیہ،ص:۵۸،بحوالۂ عصم الضوف عن رغم الانوف،ص:۹) ۸۷۔اطمینان قلب کے لئے مال جمع کرنا جائز ہے یعنی اگر کسی کو بغیر مال جمع کئے ہوئے اطمینان نہ ہو تو اس وقت دین ہی کی مصلحت سے مال جمع کرنے کی اجازت دی گئی ہے کیونکہ بغیر اطمینان کے دین کا کام نہیں ہوسکتا۔ (معارف اشرفیہ،ص:۶۱،بحوالۂ استمرار التوبۃ،ص:۱۹) ۸۸۔مسلمان جب کسی شرعی عمل کا اہتمام کرتا ہے تو حق تعالیٰ چند روز کے بعد اسے طبعی بنادیتے ہیں کہ دل میں ایک داعیہ ایسا پیدا ہوجاتا ہے جو اس سے بالاضطرار کام کراتا رہتا ہے ورنہ بندہ کے ارادہ واختیار میں اتنی قوت نہیں کہ دواماً اس سے یہ اعمال صادر ہوسکیں۔ (معارف اشرفیہ،ص:۶۳،بحوالۃ ارضاء الحق،ص:۲۲ حصہ دوم) (۸۹)اگرچہ عرفاً بخل کو زیادہ برا سمجھا جاتا ہے مگر دلائل اورمشاہدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انجام کے اعتبار سے اسراف بخل سے زیادہ برا ہے کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ فضول خرچوں نے اپنا سارا گھر برباد کردیا، تنگ دستی اورافلاس سے پریشان ہوکر عیسائی ہوگئے لیکن ایک بخیل کو بھی نہیں دیکھا کہ دولت جمع کرکے اس نے دین کو بدل دیا ہو۔ (معارف اشرفیہ،ص:۷۱،بحوالۂ رجاء اللقاء،ص:۳۰) ۹۰۔ایک نیکی دوسری نیکی کے نور کو بڑھاتی ہے اورقوی کرتی ہے؛چنانچہ عابدین وسالکین خوب جانتے ہیں کہ اگر ایک دن تہجد قضا ہوجائے تو سارے دن کی عبادت میں وہ لطف محسوس نہیں ہوتا،اسی لئے صاحب عمل کا وعظ پرتاثیر اوراحسن ہوتا ہے۔ (معارف اشرفیہ،ص:۸۰،بحوالۂ الدعوات الی اللہ،ص:۱۶) ۹۱۔جو بات دل سے نہیں نکلتی اس کا اثر اول تو ہوتا نہیں اگر عارضی طور پر ہوجاتا ہے تو باقی نہیں رہتا چنانچہ رنگین وعظ سن کر بعض لوگوں کو رونا آجاتا ہے مگر مجلس سے اٹھے اورسب اثر جاتارہا۔ (معارف اشرفیہ،ص:۸۵،خیر المال للرجال،ص:۸) ۹۲۔افسوس ہم لوگ تہذیب کو ہی نہیں سمجھتے ،تہذیب یہ ہے کہ تمام رذائل نفس کے دور ہوجائیں نہ کہ مزاج میں قدر ے نظافت یا تکلف آجائے۔ (معارف اشرفیہ،ص:۱۴۲ بحوالۂ ضرورۃ العمل فی الدین،ص:۱۸) ۹۳۔استاذ کے لئے مربی ہونا ضروری ہے اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو استاد بننے کے قابل نہیں۔ (معارف اشرفیہ،ص:۱۴۲،بحوالہ ضرورۃ العمل فی الدین،ص:۲۵) ۹۴۔محض سفر مکہ سے خدا نہیں ملتا،مثلاً اگر کوئی نفل حج کرکے بیوی کا حق ضائع کرے تو خدا تعالی کب راضی ہوسکتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ بعض صورتوں میں حج بھی ناجائز ہے۔ (معارف اشرفیہ،ص:۱۴۲،بحوالۂ طریق القرب،ص:۷) (۱)جب ظلم ہورہا ہو تو مسلمان کے لئے شریعت میں دو ہی تعلیم ہے :اگر قوت ہو تو مقابلہ کریں اور اگر کمزور ہیں تو صبر کریں ۔ (۲)اس زمانہ میں مالدار ہونا بھی مصلحت ہے ، اس میں تین فائدے ہیں : کسی کو اس سے تکلیف نہ ہوگی ، سماج میں عزّت ملے گی اور کسی کی محتاجی نہ رہے گی ۔ (۳)تین باتیں جس میں پائی جائیں اس کی صحبت غنیمت ہے : فقیہ ہونا ، محدث ہونا ، اور صوفی ہونا ۔ (۴)حبِّ دنیا کا علاج یہ ہے کہ موت کو کثرت سے یاد کرے ، بہت تعلقات نہ بڑھائے ، فضول خرچی نہ کرے ، موٹا کھانا اور موٹے کپڑے کی عادت رکھے ، غریبوں میں نشست و برخاست رکھے ، تارک الدنیا بزرگوں کے واقعات کا مطالعہ کرے اور جس چیزسے لگاؤ زیادہ ہے اس کو خیرات کردے۔ (۵)روزی کا مدار عقل پر نہیں محض عطائے حق پر ہے ، ایسے لاکھوں ہزاروں ہیں کہ وہ بیوقوف ہیں مگر ان کو رزق عقل والوں سے ہزاروں درجہ زائد مل رہاہے ، پس اگر کسی کو وسعتِ رزق میسر ہوجائے تو اس کی قدر کرنی چاہئے اور اس کا خیال رکھنا چاہئے کہ کفرانِ نعمت نہ ہونے پائے ۔ (۶)روپیہ کو حفاظتِ دین کا ذریعہ بنانا اس کی اعلیٰ درجہ کی قدردانی ہے ، مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ اس قدراس کی قدر کرو کہ دین کی بےقدری ہونے لگے، اگر دونوں کو جمع نہ کرسکو تو پھر دنیا کو دین پر نثار کردو، اور اگر جمع کرسکو تو کرو مگر اس کی وہی شرط ہے کہ دین محفوظ رہے ، حقوقِ واجبہ ادا ہوتے رہیں ، ورنہ وہ مال وبال ِ جان بلکہ وبالِ ایمان ہوجائےگا ۔ (۷)محض محبت طبعی سے کام نہیں چلتا بلکہ محبت ِ عقلی کی بھی ضرورت ہے ، خواجہ ابو طالب کو حضور ﷺ کے ساتھ طبعی محبت تھی مگر عقلی نہ تھی اس لئے وہ کچھ بھی کام نہ آئی ، اگر ان کو عقلی محبت بھی ہوتی تو سب سے پہلے وہی ایمان لاتے ۔ (۸)سلامتی اسی میں ہے کہ شغل سے خالی نہ رہے خواہ دنیا ہی کے کسی جائزکام میں مشغول ہو، ہر حال میں شغل بےشغلی سے اچھا ہے ، تجربہ ہے کہ جب انسان بالکل خالی ہوتا ہے تو شیطان اس پر مسلط ہوجاتا ہے ۔ (۹)آفت آج کل یہ ہے کہ کام شروع کرتے ہی ثمرات کے طالب ہوجاتے ہیں ، ارے میاں کیا ثمرات لئے پھرتے ہو، یہی کیا تھوڑا ہے کہ کام میں لگ جانے کی توفیق عطا فرمادی گئی ہے ۔ (۱۰)قرب ِ الٰہی کے لئے ظاہر و باطن دونوں کی تکمیل اور درستی کی ضرورت ہے ، یہ افراط و تفریط ہے کہ بعض نے ظاہر سے انکار کردیا اور بعض نے باطن سے ۔ (۱۱)کامل وہ ہوتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی سنّت کا پورا متبع ہو ، طریق ِ سنّت میں اعتدال ہے ، افراط و تفریط نہیں ہوتی ۔ (۱۲)مکمل یکسوئی کا انتظار فضول ہے ، یہ تو دنیا میں پھنس کر ہو ہی نہیں سکتی اس کے حصول کا طریقہ یہ ہے کہ اس پریشانی کی حالت میں تعلق مع اللہ کا سلسلہ بھی شروع کردو ، پھر رفتہ رفتہ اطمینان بھی نصیب ہوجائےگا ، ورنہ عمر یونہی ختم ہوجائےگی اور یکسوئی نصیب نہ ہوگی ۔ (۱۳)مسلمان کے لئے یہی ایک کارآمد چیز ہے کہ خدا کے راضی کرنے کی سعی میں لگا رہے ، اگر وہ راضی ہیں تو اس نہ سب کچھ پالیا اور حاصل کرلیا ، ورنہ تو اگر اس کو دنیا وما فیہا بھی مل جائے تو مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت نہیں رکھتی ۔ (۱۴)سب کو مل کر کام کرنے کے یہ معنی نہیں کہ سب ایک ہی کام میں لگ جائیں یا ایک کا کام دوسرے کرنے لگیں یہ علاوہ دین کے عقل کے بھی خلاف ہے ، ہر شخص کو اپنا اپنا کام انجام دینا چاہئے یہی کامیابی کا راستہ ہے ورنہ گڑبڑ کرنے سے کچھ بھی نہیں ہوسکتا ۔ (۱۵)ہر قوم کے لئے تقسیمِ خدمات ضروری ہے بدون اس کے کام نہیں چل سکتا، پس مطالب ِ قرآن و حدیث اور احکامِ دین تو لیڈروں کو علماء کرام سے پوچھنا چاہئے ، اور ترقئ قوم کے اسباب و وسائل لیڈروں کو سوچنا چاہئے ۔ (۱۶)ریاضت سے اخلاق ذمیمہ کے اصول کا ازالہ نہیں ہوتا بلکہ ان کی تہذیب ہوجاتی ہے (یعنی اصول ختم نہیں ہوجاتے بلکہ ان کا مصرف بدل جاتا ہے )۔ (۱۷)آپ لوگ اگر اپنی پوری اصلاح نہ کرسکیں تو کم از کم دو باتوں کا اہتمام کرلیں ایک یہ کہ اپنے عقائد صحیح کرلیں دوسرے جو ناجائز اعمال کرتے ہیں ان کو حرام سمجھ کر کریں ، کھینچ تان کر ان کو جائز کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ (۱۸)لوگ خاص خاص چیزوں کو کمال سمجھتے ہیں ، کوئی عبادت کو ، کوئی تقویٰ کو ، مگر محققین سب سے بڑا کمال اس کو سمجھتے ہیں کہ بندہ اپنے نقائص کو پیش نظر رکھے ۔