انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** غارت گری جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے عرب میں دو قسم کے لوگ تھے،ایک وہ جو شہروں اور بستیوں میں آباد تھے دوسرے وہ جو خانہ بدوشی کی حالت میں پھرتے تھے اورتعداد میں زیادہ تھے،شہری لوگوں میں اگرچہ حقوق ہمسایہ کی رعایت،امانت داری،دیانت وغیرہ صفات تھے مگر تجارت میں مکرودغا،دھوکہ بازی وغیرہ عیوب ان میں بھی موجود تھے،خانہ بدوش یا بدوی رہزنی اورڈاکہ ڈالنے میں بے حد مشاق تھے،مسافروں کو لوٹ لینے اور زبردستی کسی کا مال چھین لینے کی سب کو عادت تھی اگر کسی شخص کو تنہا صفر میں پاتے تو اس کا مال چھین لیتے اوراس کو غلام بنا کر بیچ ڈالتے، راستوں میں جو کنوئیں بنے ہوتے ہیں ان کو گھاس وغیرہ سے چھپادیتے کہ مسافر کو پانی نہ مل سکے اور پیاس سے مرجائے تو بلا زحمت اس کا مال ہاتھ آئے،چوری میں خوب مشاق تھے،بعض بعض تو چور ی میں اس قدر مشہور تھے کہ ان کے نا م بطور ضرب المثل مشہور ہوئے، ان چوروں کو ذوبان العرب(عرب کے بھیڑئیے) بھی کہا جاتا تھا۔ تکبر وتکبر کی رذیل صفات بھی عرب جاہلیت میں حد کو پہنچی ہوئی تھی،جذیمہ ابرش کے تکبر کی یہ حالت تھی کسی کو اپنا وزیر ومشیر اورہم نشین نہیں بنایا،وہ کہتا تھا کہ فرقدین ستارے میرے ہم نشین ہیں بنی مخزوم بھی تکبر کے لئے کافی شہرت رکھتے تھے،اسی تکبر کا نتیجہ تھا کہ انبیاء ورسل اورہادیان برحق کے مواعظ حسنہ سننے اوراحکام الہی کی فرماں برداری کرنے کو بھی عیب جانتے تھے۔