انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** امام احمد بن حنبلؒ (م ۲۴۱ ھ) علم کلام کا عالم کبھی دینی فہم میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے، تم جس شخص کو دیکھو کہ علم کلام سے دلچسپی رکھتا ہے سمجھ لو کہ اس کے دل میں شک و شبہ اورفساد ضرور ہوگا۔ ۲۔ہم صحابہ ؓ کے باہمی تشاجرات وقضایا میں نہیں پڑتے اوران کے معاملات اللہ کے حوالہ کرتے ہیں۔ ۳۔اللہ تعالی ہر صدی کے آخر میں لوگوں کی ہدایت کے لیے ایسے شخص کو پیدا کرتا ہے جو سنت کی تعلیم دیتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ذات سے کذب و افتراء دور کرتا ہے،ہم نے غور کیا تو پہلی صدی کے آخر میں عمر بن عبد العزیز ؓ اوردوسری صدی کے آخر میں امام شافعیؒ نظر آئے۔ ۴۔ وہ شخص کتنا خوش نصیب ہے جس کے حصہ میں اللہ تعالی گم نامی لکھ دے، اگر کسی انسان میں ایک سونیک خصلتیں ہیں لیکن وہ شراب خور ہے تو ایک خصلت ان سب کو ختم کردے گی۔ ۵۔ایسے شخص سے علم نہ حاصل کرو،جو علم کے بدلے دنیا کا طالب ہے۔ ۶۔ابو حاتم رازی ؒ نے امام صاحب ؒ سے دریافت کیا کہ آپ واثق کی تلوار اورمعتصم کی سزا سے کیسے بچ گئے ؟ فرمایا: "ابو حاتم! سچائی اگر زخم پر رکھ دی جائے تو فوراً اچھا ہوجائے گا" ۷۔ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍایک مرتبہ ایک صاحب نے امام صاحب ؒ کو متفکر بیٹھے ہوئے دیکھ کر پوچھا،بھتیجے! کیوں غمگین ہو؟آپ نے کہا: "چچا خوشی اس شخص کے لیے ہے جس کا ذکر جمیل اللہ تعالی دنیا میں باقی رکھے" ۸۔اسحاق بن منصور کا بیان ہے کہ میں نے امام صاحب ؒ سے پوچھا کہ حضرت ابن عباسؒ کے اس قول میں کون سا علم مراد ہے ((تذاکر العلم بعض لیلۃ احب الی من احیاء ھا)) "رات کے ایک حصے میں علم کا مذاکرہ میرے نزدیک پوری رات کی عبادت سے زیادہ پسندیدہ ہے" امام صاحب ؒ نے فرمایا‘‘اس سے مراد وہ علم ہے جس سے لوگ دینی فائدہ اٹھائیں، میں نے کہا دینی فوائد میں وضو، نماز، روزہ ،حج اور طلاق وغیرہ داخل ہیں؟فرمایا کہ "ہاں" اس کے بعد ابن راہویہ نے اس کی تصدیق کی۔ ۹۔اہل بدعت سے صاف صاف کہہ دو کہ ہمارے تمہارے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔ ۱۰۔جو شخص حدیث کو اس کے کثرت طرق اوراختلاف کے ساتھ جمع نہ کرے، اس کو کسی حدیث کے بارے میں حکم لگانا،یا حدیث سے فتویٰ دینا جائز اورحلال نہیں ہے۔ ۱۱۔جب ہم رسول اللہ ﷺ سے حلال و حرام اور سنن واحکام میں احادیث کی روایت کرتے ہیں تو سندوں اور راویوں کے بارے میں شدت سے کام لیتے ہیں اور جب فضائل اعمال کی حدیثیں یا ایسی حدیثیں جن سے کوئی حکم ثابت نہ ہوتا ہو تو سندوں میں نرمی سے کام لیتے ہیں۔ ۱۲۔ایک مرتبہ آپ کے سامنے دنیا کا ذکر آیا تو فرمایا کہ دنیا کا کم حصہ کافی اورزیادہ حصہ ناکافی ہوتا ہے۔ ۱۳۔جو آدمی محدثین کی تعظیم کرےگا؛کیونکہ محدثین رسول اللہ ﷺ کے ابدال واحبار ہیں،اگر محدثین ابدال نہیں ہیں تو کون لوگ ابدال ہیں؟ ۱۴۔امام صاحب کے سامنے ایک عالم کا تذکرہ ہوا جنہوں نے اپنی غلطی پر توبہ کرلی تھی، آپ نے فرمایا کہ اس عالم کی توبہ اس وقت تک قبول نہیں ہوگی جب تک وہ علی الاعلان توبہ اور اپنے قول سے رجوع نہ کرے اور صاف طور سے نہ کہے کہ میں نے اس طرح کہا تھا اوراب میں اپنے قول سے اللہ کی جانب میں توبہ کرکے رجوع کرتا ہوں اللہ تعالی فرماتا ہے: "إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ" (البقرۃ:۱۶۰) "مگر وہ لوگ جو توبہ کرلیں اور خیر خواہی کریں اور حق کی وضاحت کریں تو میں ان لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہوں" ۱۵۔خلق قرآن کے بارے میں لوگوں کے چھیڑ نے سے پہلے ہم خاموشی بہتر سمجھتے تھے مگر جب لوگوں نے اسے چھیڑدیا تو ہمارے لیے اس کی مخالفت کے سو اکوئی چارہ نہیں تھا۔ (سیرت ائمہ اربعہ:ص:۲۴۵،۲۴۷) ۱۶۔میں نے جو حدیث لکھی اس پر عمل کیا، یہاں تک کہ جب مجھے یہ حدیث معلوم ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اورابو طیبہ نامی حجام کو ایک دینار عنایت فرمایا تو میں نے بھی پچھنے لگوا کر حجام کو ایک دینار دیا۔ (مناقب الامام احد:۱۷۹) حدیث پر عمل کرنے کا سب سے آسان نسخہ یہی ہے کہ انسان جب بھی کوئی حدیث سنے اس پر فوراً عمل شروع کردے۔ ۱۷۔دو خصلتیں ایسی ہیں کہ ان کاعلاج بہت دشوار ہے،ایک لوگوں سے طمع کا قطع کرنا، دوسرے اللہ تعالی کے لئے عمل میں اخلاص پیداکرنا۔ (صفوۃ الصفوۃ،ص:۲۲۷ے) ۱۸۔جس کی عقل بڑھائی جاتی ہے اس کا رزق کم کردیا جاتا ہے۔ ۱۹۔بقدر ضرورت دنیا کا طلب کرنا حب دنیا میں داخل نہیں۔ ۲۰۔حضرت خضر ؑ نے حضرت موسیؑ کو نصیحت فرمائی تھی کہ کسی گناہ گار کو اس کے گناہ پر کبھی عار مت دلاؤ اوراسے حقیر مت سمجھو۔ ۲۱۔اگر علم تمہیں نفع نہ پہنچائے تو وہ تمہیں ضرر پہنچائے گا۔ ۲۲۔طالب حق اس وقت تک عقل مند نہیں کہلاسکتا جب تک اپنے نفس کو تمام مسلمانوں سے کم تر نہ سمجھے۔ ۲۳۔اگر کوئی شخص تمہارا حق غصب کرلے اوربغیر مقدمہ بازی کے اس کی وصولی کی توقع نہ ہو تو اس حق کو چھوڑدو،کیونکہ تمہارے دین کی اس میں حفاظت ہے۔ ۲۴۔قرن اولی میں جو لوگ بد عمل سمجھے جاتے تھے وہ اس زمانہ کے صلحاء واتقیاء سے بہتر ہیں۔ ۲۵۔نیکی کے ہرکام کو جلدی اختیار کرو۔ (ائمہ اربعہ کے دربار میں ،ص:۱۰۳،بحوالہ مناقب الامام أحمد بن حنبل للامام ابن الحوزیؒ،ص:۱۹۲) ۲۶۔ہر چیز کی ایک عزت ہے اوردل کی عزت یہ ہے کہ وہ اپنے رب سے راضی ہو۔ (ائمہ اربعہ کے دربار میں،ص:۱۰۵،بحوالہ مناقب الامام احمد بن حنبل،ص:۲۰۵) ۲۷۔مجھے ایسی چیز کی خواہش ہے جو ہونے والی نہیں،میں چاہتا ہوں ایسی جگہ ہو جہاں کوئی نہ ہو۔ ۲۸۔تنہائی میں میرے دل کو راحت ملتی ہے،میں چاہتا ہوں کہ نہ کوئی مجھے دیکھے اورنہ میں کسی کو دیکھوں،مکہ مکرمہ کی گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں جابیٹھوں جہاں کوئی جان پہچان والا نہ ہو۔ (ائمہ اربعہ کے دربار میں ،ص:۱۱۵،بحوالہ مناقب الامام أحمدبن حنبل،ص:۲۸۱)