انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
امامت و اقتداء کے متفرق مسائل واحکام امام مقتدیوں سے کتنی بلندی پر کھڑا رہ سکتا ہے؟ بلندی کی کم از کم مقدار اور حد سے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے، اس لئے کہ اس کے متعلق جو احادیث آئی ہیں ان میں مقدار کی تصریح نہیں ہے،حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے امام کو مقتدی سے بلند جگہ پر کھڑے رہنے سے ممانعت فرمائی ہے اور ابو داؤد شریف میں روایت ہے کہ حضرت عمار بن یاسرؓ نے مدائن میں نماز پڑھائی تو مقتدیوں سے بلندی پر کھڑے رہے، حضرت حدیفہؓ یہ دیکھ کر آگے بڑھے اور ہاتھ پکڑ کر نیچے کھینچ لائے، نماز کے بعد فرمایا: کیا آپؓ نے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد نہیں سنا کہ:" جب کوئی شخص کسی جماعت کی امامت کرے تو ایسی جگہ نہ کھڑا ہو جو جماعت کی جگہ سے بلند ہو"۔ حضرت عمارؓ نے فرمایا: اسی لئے تو میں نے یہ کیا کہ جب آپؓ نے میرا ہاتھ پکڑا میں نے آپؓ کی تعمیل کردی۔ ان دونوں روایتوں میں بلندی کی کوئی حد اور مقدار مذکور نہیں ہے، اس لئے اختلاف ہونا قدرتی بات ہے، لہٰذا مقدار کے متعلق کئی قول ہیں، جن میں دو قول معتبر سمجھے گئے ہیں: (۱) ایک ذراع یعنی ایک ہاتھ کی مقدار بلندی ممنوع و مکروہ ہے، ا س سے کم مکروہ نہیں ہے، دلیل یہ ہے کہ سترہ کی بلندی کی مقدار کم از کم ایک ذراع (ہاتھ) مانی گئی ہے، اس پر قیاس کرکے جگہ کی بلندی بھی ایک ہاتھ ماننا چاہئے کہ بمقدار سترہ بلندی مکروہ ہے، اس سے کم مکروہ نہیں ہے۔ (۲) اتنی بلندی پر کھڑا ہونا مکروہ ہے کہ نمایاں طور پر امام مقتدیوں سے ممتاز وار الگ معلوم ہوتا ہو، دلیل یہ ہے کہ احادیث میں مطلق بلندی ممنوع ہے، لہٰذا جس صورت میں امام مقتدی سے بلندی میں ممتاز اور نمایاں طور پر جدا معلوم ہوتا ہو اتنی بلندی مکروہ اور ممنوع ہونی چاہئے اور جیسے جیسے یہ بلندی بڑھتی جائے گی کراہت میں زیادتی ہوتی جائے گی، صاحب بدائع وغیرہ فقہاء نے اسی قول کی تائید کی ہے اور اسے ظاہر روایت بتلایا ہے۔ (فتاویٰ رحیمیہ:۵/۱۲۹، مکتبہ دارالاشاعت، کراچی)