عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
جاسکتا ۱۱ ؎ اگر سلطان یا اس کا نائب عرفات میں حاضر نہ ہو ا اس لئے لوگوں نے آپس میں اتفاق کرکے کسی ایک شخص کو امامت کے لئے مقرر کر لیا تو اس صورت میں ضرورت کی وجہ سے نماز ظہر و عصر کو جمع کرنا جائز ہو جائے گا جیسا کہ جمعہ میں تعذراستیذان کے وقت کسی آدمی کو نماز جمعہ کے لئے امام بنانا جائز ہوجاتاہے ،کذا ذکرا لطرابلسی ۱؎ اگر امام کو ظہر کی نماز میں حدث ہو گیا اس نے کسی شخص کو خلیفہ بنادیا اور خود وضو کے لئے چلاگیا تو خلیفہ ظہر و عصر کی نماز پڑھائے یعنی اس کو دونوں نمازیں جمع کرنا جائز ہے کیونکہ وہ امام کاقائم مقام ہے اور وہ دونوں نمازیں ایک نماز کا حکم رکھتی ہیںپھر اگر امام وضو کرکے اس وقت آیا جبکہ اس کا خلیفہ عصر کی نماز سے فارغ ہو چکا تھا تو امام عصر کی نماز اس کے وقت میں پڑھے اس سے پہلے نہیں کیونکہ وہ اب امام نہیں رہا بلکہ منفرد ہوگیا اس لئے کہ جب اس نے دوسرے شخص کو خلیفہ بنادیا تو وہ بھی ایک مقتدی کی مانند ہو گیا اور مقتدی جب ظہر کی نماز امام کے ساتھ پڑھے اور عصر کی نماز امام کے ساتھ نہ پڑھے تو اس کو عصر کی نماز اس کے وقت میں پڑھنی چاہئے اس سے پہلے اس کے لئے جائز نہیں ۔اوراگر خطبہ پڑھنے کے بعد نماز شروع کرنے سے پہلے امام کو حدث ہوگیا اور اس نے کسی ایسے شخص کو خلیفہ بنایادیا جو خطبہ میں حاضر نہیں تھا تو جائز ہے اور وہ خلیفہ دونوں نمازوں کو جمع کرے خواہ وہ خلیفہ خطبہ کے وقت حاضر تھا یا نہیں دونوں صورتوں میں یکساں حکم ہے بخلاف نماز جمعہ کے ۲؎ (یعنی اگر نماز جمعہ میں خطبہ کے بعد امام کو حدث ہوا تو اس شخص کو خلیفہ بناناجائزنہیں جو خطبہ میں حاضر نہیں تھا ، مئولف ) اور اگر امام کو حدث ہو گیا اس نے کسی شخص کو اپنا خلیفہ نہیں بنایا، لوگوں میں سے کوئی شخص خود آگے بڑھ گیا اور خلیفہ بن گیا اور اس نے لوگوں کو دونوں نمازیں جمع کر کے پڑھا دیں تو امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک جائز